ورلڈ ہیڈر ایڈ

ایف اے ٹی ایف اجلاس کا پہلا دور ختم ، پاکستان نے دیئے 125 سوالات کے جواب

پاکستان اور ایف اے ٹی ایف کے درمیان مذاکرات ، پہلے روز کے مذاکرات ختم ہو گئے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کےایف اے ٹی ایف سے مذاکرات منگل کو بھی جاری رہیں گے ،ایف اے ٹی ایف کی 16رکنی ٹیم پاکستان سے مذاکرات کررہی ہے ،ایف اے ٹی ایف ٹیم کی قیادت امریکہ کی مس کرسٹین کررہی ہیں ،ایف اے ٹی ایف کی مذاکراتی ٹیم میں بھارت کے 5ارکان بھی شامل ہیں ،

ایف اے ٹی ایف کی ٹیم کے دیگر حکام میں برطانیہ اور چین ،جرمنی، فرانس اور جاپان کے نمائندے بھی شامل ہیں .

 

اجلاس13 ستمبر تک تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں جاری رہے گا۔

 

ذرائع کے مطابق پاکستان کے بلیک لسٹ میں شامل کرنے کاخطرہ ٹل چکا ہے، آج کے اجلاس میں پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 125 سوالات کے جواب دئیے جو ایف اے ٹی ایف نے ای میل کئے تھے،اجلاس میں بینکنگ، نان بینکنگ اور فنانشنل سیکٹر کی سپروائزری صلاحیت میں اضافہ کے حوالے سے سٹیٹ بینک کی رپورٹ بھی پیش کی جائے گی۔ اجلاس کے بعد ایف اے ٹی ایف پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ کرے گا۔

ایف اے ٹی ایف، گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے پاکستان نے کیا بڑا فیصلہ

قبل ازیں یف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو 125 سوالات بھجوائے گئے تھے ،ایف اے ٹی ایف نے یہ سوالات پاکستان کو چند دن پہلے بھیجے تھے ،ایف اے ٹی ایف کی جانب سے بھیجے گئے سوالات کالعدم تنظیموں سے متعلق ہیں ،سوالات کالعدم تنظیموں اور ان سے وابستہ لوگوں کے خلاف درج ایف آئی آرز سے متعلق ہیں

کالعدم تنظیموں کے تحویل میں لیے گئے اثاثوں کے بارے میں بھی سوالات پوچھے گئے ہیں ،پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو کمپلائنس رپورٹ 12 اگست کو ای میل کی تھی

قبل ازیں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کر لیا تھا تا ہم دوسری جانب ایف اے ٹی ایف نے ڈومور کا بھی کہہ دیا۔

ایف اے ٹی ایف کے مطابق کہ پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کا نیٹ ورک توڑنے کےلیے کئی اقدامات کیے ،پاکستان نے خامیاں دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے،پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت توڑنے پر کڑی نظر رکھنا ہو گی، غیر قانونی ٹرانزیکشنزکے خلاف اداروں کو آپس میں تعاون کرنا ہوگا،غیرقانونی ترسیل روکنے کےلیے رقم کی لین دین کرنےو الے اداروں پر کنٹرول کرنا ہوگا،

ایف اے ٹی ایف کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی میں نامزد افراد اور اداروں پر نظر رکھنا ہو گی،دہشت گردی میں نامزد افراد کے خلاف کارروائی کا نظام موثر بنانا ہو گا ،پاکستان اکتوبر 2019 تک اپنا ایکشن پلان مکمل کرے،ایکشن پلان پرمقررہ وقت میں عمل نہ ہونے پرایف اے ٹی ایف اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.