فواد چوہدری نے حکومتی غلطی تسلیم کرلی ، حکومت کو شرمندگی کا سامنا

0
24

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن کے بارے میں اپنی گلوبل 2020 کی رپورٹ میں جو اعداد و شمار استعمال کیے وہ ن لیگ کی حکومت کے دور کے ہیں لیکن ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں ان دعوؤں کی نفی کی گئی ہے۔اس برس پاکستان کی عالمی کرپشن کی درجہ بندی میں نمبر 120سے بڑھ کر 124ہو گیا ہے اور 100نمبروں میں اس کے نمبر پچھلے برس کے 32نمبروں سے کم ہو کر 31رہ گئے ہیں۔ یہاں تک کہ افغانستان میں بھی کچھ بہتری آئی ہے، لیکن ہمارے نظام کا انحطاط جاری ہے۔

28 جنوری کو وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل کی 2019 کی رپورٹ کا ڈیٹا پیش کرتے ہوئے ماضی میں ن لیگ حکومت کو کرپشن اسکور میں کمی کا ذمہ دار قرار دیا اور عوام کو گمراہ کیا۔

اپوزیشن کی کمزور انگریزی پر طنز کے وار کرتے ہوئے شہباز گل نے کہا کہ اپوزیشن کو اس وقت سمجھ آئے گی جب رپورٹ کا اردو میں ترجمہ کیا جائے گا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان، مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان اور دیگر حکومتی نمائندوں نے بھی اس ہی مؤقف کو دہرایا۔ڈاکٹر شہباز گل نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جانتے بوجھتے 2019 کی رپورٹ کے بارے میں ٹوئٹ کیا لیکن ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، یہی نہیں شہباز گل نے مخالفین کو ‘لفافے’ اور ‘لفافیوں’ کے نام سے پکارا۔

29 جنوری کو جب یہ بات واضح ہو گئی کہ اعداد و شمار تحریک انصاف کے دور حکومت کے ہی ہیں تو وزیراعظم نے یوٹرن لے لیا اور کہا کہ انہوں نے تو رپورٹ پڑھی ہی نہیں۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن کے تاثر سے متعلق رپورٹ پر تحریک انصاف کا یوٹرن پے یوٹرن، حکومتی وزراء کی جانب سے پے درپے متضاد بیانات کی گردان سنائی گئی، پہلے غلط دعوے کیے، پھر غلطی تسلیم کرنے سے انکار کیا لیکن بالآخر ماننا ہی پڑا۔

31 جنوری کو آخر کار حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ایک ٹی وی پروگرام میں تسلیم کر لیا کہ ڈاکٹر شہباز گل نے ردعمل دینے میں جلد بازی سے کام لیا، دانستہ یا غیر دانستہ غلط رپورٹ شیئر کی اور ان پر انحصار کرنے والے دیگر حکومتی نمائندوں اور وزراء کو گمراہ کیا۔

اب تحریک انصاف کے ترجمانوں کی فوج ظفر موج منہ چھپائے تو کیسے؟ وزیراعظم نے تو رپورٹ پڑھے بغیر ہی وضاحت کردی کہ 2020ء کی رپورٹ کے اعداد و شمار شریف حکومت کے سال 2018ء کے ہیں اور ان کے نابغے مجال ہے کہ شرمسار ہوں۔ ایک نے تو اپوزیشن کو رپورٹ کا اردو ترجمہ فراہم کرنے کی چرکی چھوڑ دی۔

Leave a reply