بچوں کیلئےفارمولا ملک پربھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیئے،ماہرین صحت

فارمولا ملک میں موجود مٹھاس صحت کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتی۔
0
67
milk

ماہرین صحت نے بچوں کے لیے مصنوعی دودھ پربھاری ٹیکس لگانے کا مطالبہ کردیا۔

باغی ٹی وی: وفاقی وزارت صحت کی جانب سے اراکین پارلیمنٹ کے لیے آگاہی سیشن رکھا گیا جس میں صرف ایک سینیٹر سحر کامران نے شرکت کی آگاہی سیشن کے دوران ماہر امراض اطفال اورپاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کےرہنما پروفیسرجمال رضا نےکہا کہ پاکستان میں بچوں کے مصنوعی دودھ کی قیمت اور معیار کو جانچنے کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہےکہ فارمولا دودھ کی درآمد پرپابندی لگائی جائے، پاکستان بچوں کے مصنوعی دودھ کی درآمد پر 40 کروڑ ڈالر خرچ کرتا ہے۔

ذکا اشرف کا ہائرڈ ماڈٌل پر تبصرہ،اے سی سی کا ردعمل سامنے آگیا

ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹربصیر اچکزئی کا کہنا تھا کہ قرآن میں ماؤں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو 2 سال تک دودھ پلائیں جبکہ سینیٹر سحرکامران کا کہنا تھا کہ سگریٹ کی طرح فارمولا ملک پر بھی بھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیے، پاکستان میں عوامی مقامات پر دودھ پلانے والی ماؤں کا مذاق اڑایا جاتا ہے، بچوں کے مصنوعی دودھ سے متعلق سخت قوانین بنانےکی ضرورت ہے۔

کیا ڈبے کا دودھ بچوں کے لیے صحت بخش ہے؟

2018 میں کی گئی ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ڈبے کا دودھ بچوں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا،نیویارک یونیورسٹی اورکنیکٹیکٹ یونیو ر سٹی کے محققین نے والدین کو انتباہ کیا تھا کہ فارمولا ملک یا ڈبے والا دودھ بچوں کو پلانے سے گریز کریں کیونکہ ان میں موجود مٹھاس صحت کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتی۔

فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل، سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا ،جسٹس فائز عیسی …

اس تحقیق کے دوران حکام کو مشورہ دیا گیا تھا کہ کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کے ڈبوں پر لگے لیبل میں واضح لکھنا چاہیے کہ یہ ایف ڈی اے (امریکی محکمہ صحت) کا تجویز کردہ نہیں اور اس میں غیر صحت بخش اجزاء ہو سکتے ہیں،بچوں کے اس طرح کے مشروبات غیر ضر وری اور صحت بخش کے اثرات کو زائل کرسکتے ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا کہ ایسی پالیسیاں بنائی جانی چاہیے جن سے واضح ہوسکے کہ بچوں کے ایسے مشروبات کیا ہوتے ہیں اور کیونکہ ان کا مشورہ نہیں دیا جاسکتا محققین نے دریافت کیا کہ بچوں کے لیے دو قسم کے مشروبات یا دودھ ہوتے ہیں ایک وہ فارمولا ملک، جو 9 ماہ سے 2 سال کے بچوں کو اس وقت دیئے جاتے ہیں، جب ماں کا دودھ چھڑایا جاتا ہے دوسرا ایک سال سے 3 سال کی عمر کے بچوں کے لیے تیار کیے جانے والا دودھ۔

قطر سے ایل این جی کارگو پاکستان پہنچ گئے

محققین کا کہنا تھا کہ ایسے بیشتر مشروبات بنیادی طور پر پاﺅڈر ملک ، کورن سرپ، ویجیٹیبل آئل اور ایڈڈ مٹھاس پر مشتمل ہوتے ہیں جبکہ ان میں نمک کی مقدار زیادہ اور پروٹین کی سطح گائے کے دودھ کے مقابلے میں کم ہوتی ہےتمام کمپنیاں ان مشروبات کو بچوں کی نشوونما اور غذائی ضروریات کے لیے فائدہ مند قرار دیتی ہیں۔

مگر عالمی ادارہ صحت مشورہ دے چکا ہے کہ ایک سال کی عمر سے بچوں کو فارمولا ملک کی بجائے گائے کا دودھ صحت بخش غذاﺅں کے امتزاج کے ساتھ دیا جانا چاہیے بچوں کے مشروبات غیرضروری اور غیرموزوں ہوتے ہیں جبکہ گائے کے دودھ اور تازہ خوراک کے مقابلے میں فائدہ مند بھی نہیں ہوتے۔

لیہ اراضی سکینڈل،عمران خان آج پیش نہ ہوئے تو ہو گی کاروائی

Leave a reply