ایف سی کالج سے میری چھٹی کے پیچھے خلائی مخلوق نہیں اور لوگ ہیں ، پرویز ہود

0
42

ایف سی کالج سے میری چھٹی کے پیچھے خلائی مخلوق نہیں اور لوگ ہیں ، پرویز ہود

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پرویز ہود نے کہا ہے کہ بہت سی غلط باتیں گردش کر رہی ہیں آپ کا کنٹریکٹ ایک سال کے لئے ہے، اس کے پیچھے باہر کا کوئی دباؤ نہیں ہے،کہا گیا کہ اسکے پیچھے ایجنسیاں تھی، وہ ایجنسیاں جنہوں نے پی ٹی ایم کا گلا دبوچا، ڈاؤن سائزنگ شروع ہوئی اور مجھے برطرفی کا پتہ چلا،

لکھا ہوا تھا کہ آپ کے کنٹریکٹ میں توسیع نہیں ہو سکتی، میں تھوڑا سا حیران ہوا، کنٹریکٹ 3 سال کا بھی ہوتا تھا، میں نے انتظامیہ پوچھا ،ہم بوڑھے لوگوں کو یہاں سے نکال رہے ہیں،ستر سال سے پتہ تھا ایسا کیوں ہوا، جب میں نے لکھا کہ میں کمیٹی کے سامنے کھڑا ہونا چاہتا ہوں مجھے صفائی پیش کرنی ہے، کمیٹی کی نظر میں مجھے کہیں کھڑا نہیں ہونے دیا گیا،

مجھے جس کنٹریکٹ پر رکھا گیا اسے زیادہ کورسز پڑھا رہا تھا، ایکسٹرا کلاسز لیتا تھا،جب میں نے لکھا کہ کمیٹی کے سامنے موقع دیا جائے تو انہوں نے کہا کہ آپ کی عمر 65 سال سے تجاوز کر گئی ہے لہذا یہاں آپ کے کوئی حقوق باقی نہیں ہے، اور ساتھ ہی میں نے اعلان کیا ہے کہ آن لائن لرننگ شروع کر رہے ہیں تو خؤشی سے کریں، میں نے فورا ایک ای میل ڈالی کہ یونیورسٹی اس کالج کے تعلیمی معیار کو بہتر کرے، ہر کالج میں ایسا ہو رہا ہے، وہاں تو کوشش بھی نہیں ہوئی،جب میں قائداعظم یونیورسٹی میں چیئرمین تھا تو کلاس جا کر بیٹھ جاتا اور تصحیح کرتا کہ بچوں کو پڑھانے کے لئے لرننگ نظام بنائے جائیں، آن لائن پروگرام شروع کریں ایف سی کالج میں جہاں ہر ایک تک کی رسائی ہو سکی

https://web.facebook.com/Hoodbhoyist/videos/vb.220272828084911/2915448651914601/?type=2&theater

اس کالج کے تعلیمی بہتر کرنے کا سلسلہ شروع ہوا طلبا نے رابطہ کیا کہ کہ جو مواد دیا جا رہا ہے وہ کلاس کی سمجھ میں ہی نہیں آ رہا،میں نے کہا کہ آپ ایک ایسا ذخیرہ قائم کریں ٹیچر کے لئے تا کہ وہ آسانی سے پڑھا سکیں، چالیس سال پہلے ہاتھ کے لکھے نوٹس تھے، سٹوڈنٹس نے رابطہ کیا کہ کیا ہم یہ آپ کو بھیج سکتے ہیں،میں نے کہا نمونہ بھیجو کہ میں بھی دیکھوں ، پاکستان کی یونیورسٹیوں، کالجوں میں کیا پڑھایا جا رہا ہے،ایک نظر دیکھنا چاہئے، ٹیکنالوجی بہت بڑا تحفہ ہے، میں نے کہا کہ میرے پاس جو مواد پہنچا ہے ایسے نوٹس ہیں جو ہاتھ سے لکھے ہوئے تھے جس میں 1976 کی تاریخ لکھی ہوئی تھی،

میری چھٹی کے پیچھے خلائی مخلوق نہیں بلکہ چھوٹے موٹے لوگ ہیں اور یہ لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں،پی آئی اے کو دیکھ لیں ، ہم ہر جگہ چیٹنگ کرتے ہیں، قابلیت کو دیکھ نہیں دیتے، دوستی یاری میں کام ہوتے ہیں، بس اتنی سی بات ہے ،میرا تو کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا، میرے پاس سو کام اور ہیں کروں گا، میں نے کیوں بولا اور اب بھی بولوں گا، بولتا رہوں گا لیکن وہ جو اسسٹنٹ پروفیسر تھا انکے منہ کے اوپر انہوں نے پٹی باندھی ہوئی ہے صرف ایف سی کالج میں نہیں پورے پاکستان میں اٹھ کھڑے ہوں

Leave a reply