گاڑیاں چھیننے میں ملوث 16 گریڈ کا سرکاری افسر والدین سمیت گرفتار

0
41

شہر قائد میں جرائم کی شرح میں دن بدن اضافہ دیکھنے میں آتا ہے ، کراچی کے کئی علاقوں میں گاڑیاں چھینے جانے اور چوری ہونے کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ شہر قائد میں گاڑیاں چوری اور چھیننے کی انہی شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل نے کار لفٹر فیملی کو حراست میں لے لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی اے وی ایل سی عارف راؤ نے میڈیا ذرائع کو بتایا کہ کار لفٹر فیملی کو حراست میں لیا گیا جس میں مرکزی ملزم ،اُس کی والدہ اور سوتیلا باپ شامل ہیں۔
گاڑیاں چھیننے والا ملزم محکمہ اسپورٹس میں 16 گریڈ کا ملازم ہے۔ملزم کے ہمراہ اس کی والدہ اور سوتیلا باپ بھی گرفتار کرلیا گیا۔ اس حوالے سے ایس ایس پی عارف راؤ نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ جرائم پیشہ فیملی سے 9 قیمتی گاڑیاں اور اسلحہ برآمد کیا گیا جب کہ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔
ایس ایس پی اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل نے کہا کہ ملزم شہاب کی والدہ مختلف علاقوں سے گاڑیاں کرائے پر حاصل کرتی اور گاڑی کو ڈرائیور سمیت ناظم آباد میں ایک نمبر تک لایا جاتا۔

ایس ایس پی عارف راؤ کا کہنا تھا کہ ملزمان ناظم آباد 1 نمبر پہنچ کر اسلحہ نکالتے اور گاڑی چھین کر لے جاتے، بعدازاں کمپیوٹر سے ایڈٹ کرکے رجسٹریشن نمبر تبدیل کردیتے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان سے ابتدائی تفتیش میں شہر قائد سے چھینی ہوئی کاریں بلوچستان میں فروخت کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ملزم نے بتایا کرائے کی گاڑی بکنگ کرواتے تھے اور پھر چھین لیتے تھے۔
لزم شہاب نے اپنے بیان میں بتایا کہ محکمہ اسپورٹس کاملازم ہوں، 2، 3 ماہ سے گاڑیاں چھین رہےہیں، کرائے کی گاڑی بکنگ کراتے تھے اور پھر چھین لیتے تھے۔ ملزم کا کہنا تھا کہ 3 ماہ قبل پہلی گاڑی چھینی، وارداتوں میں سوتیلابھائی صمدبھی ساتھ ہوتا ہے ، ہمارے پاس دونوں پستولیں لائسنس یافتہ ہیں، گاڑیاں کوئٹہ میں ایک ہی بندے کوفروخت کرتے تھے۔
ڈی آئی او اے وی ایل سی چوہدری جاوید نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کوناکہ بندی کرکےگرفتارکیا، ملزمان شادی کابہانہ کرکے گاڑیاں کرائے پرلیتے تھے، ملزمان کرائے پر گاڑی لیکر نکلتے اور راستے سے دیگرساتھی سوار ہوجاتے تھے۔ ڈی آئی او چوہدری جاوید کا کہنا تھا کہ ملزمان ناظم آباد گاڑیاں لاکر چھینتے اور فرار ہوجاتے تھے ، یہ ملزمان خاتون کی مددسےگاڑیاں بک کراتےتھے، یہ اب تک 8سےزائدگاڑیاں چھین چکے ہیں .

Leave a reply