عمران خان کی اک غلطی کی سزا قوم بھگت رہی، تجزیہ: شہزاد قریشی

0
136
qureshi

بلا شبہ عمران خان ایک مقبول سیاسی جماعت کے سربراہ اور عوام میں مقبول ہیں لیکن کیا ان کے دور حکومت میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی تھیں؟ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ان سے ایسے فیصلے کروائے گئے یا انہوں نے خود کئے جس کا خمیازہ آج پاکستان بطور ریاست بھگت رہی ہے،نائن 11 کے بعد جو کچھ پاکستان میں ہوا ایک عالم گواہ ہے پھر نواز شریف کا دور حکومت آیا ، پاک فوج اور جملہ اداروں نے ضرب عضب کےنام سے آپریشن کا آغاز کیا ،ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہوا اس آپریشن میں پاک فوج، پولیس اور دیگر اداروں نے حصہ لیا،کالعدم تحریک طالبان نے پاکستان کو جانی و مالی نقصان پہنچایا، پاکستان کو قیمتی جانوں کے ساتھ اربوں ڈالر کا نقصان ہوا،پھر عمران خان کا دور حکومت وجود میں آیا تو انہوں نے اسی ٹی ٹی پی سے معاہدہ کیا اور ان کو پاکستان واپس آنے کی دعوت دی کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے یہ عمران خان کی بہت ہی بڑی غلطی تھی اس ایک غلطی کی سزا آج پاکستان اور قوم بھگت رہی ہے، ٹی ٹی پی نے دوبارہ حملے شروع کردیئے فوج اور پولیس نہ جانے کتنے ہی جوان آج تک شہید ہورہے ہیں، بالآخر فوج نے تنگ آکر افغانستان نہیں بلکہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے کمانڈروں کو نشانہ بنایا تھا،

سمجھ سے بالاتر ہے ایک اسلام کی دعویدار حکومت اپنے ملک میں دہشت گردوں کو پناہ کیوں دے رہی ہے اور ایک ہمسایہ اسلامی ملک میں مسلمانوں کو ہی شہید کیوں کروارہی ہے، یہ افغانستان حکومت سے ایک سوال ہے ، آخر دہشت گردوں کو افغانستان ہی کیوں پناہ دیتا ہے؟ اس وقت پاکستان کی مضبوط معیشت سب سے اہم ضرورت ہے فوج اور دیگر اداروں میں جذبہ ایمانی موجود ہے شہادت کی آرزو بھی ہے فوج وہ کامیاب ہوتی ہے جسے اس کے عوام اور سیاستدانوں کا اعتماد حاصل ہوتا ہے، ہمارے حالات یہ ہیں عوام تو ہر حال میں فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں لیکن ہمارے کم عقل سیاستدان اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پیدا کی گئی خرابیوں کا ذمہ دار فوج کو ٹھہرانے کی کوشش کررہے ہیں، آج کل سوتنوں کی طرح تو طعنے دیئے جارہے ہیں، پاک فوج کےنیچے سے زمین کھینچنے کی کوشش کررہے ہیں، نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے گمراہ کیا جارہا ہے یاد رکھیے فوج اور جملہ ادارے سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہیں جبکہ شہروں میں پولیس ڈاکوئوں‘ اجرتی قاتلوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کو نکیل ڈالنے پر مامور ہے جمہوریت کے علمبردار جمہوری تقاضے پورے کریں۔

Leave a reply