غذائیں اور مشروبات جو گرمی میں راحت پہنچاتے ہیں

بے تحاشہ میٹھے مشروبات یا کولڈ ڈرنکس پینا صحت کے لیے اچھا نہیں ہے
0
36
diet

گرمیوں میں موزوں غذاؤں کا انتخاب کر کے ہم جسم کو پانی کی کمی سے محفوظ، ہلکا پھلکا، ٹھنڈا اور قوت بخش رکھ سکتے ہیں

زیادہ پانی کا استعمال اچھا ہے مگر یہ تسلی ضرور کرلیں کہ کیا آپ موزوں مشروبات ہی حلق میں انڈیل رہے ہیں

لسی: یہ گرمی میں سب سے بہترین مشروب سمجھا جاتا ہے میٹھی یا نمکین لسی دونوں ہی جسم کو پرسکون رکھتی ہیں

جسم میں پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے تربوز بہترین پھل ہے اس پھلے میں قدرتی طور پر 90 فیصد پانی پایا جاتا ہے

بے انتہا گرمی نہ صرف پریشانی کا سبب بنتی ہے ایسے میں ہر کوئی متعدد بیماریوں اور پیٹ سے جڑی شکایتوں میں گھِرا نظر آتا ہے، گرمیوں میں موزوں غذاؤں کا انتخاب کر کے ہم جسم کو پانی کی کمی سے محفوظ، ہلکا پھلکا، ٹھنڈا اور قوت بخش رکھ سکتے ہیں طبی ماہرین کے مطابق موسم گرما کے آتے ہی سب سے پہلے ہر عمر کے فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ پانی کے استعمال کی مقدار بڑ ھا دے، اس کے علاوہ سادہ اور گھر میں بنے کھانوں، موسمی اور ٹھنڈی تاثیر والی سبزیوں کا استعمال اپنی غذا میں ضرور شامل کرنا چاہیے، سبزیاں نہ صرف انسانی مجموعی صحت کے لیے مفید ہیں بلکہ گرمی کی شدت اور لو سے بھی بچاتی ہیں۔

قربانی کا گوشت کتنے عرصے تک فریز کر سکتے ہیں؟

گھر سے باہر نکلنے والے افراد کے لیے جھلستی گرمی کا مقابلہ کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا اس موسم میں جسم میں آسانی سے پانی کی کمی ہوسکتی ہے گرمیوں میں ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے جسم میں پانی کی مقدار کا برقرار رہنا بھی نہایت ضروری ہے، سال کے گرم مہینوں کے آتے ہی تیز دھوپ، تپتی دوپہر، گرمی اور لو کی وجہ سے جسم کے درجہ حرارت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں جسم میں پانی کی کمی کے سبب دیگر مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ پانی کا استعمال اچھا ہے مگر یہ تسلی ضرور کرلیں کہ کیا آپ موزوں مشروبات ہی حلق میں انڈیل رہے ہیں یا نہیں بے تحاشہ میٹھے مشروبات یا کولڈ ڈرنکس پینا صحت کے لیے اچھا نہیں ہے بھلے ہی آپ کو ان کی طلب ہو رہی ہو-

کھانا پکانے کے دوران کی جانیوالی 7 معمولی غلطیاں جو صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ …

سادہ پانی: طبی ماہرین کے مطابق جسم میں نمکیات اور پانی کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ہر انسان کو خواہ بچہ ہو یا بوڑھا، مرد ہو یا عورت گرمیوں کے آغاز سے ہی سادہ پانی کا استعمال بڑھا دینا چاہیے، اس دوران زیادہ میٹھے اور پروسیسڈ، ڈبے کے مشروبات سے پرہیز کریں۔

ہم وزن املی اور خشک آلو بخارے کو رات بھر پانی میں بھگوئے رکھیں ، صبح گودا نچوڑ کر گٹھلیاں الگ کر لیں ۔ کڑاہی میں یہ پانی اور گودا ڈالیں اورحسب پسند چینی ڈال کر پکا لیں۔ پھر اس محلول کو چھان لیں۔ جگ میں حسب ضرورت شربت ، پانی اور برف ڈالیں، آپ کا فرحت بخش مشروب تیار ہے۔

دہی یا دودھ سے بنی لسی: یہ گرمی میں سب سے بہترین مشروب سمجھا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کئی کمپنیوں نے گرمیوں میں لسی متعارف کروادی ہے۔ میٹھی یا نمکین لسی دونوں ہی جسم کو پرسکون رکھتی ہیں لیکن یاد رہے کہ رات کے وقت میٹھی لسی سے اجتناب کرنا چاہیے –

شربت بادام: یہ پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ غذائی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے۔ اسے بنانا بھی نہایت آسان ہے۔ دودھ میں حسب پسند بھیگے اور چھلے ہوئے بادام ،چٹکی بھرزعفران، سبز الائچی کے دانے اور حسب زائقہ چینی ڈال کر گرائینڈ کرلیں۔ مزیدار شربت تیار ہے۔

پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

تربوز: موسم گرما میں جسم میں پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے تربوز بہترین پھل ہے اس پھلے میں قدرتی طور پر 90فیصد پانی پایا جاتا ہے اور اس کے استعمال سے ہمارا جسم پانی کی کمی کا شکار نہیں ہوتا اور ساتھ ہی ہمیں گرمی کا احصاس بھی کم ہوتا ہے تربوز کے شربت کا ایک گلاس آپ کو فوری توانائی فراہم کرتا ہے۔ تربوز کاٹ کر بیج الگ کر لیں ۔ گرائنڈر میں تربوز کے ٹکڑے، تھوڑی چینی، حسب پسند نمک، لیموں کا رس اور تھوڑا سا پانی ڈال کر گرائنڈ کرلیں۔ مزیدار تربوز شربت تیار ہے۔

کیلے کاشیک: یہ پوٹاشیئم سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ایک کیلا زیادہ پسینے کے اخراج سے آپ کے جسم میں ہونے والی پانی کی کمی کو بحال کرنے میں مدد کر سکتا ہےجبکہ جسم کو طاقت دینے کے لیے کیلے کا شیک بہترین ہے یہ آپ کی توانائی بحال رکھتا ہے۔ بنانا شیک میں بھرپور وٹامنز،منرلزاور ضروری چکنائی پائی جاتی ہے۔ دودھ اور کیلے کا یہ مکسچر سستی بھگانے کے ساتھ ساتھ جسم کی کھوئی ہوئی توانائی بحال کرتا ہے۔

آم: کچی کیری سے بننے والا مشروب قطعی طور پر فرحت بخش ہوتا ہے اور ہیٹ اسٹروک سے محفوظ رکھتا ہے۔ جیسے جیسے گرمیوں کا موسم گزرتا جائے گا ویسے ویسے زرد پیلے آم مارکیٹ میں نظر آنے لگ جائیں گے اور آپ ان کی بھرپور مٹھاس اور قوت بخش ملک شیکس کے لیے خود کو چھوٹ دے سکتے ہیں۔

ہفتے میں پانچ انڈے کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی اور دل کو فائدہ ہو …

لیموں: علاوہ ازیں گرمی میں لیموں کی سکنجین سب سے اہم چیز ہے تازہ لیموں پانی بھی تازگی اور وٹامن سی سے بھرپور، اور صحت کے لیے مفید ہے اور آپ کو چاہیے کہ اپنی پیاس بجھانے کے لئے اس مشروب کا استعمال کریں، گرمی کے توڑ کے ساتھ ساتھ جسم میں وٹامن سی کی مقدار بھی مناسب رہے۔

ناریل کا پانی: اس کی سادہ مٹھاس، الیکٹرولائیٹس اورضروری معدنیات جسم میں پانی کی مناسب مقدارقائم رکھتے ہیں اس بات کے بھی ثبوت موجود ہیں کہ ناریل پانی میں کینسر کے خلاف لڑنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی عمر کے آثار روکنے کی خصوصیات بھی موجود ہوتی ہیں۔ اس کے اندر موجود گودے کو مزے لے کر کھائیں اور اس میں موجود وٹامنز، منرلز اور پوٹاشیم کی دعوت اڑائیں۔

خربوزہ بھی گرمیوں کا ایک لذیذ پھل ہے جس میں 90 فی صد پانی موجود ہوتا ہے۔ یہ پودوں سے حاصل ہونے والی معدنیات، وٹامن اے اور زی زینتھن (جو کہ ایک اہم غذائی عنصر ہے) سے بھرپور ہوتا ہے۔ وٹامن اے اور زی زینتھن بینائی کے لیے زبردست ہوتے ہیں۔

کولڈ کافی: اگر آپ کو اپنا دن شروع کرنے کے لیے بہت زیادہ کیفین کی ضرورت ہوتی ہے تو آپ صبح کی کڑک کافی کی جگہ کولڈ کافی استعمال کرسکتے ہیں۔ کولڈ کافی سے جلد کے کینسر کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے جس کا شکار آپ اس جھلسا دینے والی گرمی میں ہوسکتے ہیں۔

اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

سبز چائے: زیادہ چائے پینے کے بجائے سبز چائے کا استعمال کریں جو کہ ایک صحت بخش اور ہلکا پھلکا انتخاب ہے۔ اس کے ساتھ چائے ہی کی طرح آپ کو متحرک بنانے کی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ آئس ٹی بھی ایک اچھا انتخاب ہو سکتا ہے۔

کھیرے: اس قدرتی سبزی میں بھی پانی کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں ان کا استعمال بڑھا دینا چاہیے۔آپ کو چاہیے کہ انہیں دہی یا لیموں کے ساتھ کھائیں کھیرے میں 96.4 فی صد پانی ہونے کی وجہ سے اس میں بے تحاشہ ٹھنڈک پہنچانے، پانی کی مقدار کو دوبارہ بحال کرنے اور زہریلے مادوں کے جسم سے اخراج کی خصوصیات موجود ہیں یہ فائبر سے بھی بھر پور ہوتے ہیں جو کہ قبض ختم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان میں وٹامن اے، بی 1، بی 6، سی اور ڈی، کیلشیم، پوٹاشیم اور فولیٹ شامل ہوتا ہے۔

پودینہ: جب بھی سلاد بنائیں پودینے کا استعمال کریں کہ اس طرح نہ صرف آپ کا کھانا خوشبودار ہوگا بلکہ یہ معدے کو بھی ٹھنڈا رکھتے ہوئے جسم کو پرسکون رکھے گا، یہ آپ کے جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد نہیں کرتا مگر پھر بھی یہ بہت فرحت بخش ہوتا ہے۔

کیا عقل داڑھ کا عقل سے کوئی تعلق ہے؟اور یہ اتنی تاخیر سےکیوں نکلتی ہیں

پیاز: دوپہر کو سلاد میں کھیرے اور پیاز کا استعمال کریں ۔پیاز میں یہ خاصیت موجود ہے کہ اسے بطور سلاد کھانے سے جسم کو نمکیات کی مطلوبہ مقدار میسر رہتی ہے،لال پیاز خصوصی طور پر ہلوطین سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ ایک قدرتی الرجی شکن ہے اور اینٹی ہسٹا مائین کے طور پر کام کرتا ہے ہسٹامائین تکلیف دہ عنصر ہوتا ہے جس کی وجہ سے گرمی کے زخم اور کیڑے مکوڑوں کے کاٹنے یا ڈنک مارنے سے شدید ردِعمل ہوتے ہیں۔ اس لیے روز پیاز کھانا گرمیوں کی شکایتوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ٹماٹر: یہ ایک پھل ہے مگر سلاد کا ایک اہم حصہ ہے۔ ٹماٹر ایک قدرتی سن اسکرین کی طرح ہیں جو دھوپ میں رنگت خراب ہونے سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، اس کے استعمال سے رنگت تیزی سے نکھرتی ہے جو دھوپ کے سبب خراب ہونے والی رنگت کو نکھارتا ہے اور متاثرہ جھلسی ہوئے جِلد کو صحت مند بناتا ہے۔

غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

Leave a reply