برلن: ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہر ہفتے فی شخص کھائے جانے والے دو برگر میں استعمال کیے جانے والے بیف کے برابر گوشت کی کھپت میں کمی سے موسمیاتی بحران کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

باغی ٹی وی :اسٹیٹ آف کلائمیٹ ایکشن 2022 کی رپورٹ میں 40 اشاروں پر عالمی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا جو 2030 تک عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو نصف کرنے کے لیے کلیدی ہوں گے-

انٹارکٹیک میں برف کے نیچے بہنے والا طویل پُر اسرار دریا دریافت

200 صفحات پر مشتمل ہی میں شائع کی گئی اسٹیٹ آف کلائمیٹ ایکشن 2022 رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ پیرس معاہدے میں طےکیے گئے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے انسانیت کو کتنا کام درکار ہے-

انسانوں کی جانب سے ’کونسے کام کیے جانے چاہیئں‘ کی فہرست میں رپورٹ نے گوشت خور افراد سے گلوبل وارمنگ کم کرنے کے لیے اپنا حصہ ڈالنے کی درخواست کی ہے۔

ان تمام خطوں میں جہاں گوشت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے 2030 تک گوشت کی روزانہ کھپت کو 79 کلو کیلوریز تک اور 2050 تک 60 کلو کیلوریز تک محدود کرنے کی ضرورت ہوگی۔ یہ مقدار ہر ہفتے دو بیف برگر کھانے ک برابر ہے۔

عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا تو دنیا پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوں گے. اقوام…

لیکن یہ صرف ایک عمل ہے جو پیرس معاہدے میں طے کیے جانے والے مقصد یعنی عالمی درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس تک محدود کرنے میں مدد کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق دیگر کاموں میں پبلک ٹرانسپورٹ کو چھ گُنا تیز کرنا، جنگلات کے کاٹے جانے کی سالانہ شرح میں کمی لانے میں 2.5 گُنا تیزی لانا اور کوئلے کا بطور بجلی کی پیداوار کے ذریعے کے استعمال میں تیزی سے کمی شامل ہیں صحت مند غذا پر منتقلی کی شرح موجودہ شرح سے پانچ گُنا زیادہ تیز کرنے ہوگی۔

سیمنٹ اور سٹیل جیسی بھاری صنعتیں اپنے اخراج کو کم کرنے میں تیزی سے آگے نہیں بڑھ رہی ہیں، اور قابل تجدید توانائی اور برقی گاڑیوں کو اپنانے کی تیز رفتار ترقی کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔

برطانیہ میں موسم سرما کا آغاز گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے

سب سے زیادہ تشویش گیس کا استعمال تھے، جو ایک ایسے وقت میں تیزی سے بڑھ رہی ہے جب اسے قابل تجدید توانائی کے حق میں کم کیا جانا چاہیے۔ سٹیل سازی، جہاں اخراج میں کمی کی ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنایا نہیں جا رہا ہے مسافر گاڑیوں میں سفر، مینگرو کے جنگلات کے نقصان کی شرح؛ اور زراعت سے اخراج۔

رپورٹ کے ذمہ دار اداروں میں سے ایک ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ کی چیف ایگزیکٹیو انی داس گپتا نے اس سال دنیا بھر میں دیکھے جانے والے شدید موسم کی طرف اشارہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا نے تباہی کو صرف 1.1C درجہ حرارت سے دیکھا ہے۔ لوگوں اور کرہ ارض کی حفاظت کی لڑائی میں ڈگری کا ہر حصہ اہمیت رکھتا ہے۔ ہم موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں اہم پیشرفت دیکھ رہے ہیں لیکن ہم اب بھی کسی بھی شعبے میں جیت نہیں رہے ہیں-

شہد کی مکھیاں اور دیگر اڑنےو الے کیڑے برساتی بادل سے زیادہ بجلی پیدا کرسکتی…

Shares: