fbpx

حکومت کا سرکاری ملازمین کو 3 اقسام کا اعزازیہ دینے کا فیصلہ

اسلام آباد:حکومت کا سرکاری ملازمین کو 3 اقسام کا اعزازیہ دینے کا فیصلہ،اطلاعات ہیں کہ اس سلسلے میں کارکردگی کی بنیاد پر 2 ماہ تک کی بنیادی تنخواہیں اضافی ملیں گی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اتحادی حکومت نے سرکاری ملازمین کو خوشخبری سنائی ہے حکومت نے وفاقی ملازمین کو تنخواہ کے برابر خصوصی معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے یہ معاوضہ دس جون کو پیش ہونے والے وفاقی بجٹ تیار کرنے والے ملازمین کو دیا جائے گا۔ نجی ٹی وی کو دستیاب دستاویزات کے مطابق وفاقی سرکاری ملازمین کو اضافی دیا جانے والا معاوضہ انکی ایک ماہانہ تنخواہ کے برابر ہو گا۔ علاوہ ازیں وفاقی حکومت کی جانب سے ملازمین کو ملنے والے خصوصی ٹاسک بخوبی سرانجام دینے پر بھی اضافی معاوضہ ملے گا وہ بھی ایک تنخواہ کے برابر ہی ہو گا۔

بجٹ تیار کرنے والے ملازمین میں سے وزیراعظم کے دفتر۔وزارت خزانہ ریونیو ایف بی آر اور وزارت منصوبہ بندی کو ایک تنخواہ کے برابر ادائیگی کی جائے گی
واضح رہے کہ ہر سال وفاقی حکومت بجٹ پاس ہونے کے بعد بجٹ کی تیاری میں مدد کرنے والے وفاقی ملازمین کو ایک ماہ کی اضافی تنخواہ دیتی ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت میں بھی بجٹ پاس ہونے کے بعد ملازمین کو اضافی تنخواہ دی جاتی رہی ہے ۔تحریک انصاف کے دور میں قومی اسمبلی کے ملازمین کو بھی بجٹ پاس ہونے کے بعد اضافی تنخواہ ملتی رہی ہے تا ہم اس بار اتحادی حکومت نے ابھی تک قومی اسمبلی ملازمین کا نام شامل نہیں کیا۔ ممکنہ طور پر بجٹ پاس ہونے کے بعد اسمبلی ملازمین کو بھی اضافی معاوضہ دیا جا سکتا یے

دوسری طرف اس سلسلے میں وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ جون کے مہینے میں لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں بتدریج کمی کی جائے گی۔مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بجلی کی طلب 28400 میگاواٹ ہے جبکہ دستیاب بجلی 25600 میگاواٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی طلب اور رسد میں 4600 میگاواٹ کا فرق ہے۔

مریم اورنگزیب نے بتایا کہ ورکنگ گروپ نے غور و خوض کے بعد توانائی بحران کے حوالے سے کچھ اقدامات تجویز کیے جن میں سب سے پہلے ہفتے کی چھٹی بحالی کرتے ہوئے پانچ دن کام اور اس کے ساتھ ایک دن ورک فرام ہوم کی تجویز تھی۔ ’وزارت توانائی کی جانب سے جمعے کے لیے ورک فرام ہوم کی بھی ایک تجویز آئی ہے جس کے لیے وزیراعظم نے ایک کمیٹی تشکیل کی ہے۔‘ان کے مطابق غیرمعمول صورتحال کے پیش نظر کچھ اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

’کابینہ ارکان اور حکومتی حکام کے بیرون ملک جا کر علاج کرانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ سرکاری دفاتر کی تزئین و آرائش کا سامان خریدنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘ان کے مطابق حکومت نے سرکاری استعمال میں ہر طرح کی گاڑیوں کی خریداری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مارکیٹوں کو جلد بند کرنے کی بھی تجویز آئی تھی، اس پر ایک اجلاس ہوگا جس میں تمام صوبوں سے متعلقہ حکام شرکت کریں گے