fbpx

حکومت کاپٹرول اورڈیزل کی قیمت میں30روپےفی لٹراضافہ:عمران خان کی حکومت پرشدید تنقید

لاہور:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر ردعمل دیتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے عمران خان نے لکھا کہ غیر ملکی آقاؤں کی مدد سے بننے والی امپورٹڈ حکومت کی قوم نے 30 روپے فی لٹر پٹرول میں اضافے کی صورت میں قیمت ادا کرنا شروع کردی ہے۔انہوں نے لکھا کہ امپورٹڈ حکومت کی طرف سے ملکی تاریخ میں پہلی بار اتنا بڑا اضافہ کیا گیا ہے، نااہل اور بے حس حکومت نے روس کے ساتھ 30 فیصد سستا تیل خریدنے کے ہمارے معاہدے کو آگے نہیں بڑھایا۔

عمران خان نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ اس کے برعکس امریکا کا سٹریٹجک اتحادی ہونے کے باوجود بھارت نے روس سے سستا تیل خرید کر ایندھن کی قیمتوں میں 25 روپے فی لٹر کمی کی۔ اب ہماری قوم کو مہنگائی کی ایک اور بڑی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی کی قیمت میں 30 روپے فی لٹر اضافہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول، ڈیزل اور کیروسین آئل 30 روپے مہنگا ہوگا، فیصلے کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائے بغیر آئی ایم ایف پروگرام نہیں مل سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سابق حکومت کی پالیسیوں کے باعث آج مشکلات کا سامنا ہے، سابق حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت کو فکس کیا، عوام پر کسی بھی قسم کا بوجھ ڈالنا ہمارے لیے مشکل فیصلہ تھا، آئی ایم ایف نے پٹرول کی قیمت بڑھانے تک ریلیف سے انکار کیا ہے، عمران خان کے فارمولا پر جاؤں تو پٹرول 205 روپے لیٹر ہو جائے گا۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ سے روپے کو استحکام ملے گا، پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے تھوڑی سی مہنگائی بڑھتی ہے، جیسےہی روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا قیمتیں نیچے آئیں گی، وزیراعظم شہباز شریف نے یہ مشکل فیصلہ لیا ہے، ہم سمجھتے ہیں فیصلے سے ہماری سیاست کو نقصان پہنچے گا۔

سماجی ابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وفاقی وزیر خزانہ نے لکھا کہ پٹرول کی نئی قیمت 179 روپے 86 پیسے فی لٹر ، ڈیزل کی فی لٹر قیمت 174 روپے 15 پیسے ہو گئی ہے۔

اس سے قبل عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) پاکستان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پاکستان کو فیول سبسڈی ختم کرنے پر 90 کروڑ ڈالر قرض کی قسط جاری کرینگے۔