سانحہ مچھ پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے. رحمان ملک کا مطالبہ

اسلام آباد
چئیرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ سینیٹر رحمان ملک کا سانحہ مچ کیخلاف احتجاجی دھرنے میں شریک و اظہار یکجہتی

رحمان ملک کا احتجاجی مظاہرے سے خطاب

سانحہ مچھ کا واقعہ صرف اہل تشیع کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہے،

سب سے پہلے تعزیت کرتا ہوں سانحہ مچھ کے لواحقین کے ساتھ،

سانحہ مچھ پر دل خون کا آنسو بہا رہا ہے،

افسوس ہے کہ آج چھٹا دن ہے اور شہدا اب تک دفن نہیں ہو سکے ہیں،

وزیراعظم سے اپیل کرتا ہوں کہ انا کو ایک طرف رکھے فوری کوئٹہ جائے،

اپنی کتابوں میں میں نے کئئ بار تذکرہ کیا کہ پاکستان میں دائش بڑھ رہی ہے

پاکستان کے ساٹھ ہزار نوجوانوں کی دائش نے ٹریننگ کی ہے

دائش کا طریقہ کار گلہ کاٹنا ہوتا ہے

ہماری حکومت کے وقت بھی سو سے زائد شیعہ دوست شہید ہوئے

پہلی بار بتا رہا ہوں کہ تب میں نے کہا تھا کہ شیعہ برادری سے مشاورت کرکے حل نکالا جائے

موجودہ سانحہ مچھ پر سیاست نہیں ہونی چاہیے

وزیراعظم عمران خان آپ پاکستان کے ہر فرقے کے وزیراعظم ہیں

سانحہ مچھ کے لواحقین کا چھوٹا سا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم ہمارے پاس آئیں

جس نے بھی ایسی دہشت گردی کی وہ پاکستان میں شیعہ سنی کا فساد پیدا کر رہا ہے

حکومت وقت سے اپیل ہے کہ سانحہ مچھ کو نظر انداز نہ کیا جائے

سانحہ مچھ پر سپریم کورٹ کے جج کے زیر صدارت جوڈیشل کمیشن بنایا چائے،

جوڈیشل کمیشن میں چاروں صوبوں کے ہائی کورٹ کے جج شامل کئے جائے،

بطور چیرمین سینٹ کمیٹی برائے داخلہ میں نے سانحہ مچھ کا پہلے دن نوٹس لیا تھا،

صدر مملکت یا وزیراعظم پاکستان میں سے کسی کو کوئٹہ میں موجود ہونا چاہیے تھا

جب سانحہ مچھ پر کمیشن قائم ہوگا تو دیکھنا ہوگا کہ دائش کے پاکستان میں کہاں کہاں مراکز ہیں

میری معلومات کے مطابق چین پاکستان ایران کے حوالے سے داعش نے پلان کیا ہے

امید ہے حکومت پاکستان سانحہ مچھ کی مکمل تحقیقات کرے گی

کیا مچھ میں جب واقعہ پیش آیا تو تب سیکیورٹی سوئی ہوئی تھی

پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں عوام کی حفاظت کے لیے ہوتی ہیں

سانحہ مچھ پر ایک کیا کئی جے آئی ٹی بننی چاہیے تھیں

سانحہ مچھ پر جو بھی کمیشن بنے وہ بظاہر دکھانے کے لیے نہیں ہونا چاہیے

میں نے وزیراعظم کو خط اور ٹویٹ کے ذریعے کہا ہے کہ سانحہ مچ پر نوٹس لیں

وزیراعظم کو چاہیے کہ جلد جہاز میں بیٹھیں اور کویٹہ چلے جائیں

آج شیعہ کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے تو میں بتا رہا ہوں کہ کل سنیوں کے ساتھ بھی ناانصافی ہوگی

سانحہ مچھ کے لواحقین چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آئیں اور ان کی مشکلات سنیں

کہنا آسان ہے لیکن جس کا بیٹا شہید ہوا ہے اس سے پوچھنا چاہیے

بہت ہی بھاری دل سے میں اسلام آباد کے مظاہرین کے پاس آیا ہوں

میری حکومت سے اپیل ہے کہ سیاسی کشیدگیوں کو فی الفور ختم کیا جائے،

اخر میں وزیراعظم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ خدارا کوئٹہ جائے تاکہ شہداء کی تدفین ہو سکے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.