حکومت نے اپوزیشن اور اتحادیوں سے رابطوں کیلئے ایک بار پھر اچانک کمیٹی بنا دی

حکومت نے اپوزیشن اور اتحادیوں سے رابطوں کیلئے ایک بار پھر اچانک کمیٹی بنا دی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب ترمیمی آرڈیننس کے معاملے پراجلاس اسپیکر قومی اسمبلی کی رہائش گاہ پر ہوا ،اجلاس میں مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان، پرویز خٹک،شہزاد اکبر اور اسد عمر شریک ہوئے،

اجلاس میں آرڈیننس کی قانونی مدت ختم ہونے پر آئینی معاملات کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ احتساب ایک قومی ضرورت ہے جس کا تسلسل ہر قیمت پربرقرار رکھا جائیگا،قانونی ماہرین سے رائے اور 2ہفتوں میں جائزہ لے کر آرڈیننس دوبارہ جاری کیا جائیگا،

اجلاس میں اپوزیشن رہنماوَں اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ رابطوں کا فیصلہ کیا گیا ہے،نیب آرڈیننس پر اسد قیصر، بابر اعوان اور پرویز خٹک پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی گئی ہے،جو اپوزیشن جماعتوں اور اتحادیوں سے رابطے کرے گی،

احسن اقبال کی گرفتاری، مریم اورنگزیب چیئرمین نیب پر برس پڑیں کہا جو "کرنا” ہے کر لو

نواز شریف کے قریبی دوست میاں منشا کی کمپنی کو نوازنے پر نیب کی تحقیقات کا آغاز

نواز شریف سے جیل میں نیب نے کتنے گھنٹے تحقیقات کی؟

تحریک انصاف کا یوٹرن، نواز شریف کے قریبی ساتھی جو نیب ریڈار پر ہے بڑا عہدہ دے دیا

بلی بارگین کرنے والے کو الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہئے، نیب ترمیمی بل سینیٹ میں پیش

نیب آرڈیننس میں ترامیم کے بعد نیا مسودہ تیار

واضح رہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کے معاملے پر بابر اعوان کی وزیراعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد اہم اجلاس ہوا اور اس میں نیا آرڈیننس مشاورت سے لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے

نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کی مدت ختم، نیب کو پھر مل گئے وسیع اختیارات

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.