fbpx

مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں،فواد چوہدری ،حکومت کو پی ڈی ایم سے کوئی خطرہ نہیں، فرخ حبیب

اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ 23 مارچ (یوم پاکستان) قوموں کو جوڑنے کا دن ہے توڑنے کا نہیں۔

باغی ٹی وی : پی ڈی ایم کی جانب سے مارچ کے اعلان پر اپنے ردعمل میں فواد چوہدری نے کہا کہ 23 مارچ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا دن ہے مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہے مولانا فضل الرحمان کی ساری کوششیں دوبارہ سسٹم میں داخل ہونے کے لیے ہیں۔

وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ 23 مارچ کا دن قرار داد پاکستان کے طور پر منایا جاتا ہے یہ تاریخ احتجاج کے لیے مناسب نہیں ہے آرپار کی باتیں کرنے والے بری طرح خوار ہوئے ہیں، ان کے پاس کوئی عوامی ایجنڈا نہیں ہے اور آج کا اجلاس بھی چوں چوں کا مربہ بنا ہوا ہے-

فرخ حبیب نے کہا کہ استعفوں کے معاملے پر آج بھی ان کی لڑائی ہوئی ہے یہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف مارچ کریں گے حکومت کو پی ڈی ایم سے کوئی خطرہ نہیں ہے فضل الرحمان کے چہرے پر آج مایوسی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے یوم پاکستان پر پی ڈی ایم کے مارچ کی کال کوغیر ذمہ دارانہ فعل قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ مناسب ہو گا کہ پی ڈی ایم مارچ کی کال اپریل میں لے جائے۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ 23 مارچ کو افواج پاکستان قومی دن پر روایتی پریڈ کرتی ہیں پریڈ میں پاکستانی عوام سمیت غیر ملکی سفرا اور مندوبین بھی شرکت کرتے ہیں پریڈ کی تیاری کے حوالے سے اسلام آباد کو سیکیورٹی الرٹ پر رکھا جاتا ہے جبکہ تیاری کے لیے بعض راستے 2/3 روز قبل بند بھی کردیئے جاتے ہیں ایسے وقت پر مارچ کی کال ملک دوستی نہیں ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے 23 مارچ کو اسلام آباد میں مہنگائی مارچ کا اعلان کردیا،پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس آج پیر کو اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں حکومت مخالف تحریک چلانے اور 23 مارچ کو مہنگائی مارچ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

پی ڈی ایم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 23 مارچ کو ملک بھر سے کارکنان اسلام آباد پہنچیں گےاس سلسلے میں صوبائی سطح پر اجلاس بلائے جائیں گے عام آدمی کی غربت، بے روزگاری کے حوالے سے بڑا مظاہرہ ہوگا اور صوبائی سطح پر مارچ کیلئے حکمت عملی طے ہوگی۔

مارچ میں مارچ،کونسی نماز پڑھیں گے اسلام آباد، مولانا کا بڑا اعلان

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پنجاب میں شہبازشریف اور خیبرپختونخوا میں اجلاس کی صدارت کروں گا پی ڈی ایم سندھ کے اجلاس کی صدارت اویس نورانی اور پی ڈی ایم بلوچستان کے اجلاس کی محمود خان اچکزئی کریں گے تمام رہنما اپنے متعلقہ صوبوں سے کارکنوں کو لانے کے ذمہ دار ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی مارچ سے متعلق سیمینار کا انعقاد بھی کیا جائے گا جس میں سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل کے نمائندگان سے بھی ملاقات کی جائے گی، سول سوسائٹی اور دیگر کمیونٹی کی بھی مشاورت سے ایک بڑا سیمینار منعقد کیا جائے گا۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 2018ء میں انتخابات کے نتیجے میں عوامی مینڈیٹ سے محروم، دھاندلی سے حکومت وجود میں آئی، یہ حکومت نااہل اور پبلک کی سپورٹ سے محروم تھی.

بلاول کا سانحہ سیالکوٹ کے مجرموں کو فی الفور سزائیں دینے کا مطالبہ

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اجلاس میں اسمبلیوں سے استعفوں کا معاملہ بھی زیرغور آیا ہے، یہ کارڈ کب استعمال کریں گے اس کا فیصلہ وقت پر ہو گا دھرنے سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

یاد رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت آج پی ڈی ایم کا اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں نے اسلام آباد میں دھرنے کے بجائے ایک روزہ شو کرنے اور کارکنان کو جلسہ کے لیے فوری متحرک کرنے کی تجویز دی تھی۔

سری لنکا کا پاکستانی کرکٹرز اورکوچزکی سکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ

دوسری جانب سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان اسمبلیوں سے فوری استعفوں پر بضد رہے اور کہا کہ اسمبلیوں سے استعفے دے کرعوام کے ساتھ کھڑے ہونا چاہےانہوں نے پی ڈی ایم کی سربراہی سے مستعفی ہونے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ آج فیصلہ کریں ورنہ میں سربراہی سے مستعفی ہوتا ہوں اگر آج کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تو پی ڈی ایم کی تحریک کا کیا فائدہ ہوگا۔

گزشتہ روز شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے پی ڈی ایم کے اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں لانگ مارچ اور استعفوں پر اتفاق کیا گیا تھا۔