بلوائی حملے نظرانداز،ملوث مرکزی ملزم کی پزیرائی حلف سے غداری ہے،امان اللہ کنرانی

0
39
Aman Ullah kanrani

سُپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب ڈاکٹر علوی صاحب جناب چیف جسٹس سُپریم کورٹ پاکستان جناب مُحترم عطا بندیال صاحب نے 9 مئی 2023 کو کورکمانڈر لاھور کے گھر و جی ایچ کیو راولپنڈی کے سنگین دھشت گردی توڑ پھوڑ و بلوائی حملوں کو نظرانداز کرکے اس میں ملوث مرکزی ملزم کی پزیرائی و پیشوائی کی ہے دونوں نے اپنے حلف سے غداری و سنگین نوعیت کے فوجداری مقدمے میں اعانت جُرم یعنی تعزیرات پاکستان کے دفعات 109,120-Bاور124-A کا ارتکاب کیا ہے جس سے ملزموں کی حوصلہ افزائی و قانون نافذ کرنے والے جوانوں و افسروں کی حوصلہ شکنی ھوئی ہے جو درجنوں کی تعداد میں ملک بھر کے ھسپتالوں میں زیر علاج ہیں قومی و انسانی جانوں کا ضیاع ایک درجن سے زائد بے گناہ شہری اس روز جام شہادت نوش کرگئے کئ شدید زخمی ھوئے اگر اسی تحریک کے سربراہ جس کی آو بھگت و تعریف و توصیف میں دونوں آئینی اداروں کے سربراہان ھلکان و غلطان ہیں پھر قوم کو آزاد کردیا جائے اس ملک کی ریاستی حیثیت کو تسلیم کریں یا اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں جس کے آئینی سربراہ آئین و ریاست کے تحفظ و وفاداری کی بجائے ایک مخصوص پارٹی و سربراہ کی حفاظت و محبت میں گرفتار ھوچکےہیں وہ 24 کروڑ عوام کی مملکت کے سربراہ نہیں بلکہ وہ ایک مخصوص ذھنیت کی حامل سیاست کے نام پر دھشت گرد تنظیم کے زر خرید غلام ہیں جس میں ناقابل تردید آڈیو لیکس ثبوت کے لئےکافی ہیں

امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ کم سے کم مجھے ایسی ریاست کے سربراہ و عدالت سے کے نام پر دھبے سے نفرت ہے مگر اپنی ماں ریاست پاکستان کی مانگ کو ایسا اُجڑا و بکھرا ھوا بھی نہیں دیکھ سکتا جہاں بلوچستان میں ایک عظیم لیڈر نواب محمد اکبر خان بگٹی شہید کو جو گورنر و وزیراعلی وفاقی وزیر داخلہ رہا جو پاکستان کے لئے گوادر کی سرزمین واگزار کرا چکا ھو جو قائداعظم کو بلوچستان میں خوش آمدید کہتا ھو جو قائداعظم کے دور میں بلوچستان کے دو رکنی کابینہ میں سے ایک ھو اس کو تو محض صرف صوبے کے وسائل کی بات کرنے پر تہہ و تیغ کردیا جائے مگر جو ریاست پر حملہ آور ھوں ریاستی اداروں کو تہس نہس کرتے ھوں اور اس کے مجرموں کیلئے نرم گوشہ رکھنے کے باوجود ریاست کے دو اھم اداروں کی سربراہی پر فائز رہتے ھوں اس ریاست کا خدا ہی حافظ ایسی سرزمین کے باسی منتظر ہیں کب میر جعفر و میر صادق و فساد فی الارض سے نجات کیلئے کوئی جرات مند کشتیاں جلانے والا طارق بن زیادہ پیدا ھو اور قوم کو ایسے بونوں سے نجات کا اقدام کرے جو ریاست کی بجائے اپنی ذات کو ترجیح دیتے ہیں ریاست کی اساس کی بجائے اپنی”ساس”کو ترجیح دیتے ہیں

Leave a reply