حلقہ بندیوں کے معاملہ پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس الیکش کمیشن کے خلاف سوموٹو ایکشن لیں۔ ایم کیو ایم

0
97

کراچی کے عوام کے ساتھ ہمیشہ ناانصافی کی گئی،کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کنوینئر ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ رویہ مختلف ہے، پہلا گنا نہیں جاتا پھر ووٹر لسٹوں سے نکال دیا جاتا ہے، ناانصافیوں کے تدارک کیلئے ہم کہاں جائیں۔ ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ پہلے پاکستان کاخواب دیکھا تھا اب پاکستانیوں کا خواب دیکھنا ہے۔ خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں جو کیا گیا وہی صورتحال پھر نظر آ رہی ہے، حلقہ بندیوں سے کراچی پر جبر واضح نظر آتا ہے، یہ شہر پورے ملک سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، اس شہر میں امن کے بغیر ملک میں امن نہیں آسکتا۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن سندھ کے چیئرمین اعجاز چوہان ایک سیاسی جماعت کے کارکن بنے ہوئے ہیں، ایم کیو ایم سندھو دیش کی راہ میں رکاوٹ ہے، ہم سندھو دیش نہیں بننے دیں گے، الیکشن کمیشن سندھ کے حوالے سے جو باتیں ہم تک پہنچ رہی ہیں وہ تشویشناک ہیں، انتخابات سے پہلے تمام حلقہ بندیوں کو درست کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس حوالے سے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے، کل ہونے والا جلسہ صرف گلشن اقبال کا جلسہ ہوگا، ہم نے جلسوں کے ذریعے اپنے ووٹرز دکھانے شروع کر دئیے ہیں، پاکستان میں اب یہ مذاق بند ہونا چاہیے کہ دو سو ارب کر کے الیکشن میں کامیابی حاصل کر لی جائے، الیکشن کے بعد حکومت بنا کے ان دوسو ارب کو پانچ سو ارب میں چینج کر لیا جائے۔ اس موقع پر سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ چیف الیکشن کمیشن پر ہمارا اعتماد تھا مگر اب ان پر ہمارا اعتماد متزلزل ہو گیا ہے، نثار درانی پیپلز پارٹی کے عہدیدار کے رشتہ دار ہیں، اعجاز چوہان پیپلز پارٹی کے کارکن بنے ہوئے ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ پیپلز پارٹی نے جو کچھ الیکشن کمیشن میں جمع کرایا اس پر من و عن عملدرآمد ہوا، نثار درانی اور اعجاز چوہان مکمل طور پر پیپلزپارٹی کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 13 حلقوں پر اعتراضات جمع کرائے، کسی ایک پر بھی کوئی ایکشن نہیں ہوا، پیپلز پارٹی نے جتنے اعتراضات جمع کرائے سب پر من و عن عمل ہو گیا، کل رات کے ڈی لیمیٹیشن کے نتائج آنے کے بعد ہم الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔

Leave a reply