ہماری درخواست کے باوجود جوڈیشل کمیشن نہیں بنایا گیا،رؤف حسن

0
71
rauf press

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما رؤف حسن کا کہنا ہے کہ مجھ پر حملہ کرنے والوں کا زاویہ میری گردن کا تھا، پوری منصوبہ بندی سے حملہ کیا گیا۔اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رؤف حسن نے کہا کہ میرا زخم بھر جائے گا، فرد واحد کی آمریت میں ملک پر لگے زخم نہیں بھریں گے، ریاست نے جس جبر اور فسطائیت کا مظاہرہ کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔مرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن پریس کانفرنس کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دو سال میں ہماری آوازوں کے ساتھ میڈیا کی آواز کو بھی مسخ کیا گیا، اداروں کی جس طرح تضحیک کی جارہی ہے وہ آپ کے سامنے ہے، جب سے عمران خان کی حکومت کو گرایا اس کے بعد پی ٹی آئی پر جو ظلم ہوئے اس کی مثال نہیں ملتی ، ہماری درخواست کے باوجود جوڈیشل کمیشن نہیں بنایا گیا، جمہوریت کے پیچھے ایک انفرادی ڈکٹیٹرشپ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ جو ہوا وہ کچھ نہیں میرے ساتھیوں کے ساتھ بہت کچھ ہوا، تین دن پہلے بھی یہ لوگ میری طرف آئے، انہوں نے مجھے گالیاں اور دھمکیاں بھی دیں، حملہ آور کہتے رہے ہم آپ کے پیچھے ہیں، ان کا مقصد تھا میرا گلہ کاٹ دیں، میرا زخم ٹھیک ہوجائے گا شاید نظر بھی نہ آئے، مگر جو گھاؤ ریاست کے اوپر لگائے ہیں وہ مائل نہیں ہونگے، 1971 کے واقعات کو دہرایا جارہا ہے۔رؤف حسن کا کہنا تھا کہ ریاست کو بند گلی میں دھکیل دیا گیا ہے، دو سال میں کوئی بھی بیانیہ بنانے میں یہ کامیاب نہ ہوسکے، فرد واحد کی خواش کو نافذ کرنے والے مکمل طور پر ناکام ہوئے، آپ ہمیں مار دیں ہم جھکیں گے نہیں، مجھے بتائیں کہاں آنا ہے میرے سینے میں گولی مار دیں، ہم کھڑے ہیں، آج نہیں تو کل ان کو اڈیالہ میں بیٹھے شخص سے بات کرنی ہوگی۔
رؤف حسن نے کہا کہ جمہوریت کے دھویں کے پیچھے فرد واحد کی آمریت قائم ہے۔ تمام تر جبر کے باوجود پی ٹی آئی اور عوامی حمایت کو ختم نہیں کیا جا سکا جو میرے ساتھ ہوا وہ بہت معمولی واقعہ ہے، میرے ساتھیوں کے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ رؤف حسن پر حملے کی اسلام آباد پولیس کی ایف آئی آر مسترد کرتے ہیں، جس ٹولے نے رؤف حسن پر حملہ کیا وہ اس وقت کہاں ہے؟ پولیس 24 گھنٹے بعد بھی بلیڈ حملہ کرنے والوں تک نہیں پہنچ سکی۔یاد رہے کہ رؤف حسن گزشتہ شام اسلام آباد میں بلیڈ حملے میں زخمی ہوئے تھے۔

Leave a reply