ہیلتھ لیوی ، ٹیکس اوراس کی قانونی حیثیت :تحریر۔ آمنہ امان

0
24

حکومت کسی کاروبار ,پراڈکٹ ,کمپنی یا جاٸیداد پر مخصوص ٹیکس لگاۓ اور ٹیکس لگانے کا مقصد بھی واضح بیان کیا جاۓ تو اسے لیوی کہتے ہیں ۔ لیوی کی منظوری دونوں ایوانوں سے لی جاتی ہے اور اسے عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاتا کیونکہ اسے باقاعدہ مقصد کے تحت عوامی نماٸندوں سے منظوری کے بعد نافذ کیا جاتا ہے۔ لیوی ٹیکسز لگاتے وقت حکومت باقاعدہ طور پر مقصد بتاتی ہے کہ یہ کن وجوہات کی بنإ پر نافذ کیا جارہا ہے اور بعض صورتوں میں اس کی مدت کا تعین بھی کیا جاتا ہے اور مقررہ مدت کے بعد یہ غیرمٸوثر ہوجاتا ہے۔ لیوی ٹیکس میں وقتاً فوقتاً تبدیلی حکومت کی کلی صوابدید پر منحصر ہوتی ہے۔

ہیلتھ لیوی اور اس کا مختلف ممالک میں نفاذ :
میکسیکو، انڈیا ، آسٹریلیا ، برطانیہ سمیت دنیا کے کٸ ممالک میں شوگر یعنی چینی پر مشتمل مشروبات پر اضافی ہیلتھ لیوی نافذ کرنے سے جہاں ان ممالک میں ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوا ہے وہیں ذیابیطس ، ہارٹ اٹیک ،فالج اور کٸ دیگر امراض پر قابو پانے میں بھی کافی مدد ملی ہے۔ موٹاپا بھی اس وقت دنیا کے کٸ ممالک میں اہم مسٸلہ بنا ہوا ہے جو بذات خود کٸ قسم کے امراض کو دعوت دیتا ہے جس کا انجام دردناک موت ہوتا ہے۔ موٹاپے کی اہم وجہ بھی شوگری اور کاربونیٹڈ مشروبات اور جنک فوڈ ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے بیشتر ممالک میں تمباکو اور دیگر ڈرگز پر ہیلتھ لیوی نافذ کرکے ان کے پھیلاٶ پر قابو پایا گیا ہے۔ نشہ آور اشیإ کے استعمال میں روک تھام اور نٸ نسل کو اس کے مضمرات سے محفوظ رکھنے میں بھاری ہیلتھ لیوی کانفاذ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تمباکو نوشی کینسر ،ٹی بی، اور دمہ کا سبب تو بنتی ہی ہے مگر اس کے عادی افراد بہت سی معاشرتی خرابیوں کا باعث بھی بنتے ہیں کیونکہ اس کا استعمال افراد کو اعصابی طور پر کمزور بنا دیتا ہے وہ چڑچڑے اور غصہ ور ہوجاتے ہیں ان کی قوت فیصلہ بھی کم ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی ایک ایسی لت ہے جسے پورا کرنے کے لیےعادی افراد چوری چکاری جیسے جراٸم بھی کرسکتا ہے۔ گویا مضر صحت اشیإ جیسے نام نہاد انرجی ڈرنکس، کاربونیٹڈ مشروبات ، فلیورڈ جوسز ، سگریٹ ، پان اور چھالیہ وغیرہ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرنے سے ملک کو دوہرا فاٸدہ ہوتا ہے۔ اک طرف ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوتا دوسری طرف بیماریوں کی مد میں خرچ ہونے والی رقم کی بچت ہے۔ اور لوگوں کی عمومی صحت میں بہتری کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ دنیا کے کٸ ممالک مضر صحت اشیإ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرکے اپنے ملک کے خزانے کو فاٸدہ پہنچا رہے ہیں ۔ اور یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ ان ممالک میں مذکورہ بالا بیماریوں کی شرح میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوٸ ہے۔

پاکستان میں ہیلتھ لیوی کا نفاذ:
2019 میں اک سماجی تنظیم سپارک نے پاکستان میں تمباکو نوشی کے باعث ہونے والے نقصانات کے متعلق آگاہ کرتے ہوۓ بتایا کہ پاکستان میں تقریبا روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی کرتے پاۓ جاتے ہیں اور ہر سال 170000 لوگ تمباکو نوشی کے باعث مختلف بیماریوں کا شکار ہوکر موت کی وادی میں اتر جاتے ہیں۔ جن میں سرفہرست کینسر، ٹی بی اور دمہ ہیں۔
اور اس کے علاوہ صرف تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے 615 بلین روپے کا سرکاری خزانے پر بوجھ پڑتا ہے جو ملکی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔پاکستان ذیابیطس کے مرض میں دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے سالانہ تقریباً 70000 لوگ اسی مرض کی پچیدگیوں کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔ یہ اعدادوشمار یقیناً نہایت تشویش کا باعث ہیں۔ اس کے علاوہ موٹاپے کا مرض بھی پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جس سے افراد کے کام کرنے کی صلاحیت ہر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے اور دل کی بیماریوں فالج اور برین ہیمبرج جیسے امراض میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ شوگری مشروبات کے باقاعدہ استعمال سے بڑوں میں 27 فیصد جبکہ بچوں میں 55فیصد وزن بڑھ جاتا ہے ۔ جو بعد میں کٸ امراض کا پیش خیمہ بنتا ہے۔

ان تمام امراض اور ان کے باعث ہونے والی جانی ومالی نقصان سے بچنے کے لیے نقصان دہ مشروبات ، پان وچھالیہ اور سگریٹ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرنا لازمی امر ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس پہلو پر توجہ نہیں دی گٸ اور خاص طور پر تمباکو سگریٹ گٹکے اور انرجی ڈرنکس کے ملک میں بکثرت استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے مٸوثر قانون سازی نہیں کی گٸ۔ حالانکہ گٹکا نسوار اور پان کی لت پاکستان میں مردوں کے علاوہ خواتین میں بھی پاٸ جاتی ہے اور سالانہ لاکھوں شہری ان کی وجہ سے ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ وجہ ان چیزوں کا انتہای سستے ریٹس پر بکثرت دستیاب ہونا ہے ۔ جس سے پاکستان میں کینسر ذیابیطس اور دل کے امراض میں بہت اضافہ ہوچکا ہے ۔ٹی بی اور ہیپاٹاٸٹس کے امراض بھی ملک و قوم کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان سب کی اہم وجہ حکومت کی طرف سے اس معاملے میں کوتاہی ہے ۔ تاہم اب حکومتی سطح پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ اور اس کے یقینی حصول کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی گٸ ہے۔ جو کہ نہایت خوش اٸند ہےاس سے امید پیدا ہوٸ ہے کہ مستقبل میں بھاری ہیلتھ لیوی کے نفاذ سے مضرصحت اشیإ کی خریدوفرخت میں واضح کمی لاٸ جاسکے گی۔

اگر حکومت دنیا کے دیگر ممالک کے اعداد وشمار اور طریقہ کار کے علاوہ پاکستان کے اندرونی حالات کو مدنظر رکھ کر مضر صحت اشیإ پر زیادہ سے زیادہ ہیلتھ لیوی نافذ کرے تواس کے ناصرف خزانے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے بلکہ عوامی صحت میں بھی نمایاں بہتری اۓ گی۔ ہیلتھ سیکٹر پر اٹھنے والےاخراجات میں بھی کمی لاٸ جاسکے گی۔ صرف سگریٹ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرکے حکومت سالانہ 40 ارب روپے جمع کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کاربونیٹڈ اور شوگری مشروبات پر بھی بھاری ہیلتھ لیوی کا اطلاق کافی ریونیو جمع کرنے میں مدد دے سکتا ہے اور ان اشیإ کے بے تحاشا استعمال کو قابو کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوسکتا ہے۔مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ من پسند کمپنیز اور لوگوں کو چھوٹ ناں دی جاۓ بلکہ بلاتخصیص تمام مضر صحت پراڈکٹس پر ہیلتھ لیوی نافذ کی جاۓ اور اس کی شرح بھی حتی الامکان بلند رکھی جاۓ۔ اس پروگرام کو کرپشن کی نذر ہونے سے بھی بچایا جائے تاکہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں فاٸدہ ہوسکے اور معاشرے پر اس کے مثبت اثرات نظر آٸیں۔

Leave a reply