ہیلتھ آرگنائزیشن کا حکومت سے میٹھے مشروبات مہنگے کرنے کا مطالبہ

0
54

78 فیصد پاکستانیوں اور مختلف ہیلتھ آرگنائزیشنز کی سفارشات کی جانب سے میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ کی حمایت کے باوجود حکومت نے اس مسئلے کو نظر انداز کردیا، ہیلتھ منسٹری، سول سوسائٹی اور مختلف تنظیموں کی پر زور سفارشات تھیں کہ ایس ایس بی پر کم از کم 20 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو نافذ کیا جائے،
پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) نے سب سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ آپ اسمبلیوں میں عوام کی آواز بنیں، ذیابیطس ایسوسی ایشن آف پاکستان، اسکیلنگ اپ نیوٹریشن سول سوسائٹی الائنس، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، بچوں کے حقوق سے متعلق قومی کمیشن، چائلڈ رائٹس موومنٹ، پاکستان فیملی فزیشنز، سینئر فزیشن ڈاکٹرز، پاکستان کڈنی پیشنٹ ایسوسی ایشن اور دیگر صحت عامہ کے حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پرزورسفارش کی گئی تھی کہ بجٹ 2021-22 میں میٹھے مشروبات (ایس ایس بی) پر کم ازکم 20 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) نافذ کیا جائے، کیوں کہ میٹھے مشروبات کی کثرت استعمال سے موٹاپا، غیر مواصلاتی امراض (این سی ڈیز) کی ایک بڑی وجہ ہے، جن میں دل، کینسر، ذیابیطس، معدہ، جگر، فالج، موٹاپا، دانتوں اور دیگر امراض شامل ہیں، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سمیت بین الاقومی صحت کے اداروں کی واضح سفارش ہے کہ ایس ایس بی پر ٹیکس بڑھانا اس کی کھپت کو کم کرنے کا موثر ذریعہ ہیں، لیکن حکومت نے عوامی مفاد کی بجائے انڈسٹری مافیا کے مفاد کو ترجیح دی ہے،
ّآج (پناہ) کی طرف سے وزیراعظم پاکستان عمران خان، مسلم لیگ (ن) سے شہبازشریف ،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، قائد حزب اختلاف یوسف رضاگیلانی، اے این پی کے صدر اسفند یارولی خان، پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو، کو خصوصی خطوط لکھے گئے ہیں کہ عوامی مفاد کے تحفظ کیلئے آپ بھی اسمبلیوں میں ہماری آواز بنیں اور ضروری اشیاء مثلا بجلی اور پیٹرول کو مہنگا کرنے کی بجائے بیماریاں پیدا کرنے والی غیر ضروری اشیاء پرٹیکس لگا کر ریونیو اکھٹا کیا جائے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a reply