ہمت مرداں مدد خدا تحریر : طاہر ظہور غوری

0
47

آج کی نوجوان نسل اپنے لئے اچھی نوکری تلاش کرتی نظر آتی ہے جو اچھی تعلیم حاصل کر گیا وہ بھی اور جو رہ گیا وہ بھی اسکو یاں سرکاری نوکری چاہئے یاں ایسی نوکری جس میں اس کو کوئی سخت کام نا کرنا پڑے-
اور اگر کوئی ہمت کر کے کوئی کاروبار شروع کر بھی لیتا ہے تو پہلے ہی جھٹکے میں تھک کر بیٹھ جاتا ہے کہ شاہد یہ کام اس کیلئے ناممکن ہے کیا
اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر کامیاب انسان نے بہت سی ناکامیوں کا منہ دیکھا ہوتا ہے
ناکامی دراصل کامیابی کی سیڑی ہے جو یہ سمجھ گیا اور لگن سے کوشش کرتا رہے وہی کامیاب ہوتا ہے
چلو کچھ مثالیں دے دیتے ہیں “ہرلینڈ ڈیوڈ سیڈنر” جو کہ کے ایف سی کا مالک تھا اس کی پینسٹھ سالہ زندگی ناکامیوں سے بھری پڑی تھی اس نے ریٹائرمنٹ کہ بعد کے ایف سی شروع کیا اور آج ہم لوگ اسکو کھانا سٹیٹس سمبل سمجھتے ہیں جب اس شخص نے اس عمر میں بھی اپنی تمام تر ناکامیوں کے باوجود ہار نہیں مانی اور آخر کار کامیاب ہوا
“عمران خان” پہلے ہی ٹیسٹ میچ کے بعد بری کارکردگی کی وجہ سے ٹیم سے نکال دیا گیا پر ہمت نا ہاری اور اک دن پاکستان کی کریکٹ ٹیم کا کپتان بنا اور آج تک اس کا شمار دنیا کریکٹ کے بہترین کھلاڑی اور کپتان کے طور پر ہوتا ہے
اب کچھ پڑھنے والے یہ کہیں گے کہ یہ تو ان لوگوں کی کہانی ہے جو زندگی میں کامیاب ہوئے تو یہاں یہی بتانا مقصد ہے کہ انلوگوں نے بھی شروع کے دنوں میں ناکامیوں کا منہ دیکھا پر اپنی لگن اور ہمت سے کامیابی حاصل کی
مضمون کا حاصل یہی ہے کہ نوجوانوں اگر زندگی میں کامیاب ہونا ہے تو جان لو ناکامیاں اور کامیابیاں زندگی کا حصہ ہیں
کبھی کسی ناکامی یاں کامیابی کو آخری نا سمجھو اپنے حوصلوں کو کبھی پست نا ہونے دو اک سنہرا کا تمہارا منتظر ہے

@tz_ghauri

Comments are closed.