خواجہ سراؤں کے ساتھ ہمارے معاشرے کا رویہ تحریر: محمد وسیم

0
33

اللہ نے انسان کے تین جنس پیدا کیا ہے جس میں ایک مرد، دوسرا عورت اور تیسرا جنس جو پیدا کیا اسے ہم خواجہ سرا کہتے ہے جنہیں مرد اور عورت دونوں جنسوں کو ملا کر پیدا کیا ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جن دو جنسوں کو زیادہ تکلیف کا سامنا پڑہ رہا ہے اس میں ایک عورت ہے جب کہ دوسرا خواجہ سراہ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کو زندگی میں کئ دفعہ بے بسی کا سامنا پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں بھی خواجہ سراہ جیسے بے بس انسان کوزندگی گزارنے میں اچھا محسوس نہیں ہورہا اور وہ اب یہہ تنگ آچکے ہے ایسے درندوں سے جو انہیں بندوق کی زور پہ زیادتی کا نشانہ بنا کر انہیں قتل کردیتے ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہے جہاں خواجہ سرا کے پیدا ہونے پر لوگ شرمندگی محسوس کرتے ہے اور خوشی کے بجاۓ رو رو کر ماتم شروع کرتے ہے کہ اللہ نے ہمیں بیٹا، بیٹی کے بجاۓ ایک خواجہ سرا دیا ہے اور جب اس خواجہ سرا بچے کو تھوڑی سی سمجھ آجاتی ہے تو غیرت کے نام پر انہیں گھر سے نکال دیتے ہے .
جب ایک خواجہ سرا کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے تو ان کی زندگی اندھیروں میں ڈوب جاتی ہے ۔ ان کو ہر وقت ہر جگہ پر لوگ زیادتی کا نشانہ بناتے ہے ۔ وہ تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہوجاتے ہے ۔ وہ دینی تعلیم حاصل کرنے سے بھی محروم ہوجاتے ہے ۔ ان کے اس طرح باہر جانے سے معاشرے میں زنا بڑھ جاتا ہے
انہی خواجہ سراؤں کو کچھ درندے پکڑ کر انہی سے ڈانس کروا کے پیسے کماتے ہے ۔ کچھ لوگ ڈانس کے بہانے لے جا کے ادھر ان سے جسم مانگنے کی ڈیمانڈ کرتے ہے اور جب وہ انکار کرتے ہے تو انہیں وہی پر مار دیا جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا جہاں سب سے زیادہ پٹھان رہتے ہے جو کہ غیرت کے نام پر بہت مشہور ہے وہاں سب سے زیادہ واقعات خواجہ سراؤں کے ساتھ پیش آتے ہے ۔ جہاں بہت ہی کم عرصہ میں بہت سے بےگناہ خواجہ سراؤں کو قتل کیا گیا۔

ہمارے معاشرے میں ایک خواجہ سراہ کو جتنی تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی اتنا اور کسی کو نہیں برداشت کرنی پڑتی۔ ہمارے حکومت نے ابھی تک ایسا کوئ بھی قانون نہیں بنایا جس سے خواجہ سراہ کو یہ حوصلہ ملا ہو کہ ہاں اب ریاست ہماری تحفظ کریگی۔ خواجہ سراؤ کے مسلؤں کی اگر بات کی جاۓ تو ان کی پوری زندگی ہی مسلۓ ہی مسلۓ ہیں لیکن چند مسلۓ جن کا میں ذکر کرنا بہت ضروری سمجھتا ہوں۔ جو مسلۓ خواجہ سراؤ کو درپیش ہے اس میی سب سے پہلے مسلۂ ہمارے معاشرے کے درندے لوگوں کے ہاتھوں ان کا ریپ ہے جو کہ بہت عام ہوچکا ہے ۔ دوسرا بڑا مسلۂ ہمارا معاشرہ خواجہ سراؤں کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں جس کی وجہ سے ہمارے خواجہ سراؤں کی زندگی غذاب بنی ہوئ ہے ۔ تیسرا مسلۂ جو خواجہ سراؤ کو درپیش ہے وہ ہے ان کو تعلیمی اداروں میں تحفظ نہ ملنا۔ وہ تعلیم حاصل کرنے جاتے ہے جب کا وہاں بھی استاد کی شکل میں درندے بیٹھے ہوتے ہے ۔ چوتھا مسلۂ خوجہ سراؤ کو روزگار نہ دینا۔ جس طرح میں نے کہا کہ ہمارا معاشرہ انہیں قبول نہیں کرتا تو وہ روزگار کیسے دیگا؟ پانچواں مسلۂ خواجہ سراؤں کیلۓ کوئ پلان حکومت نے ابھی تک نہیں بنایا۔ ابھی جب کرونا کا لہر آیا تھا تو سب سے پہلے خواجہ سراؤں کو نقصان پہنچا تھا ان کے پاس کھانے کیلۓ بھی پیسے نہیں بچے تھے۔
اب جب ایسے حالات ہو تواس ملک میں خواجہ سراؤ کی زندگی جانوروں سے بھی بدتر ہوگی۔ میں حکومت پاکستان سے اپیل کرونگا کہ خواجہ سراؤں کی تحفظ کیلۓ قانون بنایا جاۓ اور انہیں ہر ادارے میں کوٹہ دیا جاۓ تاکہ وہ بھی اس ملک میں روزگار کرکے اپنی زندگی بخوشی گزار سکے۔

Waseem khan
@Waseemk370

Comments are closed.