جیسی قوم ویسے حکمران تحریر: سیدہ بنت زینب

0
161

کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس کے لوگوں پر ہوتا ہے. ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اگر کسی ملک کے لوگ اپنے اپنے حصے کا کام پوری ایمانداری سے، پوری لگن سے کریں تو اس ملک کا دنیا میں بول بالا ہو گا. لیکن اگر اسی ملک کے لوگ اپنی جگہ بے ایمانی، کرپشن، زخیرہ اندوزی کرنے لگیں گے تو یقیناً اس ملک کو ترقی پذیر ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا.
بدقسمتی سے پاکستان وہ ملک بن چکا ہے جہاں ہر شخص اپنی جگہ کرپٹ ہے، جسے جتنا موقع ملے وہ اتنی ہی ڈھٹائی سے کرپشن کرتا ہے. فریج والے سے لے کر موٹر والے تک، میکینک سے لے کر دکاندار تک، ایک چھوٹے بچے سے لے کر بوڑھے شخص تک ہر کوئی کرپشن جیسی بیماری میں مبتلا ہے. یہ بات اس بات سے بھی ثابت کی جا سکتی ہے کہ "اسکول میں پرنسپل نے ٹیچر کو کہا کہ بچوں سے دس روپے فارم کے لینے ہیں، ٹیچر نے کلاس میں آ کر بچوں کو کہا کہ صبح بیس روپے اسکول فارم کے لیے لے آنا، بچے نے گھر جا کر اپنی والدہ کو یہی رقم بیس کی بجائے پچاس بتائی اور اسکی والدہ نے یہی رقم بچے کے والد کو آگے سو بتا کر لی.” افسوس بحیثت قوم ہم سب کرپٹ ہو چکے ہیں.
عوام ہمیشہ حکمرانوں پر ہی الزام لگاتی ہے کہ حکومت نے ان کے لیے کچھ نہیں کیا اب ذرا عوام کی بات کریں تو کیا عوام بھی اسی تھالی سے نہیں کھا رہی جس میں سے سیاستدان کھا رہے ہیں؟
جب بھی پاکستان کی ترقی پذیر ممالک میں ہونے کی بات آتی ہے تو ہر شخص اپنی جگہ بیٹھ کر سارا ملبہ ملک کے سیاستدانوں پر ڈال دیتا ہے کہ انہوں نے ہمارے ٹیکس کے پیسے کھائے ہیں، کروڑوں کی کرپشن کی ہے مگر دوسروں پر بات کرنے سے پہلے کوئی یہ نہیں سوچتا کہ وہ خود اپنی جگہ کتنے کرپٹ ہو چکے ہیں…!
تو پھر ہم کس منہ سے حکمرانوں کو کچھ کہہ سکتے ہیں جب ہم خود ہی کرپٹ ہوں؟
اپنے وزیروں، اداروں اور افسروں کو گالی دینے سے پہلے ایک بار ذرا خود سے پوچھیں کہ آپ نے کتنی ایمانداری سے اپنے حصے کا کام کیا ہے؟ آپ نے اپنی دھرتی اور اپنے لوگوں کے لیے کیا کچھ کیا ہے؟
حکمرانوں کے دل اللّٰہ کے قبضہ میں ہوتے ہیں، جیسے لوگوں کے اعمال ہوتے ہیں اللّٰہ تعالی ان کے مطابق حکمرانوں کے دل کردیتا ہے، یعنی اگر عوام کے اعمال اچھے ہوں گے تو حکمران ان کے لیۓ اچھے ثابت ہوں گے اور اگر ان کے اعمال اچھے نہیں ہوں گے تو حکمران عوام کے لۓ برے ثابت ہوں گے.
یہ تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ "جیسی قوم ویسے حکمران”. اگر حکمران ایمانداری ہو اور عوام بے ایمان، تب بھی کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ ایک اکیلا شخص سارے معاشرے کی برائی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کچھ اچھا کام کرے بھی تو لوگوں سے یہ بات برداشت نہیں ہوتی اور وہ اس اچھے انسان کے پاؤں کھینچ کر اسے اپنے سے پیچھے دھکیل دیتے ہیں. ہمیں ہر چیز سے پہلے اپنے آپ کو بدلنا ہو گا. جیسا کہ قرآن پاک میں سورۃ الرعد میں فرمایا گیا ہے کہ "حقیقت یہ ہے کہ اللّٰہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی اور جب اللّٰہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی.”
‏‎بس ہم سب سے ہمارے حصے کا ہی سوال پوچھا جائے گا. ہم دوسروں کی فکر کرنے سے سے پہلے اپنے حصے کا دیا جلانے کی فکر کر لیں تو پاکستان روشن تر ہو جائے گا.
اگر ہم سب سید اقرار الحسن کی طرح اپنے حصے کا کام پوری لگن، پوری ایمانداری سے کریں تو مجھے پورا یقین ہے کہ ایک دن پاکستان کا پرچم دنیا کے ہر میدان میں سب سے بلند ہو گا.
جیسا کہ سید اقرار الحسن کہتے ہیں کہ "آپ سب پاکستان کے ذمہ دار محب وطن شہری کی طرح اپنے حصے کا کام پوری ایمانداری اور لگن سے کرتے رہیں. بغیر کسی مفاد کے، بغیر کسی لالچ کے، لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں لاتے رہیں.مجھے یقین ہے کہ پھر وہ وقت دور نہیں ہو گا جب پاکستان ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو جائے گا انشاء اللہ”
پاکستان زندہ باد!

@BinteZainab33

Leave a reply