جعلی پاسپورٹس تحقیقات؛ حکام کی ملی بھگت کا انکشاف

فرضی و جعلی ڈیٹا پر بنے شناختی کارڈ کے ذریعے پاسپورٹس کو پراسس کروایا گیا
0
100
passport

جعلی پاسپورٹس تحقیقات میں کچھ اہم پیشرفت ہوئی ہے جس کے مطابق ایجنٹوں نے حکام بالا کی ملی بھگت سے مبینہ طور پر جعلی پاسپورٹس تیارکروائے تھے اور اسی بنیاد پر مشکوک غیرملکی افغان شہریوں نے سعودی عرب کا سفرکیا تھا جبکہ اس معاملے پر وزارت داخلہ کی پانچ رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تحقیقات کر رہی ہے اور کمیٹی کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایجنٹوں نے حکام بالا کی ملی بھگت سے مبینہ طور پر جعلی پاسپورٹس تیارکروائے اور انہی مدد سے یہ سارا کام ہوا ہے اور اس میں فرضی وجعلی ڈیٹا پر شناختی کارڈ بنوائے گئے تھے۔

تاہم ذرائع نے بتایا ہے کہ فرضی و جعلی ڈیٹا پر بنے شناختی کارڈ کے ذریعے پاسپورٹس کو پراسس کروایا گیا تھا اور مبینہ جعلی پاسپورٹس پرمختلف ٹریول ایجنٹوں کے ذریعے ویزے لگوائے گئے تھے جبکہ اس معاملے میں بارہ ہزار 96 مبینہ جعلی پاسپورٹ پرمشکوک غیرملکی افغان شہریوں نے سعودی عرب کا سفرکیا تھا اور سعودی عرب نے یہ پاسپورٹس ریاض میں پاکستانی حکام کے حوالے کردیئے تھے۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
راولپنڈی پشاور کےدرمیان ریلوے کے کرائے روڈ ٹرانسپورٹ سے بھی زیادہ
یاد رہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے قائم کی جانے والی انکوائری کمیٹی نے پاکستان کے 12 ہزار96 مبینہ جعلی پاسپورٹس کے اجراء کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا جبکہ وزارت داخلہ کی جانب سے تحقیقات کا آغاز سعودی حکومت کی شکایت پرکیا گیا تھا اور جعلی پاکستانی پاسپورٹ پاسپورٹ پرسعودی عرب جانے والوں کی فہرستیں تحقیقاتی کمیٹی کوموصول ہوگئی تھیں

Leave a reply