سائفر کیس:عمران خان کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

کابینہ کے فیصلے کا ماضی پر اطلاق نہیں ہوتا ،وکیل سلمان اکرم راجہ
0
290
islamabad highcourt

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا جیل ٹرائل کالعدم قرار دے دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ غیر معمولی حالات میں ٹرائل جیل میں کیا جاسکتا ہے،قانون کے مطابق جیل ٹرائل ان کیمرہ یا اوپن ہوسکتا ہے، سائفر کیس میں جیل ٹرائل کا 29 آگست کو نوٹیفکیشن کالعدم قراردے دیا گیا.اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے جیل ٹرائل کے خلاف عمران خان کی اپیل منظور کرلی۔

جسٹس گل حسن اورنگزیب کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی انٹرا کورٹ اپیل پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت خصوصی عدالت کے جج کی تعیناتی کو درست قرار دیا،

قبل ازیں سائفر کیس میں عمران خان کی جج تعیناتی اور جیل ٹرائل کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی.سائفر کیس میں جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کیا ،چیرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل بھی مکمل ہو گئے،وفاق سے اٹارنی جنرل منصور اعوان اور ایف آئی اے پراسیکیوٹر کے دلائل مکمل ہو گئے،

قبل ازیں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز سماعت کر رہے ہیں دوران سماعت سائفر کیس میں عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کیا-سلمان اکرم راجہ نے دلائل میں جیل ٹرائل کا پراسس عدالت کے سامنے رکھا کہ سی آر پی سی کی سیکشن 352 کے تحت جیل ٹرائل کے لئے ٹرائل جج نے کچھ وجوہات کے ساتھ یہ اختیار استعمال کرنا ہوتا ہے ، پھر ریکوئسٹ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (کمشنر) کے ذریعے وفاقی حکومت کو جاتی ہے ، کابینہ کے سامنے یہ معاملہ رکھنا ہوتا اور ہائی کورٹ کو بھی آگاہ کرنا ہوتا ہے یہ پراسس ہے ،سائفر کیس میں جیل ٹرائل کے لیے جج کو جیل ٹرائل سے متعلق جوڈیشل آرڈر پاس کرنا چاہئے تھا جو آج تک نہیں ہوا –

سائفر کیس سماعت 24 نومبر تک ملتوی

وکیل سلمان اکرم راجہ نے کابینہ کے فیصلے کے اثرات پر دلائل میں کہا کہ کابینہ کے فیصلے کا ماضی پر اطلاق نہیں ہوتا ، جیل ٹرائل کیلئے سب سے پہلے ٹرائل جج نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے ، حکم جاری کرنا ہوتا ہے ، ٹرائل کورٹ کے جج کے خط کو فیصلہ /حکمنامہ نہیں کہہ سکتے ، جج اپنا مائنڈ فیصلے سے ظاہر کرتا ہے ، مان بھی لیا جائے کہ بارہ نومبر سے کابینہ کی منظوری کیلئے طریقہ کار پر عمل کیا گیا تو پہلے کی کارروائی غیر قانونی ہوگی –

فیض آباد دھرنا کیس: سابق ن لیگی وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے پاس جنرل …

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیل ٹرائل عام لوگوں کو سننے کے لئے نہیں،جیل ٹرائل میں فیملی ممبران کو بیٹھنے کی اجازت ملی ہے، خاندانی افراد کا ٹرائل میں بیٹھنے کے بعد نہیں سمجھتا کہ جیل ٹرائل چل رہا،یہ بات درست ہے کہ ماضی میں ملزمان کے اہل خانہ کو جیل ٹرائل دیکھنے کی اجازت نہیں ملی، اس کی وجہ یہ تھی کہ جیل میں ٹرائل کے لیے کورٹ کو ملنے والا کمرہ بہت چھوٹا اور گنجائش محدود تھی،اب اس متعلق سنگل بنچ نے بھی آرڈر پاس کر دیا ہے، عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا،عدالت نے کہا کہ پانچ اور ساڑھے پانچ بجے کے دوران فیصلہ سنایا جائے گا ،

سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہیں، چند روز قبل اڈیالہ جیل کے باہر سے بارودی مواد بھی ملا تھا، عمران خان اور تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اوپن کورٹ میں ٹرائل کیا جائے، حکومت کا موقف ہے کہ ٹرائل جیل میں ہی ہو گا، اب تک عمران خان اوپن ٹرائل کے لئے تین درخواستیں دائر کر چکے ہیں

Leave a reply