fbpx

بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکس کا نفاذ، تاجروں نے 5دن کا الٹی میٹم دیدیا

کراچی: تاجروں نے بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکس کا نفاذ واپس لینے کیلئے 5 دن کا الٹی میٹم دیدیا۔ آل کراچی تاجر اتحاد عتیق میر کا کہنا ہے کہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو کے الیکٹرک ہیڈ آفس پر احتجاجی دھرنا دیں گے۔

حکومت نے بجٹ 23-2022ء میں تمام تاجروں پر بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکس نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر کے الیکٹرک نے رواں ماہ تمام کمرشل میٹرز کے بلوں میں اضافی ٹیکس شامل کردیا ہے۔

حکومت نے فائلرز پر 3 ہزار روپے جبکہ نان فائلرز پر 6 ہزار روپے اضافی ٹیکس نافذ کیا ہے۔

آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے اعلان کیا ہے کہ کے الیکٹرک کی انتظامیہ نے بدھ 27 جولائی 2022ء تک بجلی کے بلوں سے 6 ہزار روپے منہا کرنے کا فیصلہ نہ کیا تو کراچی کے تاجر کے الیکٹرک ہیڈ آفس پر احتجاجی دھرنا دیں گے اور دھرنا اس وقت تک ختم نہیں کیا جائے گا جب تک تاجروں کے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے۔

عتیق میر کے مطابق جمعہ کو تاجروں کی اہم اور مرکزی تنظیموں سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تاجروں سے بجلی کے بلوں میں ماہانہ 6 ہزار روپے کے ٹیکس کو قبول نہیں کیا جاسکتا، اس فیصلے کیخلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔

اجلاس کے بعد ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ صارفین بلوں میں شامل بھاری اور ناقابل برداشت رقوم کے سبب ادائیگی سے قاصر ہیں، ان کے بلز درست ہونے تک ادائیگی کی تاریخ میں اضافہ کیا جائے اور لیٹ پیمنٹ سرچارج وصول نہ کیا جائے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فنانس بل کے مطابق فکس ٹیکس کے پہلے سلیب 30 ہزار روپے تک کے بلوں پر 3 ہزار روپے ماہانہ تجویز کیا گیا تھا، جس میں سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس شامل تھے، لیکن کے الیکٹرک کے رواں ماہ جاری کئے گئے بلوں میں بلاتفریق اور کسی منصوبہ بندی کے بغیر صرف سیلز ٹیکس کی مد میں 6 ہزار روپے ماہانہ شامل کئے گئے ہیں جو کہ فنانس بل کے مجوزہ سلیب کے برعکس اور سراسر زیادتی پر مبنی ہیں۔

عتیق میر نے کہا کہ اس سلسلے میں انہوں نے ذاتی طور پر ٹیکس ڈپارٹمنٹ، کے الیکٹرک اور کراچی چیمبر کے ذمہ داران سے مسلسل رابطہ کیا، جس میں یہ عجیب بات سامنے آئی کہ کے الیکٹرک نے فنانس بل اور ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی ہدایات کو سمجھے بغیر یہ رقم شامل کردی ہے، اس اقدام کے نتیجے میں کراچی کے تاجر شدید غم و غصے اور اشتعال کا شکار ہوگئے ہیں۔

دریں اثناء آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی بدھ کو ہنگامی اجلاس ہوا تھا جس میں مارکیٹوں کی سطح پر احتجاجی مظاہروں کا فیصلہ کیا گیا تھا، اس فیصلے کے مطابق جمعرات کو کریم سینٹر اور جمعہ کو ایم اے جناح روڈ پر احتجاجی مظاہرہ ہوا۔

ایسوسی ایشن کے رہنماء شرجیل گوپلانی کے مطابق احتجاجی مظاہرے جاری رہیں گے، احتجاج کا دائرہ بڑھایا جارہا ہے، ظالمانہ ٹیکس کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔