سپریم کورٹ نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظوری کا فیصلہ جاری کردیا
سپریم کورٹ کی جانب سے4 صفحات پر مشتمل ضمانت منظوری کا فیصلہ جاری کیا گیا،جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے 5صفحات پر مشتمل علیحدہ نوٹ بھی لکھا،سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کا فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا، تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے دوسرے ملک کے فائدے کیلئے سائفر کو پبلک کیا ایسے شواہد نہیں، فیصلے میں دی گئی آبزویشنز ٹرائل کو متاثر نہیں کریں گی،سابق چیئرمین پی ٹی آئی ضمانت کا غلط استعمال کریں تو ٹرائل کورٹ اسے منسوخ کر سکتی ہے ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5(3) بی کے جرم کا ارتکاب ہونے کے شواہد نہیں ،ملزمان کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے جرم کے ارتکاب کیلئے مزید انکوائری کے حوالے سے مناسب شواہد ہیں،مزید تحقیقات کا فیصلہ ٹرائل کورٹ شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ہی کر سکتی ہے،
عمران خان کو قید رکھنے کا کوئی مقصد نہیں ، ان کی رہائی عوام کو موثر اور بامعانی حق رائے دہی کا موقع دے گی، آئین توڑنے والے کسی ڈکٹیٹر نے تو ایک دن جیل نہیں کاٹی،کیس میں ایسے حالات نہیں کہ ضمانت کو مسترد کیا جائے،جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ
سائفر کیس کی ضمانت کے مقدمے میں جسٹس اطہر من اللہ نے اضافی نوٹ لکھا اور کہا کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے خواہشمند امیدواران ہیں، سوال کیا کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو انتخابات سے قبل گرفتار رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟ انتخابات کی پچھلی سات دہائیوں سے تاریخ دیکھنا ضروری ہے، عمران خان ایک بڑی سیاسی جماعت کے بانی اور شاہ محمود قریشی اعلی عہدے پر ہیں، ملک میں حقیقی انتخابات کے لیے تمام امیدواروں کو یکساں مواقع دینا آئینی ضرورت ہے، عمران خان کو قید رکھنے کا کوئی مقصد نہیں ، ان کی رہائی عوام کو موثر اور بامعانی حق رائے دہی کا موقع دے گی، آئین توڑنے والے کسی ڈکٹیٹر نے تو ایک دن جیل نہیں کاٹی،کیس میں ایسے حالات نہیں کہ ضمانت کو مسترد کیا جائے،پورا ٹرائل دستاویزی شواہد پر منحصر ہے،ملزمان کی گرفتاری کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا،
قبل ازیں سائفر کیس میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی
سائفر کیس، سپریم کورٹ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت منظور کر لی،شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت بھی منظور کر لی گئی،عدالت نے دس دس لاکھ ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ صرف عمران کا نہیں عوامی مفاد کا معاملہ ہے، وہ ابھی سزا یافتہ نہیں صرف ملزم ہیں، کیا آپ 2018 کی تاریخ دہرانا چاہتے ہیں؟عمران خان پر ابھی جرم ثابت نہیں ہوا وہ معصوم ہیں، انتخابات 8 فروری کو ہیں، جو جیل میں ہے وہ ایک بڑی جماعت کی نمائندگی کرتا ہے،کیا حکومت 1970 اور 77 والے حالات چاہتی ہے،عمران کے جیل سے باہر آنے سے کیا نقصان ہوگا؟
قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر نوٹس نہیں ہوا، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی نوٹس کر دیتے ہیں آپ کو کیا جلدی ہے، عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے جلدبازی میں 13 گواہان کے بیانات ریکارڈ کر لئے ہیں، عدالت نے کہا کہ سپیڈی ٹرائل ہر ملزم کا حق ہوتا ہے، آپ کیوں چاہتے ہیں ٹرائل جلدی مکمل نہ ہو؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ان کیمرا ٹرائل کیخلاف آج ہائی کورٹ میں بھی سماعت ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ دوسری درخواست فرد جرم کیخلاف ہے،
قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ جو فرد جرم چیلنج کی تھی وہ ہائی کورٹ ختم کرچکی ہے، نئی فرد جرم پر پرانی کارروائی کا کوئی اثر نہیں ہوگا، وکیل حامد خان نے کہا کہ ٹرائل اب بھی اسی چارج شیٹ پر ہو رہا ہے جو پہلے تھی، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ پرانی چارج شیٹ کے خلاف درخواست غیرموثر ہوچکی ہے،نئی فرد جرم پر اعتراض ہے تو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں،حامد خان نے استدعا کی کہ مناسب ہوگا آج ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ایسا نہ ہو آئندہ سماعت تک ٹرائل مکمل ہوجائے،شام چھ بجے تک ٹرائل چلتا ہے، عدالتی اوقات کار کے بعد بھی ٹرائل چل رہا ہوتا ہے، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں ہمارے کیس چلتے نہیں، آپ کا چل رہا تو آپکو اعتراض ہے،فرد جرم والی درخواست غیرموثر ہونے پر نمٹا دیتے ہیں،وکیل سلمان صفدر نےکہا کہ حامد خان درخواست میں ترمیم کر چکے ہیں اب اسے نئی درخواست کے طور پر لیا جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ترمیم شدہ درخواست بھی ہائیکورٹ سے پہلے ہم کیسے سن سکتے ہیں؟
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس میں وزارتِ داخلہ کے سیکریٹری شکایت کنندہ ہیں، لاہور ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں طلبی پر 7 ماہ حکمِ امتناع دیے رکھا، 7 ماہ ایف آئی اے خاموش رہا، توشہ خانہ کیس میں ضمانت ہوتے ہی گرفتار کر لیا، عمران خان کو اسلام آباد میں گرفتار کرنے کی 40 مرتبہ کوشش کی گئی، ملک بھر کے دیگر مقدمات اسلام آباد کے 40 کیسز سے الگ ہیں،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ آڈیو لیک کے بعد وفاقی حکومت کی ہدایت پر ایف آئی اے نے انکوائری شروع کی تھی،سلمان صفدر نے کہا کہ الزام لگایا گیا کہ 28 مارچ 2022ء کو بنی گالہ میں ہوئے اجلاس میں سائفر کے غلط استعمال کی سازش ہوئی، سابق وزیرِ اعظم پر سائفر کی کاپی تحویل میں لے کر واپس نہ کرنے کا بھی الزام ہے، ایک الزام پورے سائفر سسٹم کی سیکیورٹی رسک پر ڈالنے کا بھی ہے، اسد عمر اور اعظم خان کے کردار کا تعین تفتیش میں ہونا تھا، ایف آئی آر میں 4 ملزمان نامزد ہیں لیکن ٹرائل صرف 2 کا ہو رہا ہے، اعظم خان پر میٹنگ منٹس اور اس کے مندرجات توڑ مروڑ کر تحریر کرنے کا الزام ہے، ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے، ایف آئی آر میں کردار کے تعین کے باوجود اعظم خان کو گرفتار کیا گیا نہ اسد عمر کو، اعظم خان ملزم کے بجائے سائفر کیس کے مقدمے کے اندراج کے اگلے دن گواہ بن گئے۔
جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کو کیسے معلوم ہوا کہ بنی گالہ میں میٹنگ ہوئی تھی؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ ایف آئی اے ہی بتا سکتی ہے کیونکہ اب تک پراسیکیوشن نے ذرائع نہیں بتائے، سائفر وزارتِ خارجہ سے آیا، پراسیکیوشن کے مطابق سیکیورٹی سسٹم رسک پر ڈالا گیا، وزارتِ خارجہ نے سائفر سے متعلق کوئی شکایت نہیں کی، سابق وزیرِ اعظم کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، رانا ثناء اللہ نے بطور وزیرِ داخلہ ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا کہا، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا دائرہ وسیع کر کے سابق وزیرِاعظم پر لاگو کیا گیا، آفیشل سیکریٹ ایکٹ افواجِ پاکستان سےمتعلق ہے جو ملکی دفاع سے جڑا ہے، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سائفر کا مقدمہ بنا ہے،سائفر کے خفیہ کوڈز کبھی سابق وزیرِ اعظم کے پاس تھے ہی نہیں،
جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ سائفرکا حکومت کو بتاتی ہےتاکہ خارجہ پالیسی میں مدد مل سکے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا مقصد ہی یہی ہے کہ حساس معلومات باہر کسی کو نہ جا سکیں، ڈپلومیٹک معلومات بھی حساس ہوتی ہیں لیکن ان کی نوعیت مختلف ہوتی ہے،وکیل نے کہا کہ امریکا میں پاکستانی سفیر اسد مجید نے سائفر حساس ترین دستاویز کے طور پر بھیجا تھا،جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ اس بات پر تو آپ متفق ہیں کہ حساس معلومات شیئرنہیں ہو سکتیں، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ دیکھنا یہی ہے کہ حساس معلومات شیئر ہوئی بھی ہیں یا نہیں، سابق وزیرِ اعظم کے خلاف سزائے موت یا عمر قید کی دفعات عائد ہی نہیں ہوتیں،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کسی سے شیئر نہیں کیا لیکن اسے آن ایئر تو کیا ہی گیا ہے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ وزارتِ خارجہ سے سائفر اعظم خان کو بطور پرنسپل سیکریٹری موصول ہوا تھا، جس میٹنگ میں سائفر سازش کی منصوبہ بندی کا الزام ہے وہ 28 مارچ 2022ء کو ہوئی، چالان کے مطابق جس جلسے میں سائفر لہرانے کا الزام ہے وہ 27 مارچ 2022ء کو ہوا تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اصل سائفر تو وزارتِ خارجہ میں ہے، وہ باہر گیا ہے تو یہ دفترِ خارجہ کا جرم ہے، سائفر کو عوام میں زیرِ بحث نہیں لایا جا سکتا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے تقریر میں کہا کہ وزیرِ اعظم کو سازش کا بتا دیا ہے، حلف کا پابند ہوں، اس بیان کے بعد شاہ محمود قریشی 125 دن سے جیل میں ہیں، وکیل سلمان صفدر نے پریڈ گراؤنڈ میں 27 مارچ 2022ء کے جلسے میں شاہ محمود قریشی کی تقریر پڑھ دی اور کہا کہ شاہ محمود نے تقریر میں کہا کہ بہت سے راز ہیں لیکن حلف کی وجہ سے سامنے نہیں رکھ سکتا،
دوران سماعت قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ وزیرِ خارجہ خود سمجھدار تھے، سمجھتے تھے کہ کیا بولنا ہے کیا نہیں،وزیرِ خارجہ نے کہا کہ بتا نہیں سکتا اور عمران خان کو پھنسا دیا، وزیرِ خارجہ نے عمران خان کو پھنسا دیا کہ آپ جانیں اور وہ جانیں، شاہ محمود خود بچ گئے اور عمران خان کو کہا کہ سائفر پڑھ دو، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان نے بھی پبلک سے کچھ شیئرنہیں کیا تھا، اگر سائفر پبلک ہو ہی چکا ہے تو پھر سائفر ٹرائل اِن کیمرا کیوں چاہیے پراسیکیوشن کو؟جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ کس بنیاد پر پراسیکیوشن سمجھتی ہے کہ ملزمان کو زیرِ حراست رکھنا ضروری ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم نے جلسے میں کہا تھا کہ میرے پاس یہ خط سازش کا ثبوت ہے، جلسے میں کہیں نہیں کہا کہ سائفر میں کیا ہے اور کہاں سے آیا ہے۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ سابق وزیرِ اعظم کو جیل میں رکھنے سے معاشرے کو کیا خطرہ ہو گا؟
قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ہدایت کی کہ اعظم خان کا بیان پڑھ دیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ دفعہ 164 کا بیان ملزم کا اعترافی بیان ہوتا ہے، اعظم خان کے اہلِ خانہ نے ان کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا، اعظم خان 2 ماہ لاپتہ رہے، یہ اغواء برائے بیان کا واقعہ ہے،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اغواء برائے تاوان تو سنا تھا، اغواء برائے بیان کیا ہوتا ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ میرے لیے سب سے آسان الفاظ اغواء برائے بیان کے ہی تھے،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اغواء برائے بیان ابھی اصطلاح ہے،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیا کہ کیا تفتیشی افسر نے اعظم خان کی گمشدگی پر تحقیقات کیں؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان کا بیان دباؤ کا نتیجہ ہے، تفتیشی افسر نے کوئی تحقیقات نہیں کیں، اعظم خان نے واپس آتے ہی سابق وزیرِ اعظم کے خلاف بیان دے دیا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حساس معاملہ ہے اور ہم کوئی آبزرویشنز دینا نہیں چاہتے،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہتر ہو گا کہ سیاسی دلائل نہ دیں، آپ کو معلوم ہی ہے کہ سیاسی دلائل پر کیسے فیصلے آیا کرتے ہیں
ایک ماہ اعظم خان خاموش کیوں رہا؟ کیا اعظم خان شمالی علاقہ جات گئے تھے؟ قائمقام چیف جسٹس
جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ اگر سائفر گم گیا تھا تو سلامتی کونسل کے دو اجلاسوں میں شہباز شریف نے کیوں نہیں بتایا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا تفتیشی افسر نے حساس دستاویزات پر مبنی ہدایت نامہ پڑھا ہے؟ تفتیشی رپورٹ میں کیا لکھا ہے کہ سائفر کب تک واپس کرنا لازمی ہے؟ نہ پراسیکیوٹر کو سمجھ آ رہی ہے نہ تفتیشی افسر کو تو انکوائری میں کیا سامنے آیا ہے؟ جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ کیا گواہان کے بیانات حلف پر ہیں؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ گواہی حلف پر ہوتی ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق گواہ اعظم خان کا بیان حلف پر نہیں ہے،کیا اعظم خان کی گمشدگی کی تحقیقات کی ہیں؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ اعظم خان نے واپس آنے کے ایک ماہ بعد بیان دیا، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ماہ اعظم خان خاموش کیوں رہا؟ کیا اعظم خان شمالی علاقہ جات گئے تھے؟ رضوان عباسی نے کہا کہ اعظم خان کے مطابق پی ٹی آئی کا ان پر دبائو تھا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عباسی صاحب ایسی بات نہ کریں جو ریکارڈ پر نہ ہو،قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ شہباز شریف نے کس دستاویز پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کیا تھا؟ رضوان عباسی نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں سائفر پیش ہوا تھا، قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا اصل سائفر پیش ہوا تھا؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ رضوا ن عباسی نے کہا کہ ڈی کوڈ کرنے کے بعد والی کاپی سلامتی کمیٹی میں پیش ہوئی تھی،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس میں سزائے موت کی دفعات بظاہر مفروضے پر ہیں، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا بنیادی مقصد ملکی سیکیورٹی کا تحفظ ہے، سائفر ڈسکلوز بھی ہوا تو کسی غیرملکی قوت کو کیسے فائدہ پہنچا؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جو دستاویزات آپ دکھا رہے ہیں اس کے مطابق تو غیرملکی طاقت کا نقصان ہوا ہے، انتخابات 8 فروری کو ہیں اور جو شخص جیل میں ہے وہ ایک بڑی جماعت کی نمائندگی کرتا ہے، کیا حکومت 1970 اور 1977 والے حالات چاہتی ہے؟ نگران حکومت نے آپ کو ضمانت کی مخالفت کرنے کی ہدایت کی ہے؟ ہر دور میں سیاسی رہنمائوں کیساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟سابق وزیراعظم کے جیل کے باہر آنے سے کیا نقصان ہوگا؟ اس وقت سوال عام انتخابات کا ہے، اس وقت عمران خان نہیں عوام کے حقوق کا معاملہ ہے، عدالت بنیادی حقوق کی محافظ ہے، سابق وزیراعظم پر جرم ثابت نہیں ہوا وہ معصوم ہیں،
آج سرکار ثابت نہیں کر سکی کہ یہ سزائے موت کا کیس ہے،سائفر کیس سے ہوا نکل گئی،وکیل عمران خان
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی وکلاء نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکی ہے، بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں چار گھنٹے تک سماعت جاری رہی، سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں بانی چیئرمین اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی، سائفر کیس میں ایف آئی اے نے بلاجواز گرفتاری کر رکھی ہے، سائفر کیس حقیقی معنوں میں آج صفر ہو چکا ہے، سابق وزیر خارجہ کو بلاوجہ 125 دن تک جیل میں رکھا گیا،شاہ محمود قریشی اس آرڈر کے بعد رہائی کے حقدار ہیں،آج سرکار ثابت نہیں کر سکی کہ یہ سزائے موت کا کیس ہے،سائفر کیس سے ہوا نکل گئی،
شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتقام پر مبنی کیس تھا، سپریم کورٹ نے آج شاہ محمود قریشی کو ضمانت دی ہے، آج ہمیں خوشی ہوئی کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور میرے والد کو ضمانت ملی، قید تنہائی میں میرے والد نے چار ماہ گزارے ہیں،
عمران خان کم سے کم ایک سال جیل میں رہیں گے،سائفر کیس کے فیصلے کے بعد صحافی کا دعویٰ
سپریم کورٹ سے سائفر کیس میں عمران خان کی ضمانت منظوری کے بعد صحافی حسن ایوب نے سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کم سے کم ایک سال جیل میں ہی رہینگے جبکہ دوسری جانب راوی بھی چین ہی چین لکھتا رہے گا ۔
عمران خان کم سے کم ایک سال جیل میں ہی رہینگے جبکہ دوسری جانب راوی بھی چین ہی چین لکھتا رہے گا ۔
— Hassan Ayub Khan (@HassanAyub82) December 22, 2023
سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی
سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان
سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار
سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ
سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی
سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد
اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم
سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے
سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت