سائفر کیس، انصاف نہ صرف ہوگا بلکہ ہوتا نظر بھی آئےگا، جج

0
321
imran khan shah mehmod qureshi

افیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت،چئیرمین پی ٹی آئی اور وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کے خلاف کیس سائفر کیس کی سماعت ہوئی

کیس کی سماعت آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی،چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنیں کمرہ عدالت میں موجود تھیں،شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری عدالت پیش ہوئے،جج نے استفسار کیا کہ کیا اڈیالہ جیل میں ٹرائل کا کوئی نوٹیفکیشن آیا ہے؟ عدالتی عملہ نے کہا کہ ابھی تک جیل میں ٹرائل کا کوئی نوٹیفکیشن نہیں آیا ، جج نے کہا کہ جیل میں ٹرائل کا نوٹیفکیشن آجائے پھر دیکھ لیتے ہیں، وکیل علی بخاری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی حد تک کوئی رپورٹ نہیں، انہیں تو پیش کریں، بیرسٹر تیمور ملک نے کہا کہ عدالتی حکم پر چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کو آج عدالت پیش کرنا چاہیے تھا، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ آپ گزشتہ سماعت کا فیصلہ پڑھیں،

آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا سائفرکیس کی گزشتہ سماعت کا آرڈر پڑھا گیا، عدالت نے کہا کہ جیل میں ٹرائل کا نوٹیفکیشن آجائے تو ہم دیکھ لیتے ہیں، جیل میں ٹرائل کا نوٹیفکیشن نہیں آیا تو ہم پروڈکشن آرڈر کروایں گے، وکیل صفائی نے کہا کہ عدالت کا 23 نومبر کو چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کی پروڈکشن کا آرڈر تھا، پھر خصوصی عدالت نے اپنے ہی آرڈر پر نظر ثانی کردی ، سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے گزشتہ سماعت پر عدالت کو خط بھیجاتھا،آپ کا آرڈر جیل میں ٹرائل کے حوالے سے قانونی طور پر درست نہیں ہے، اڈیالہ جیل ممنوعہ علاقہ ہے جہاں ویڈیو اور فوٹوگرافی ممنوع ہے، یہ طے ہونا چاہیے کہ صحافیوں کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے استفسار کیا کہ کیا خطرات کے حوالے سے دیکھنا عدالت کا اختیار ہے ؟ وکیل صفائی نے کہا کہ اگر کوئی ایڈیشنل آئی جی کہہ دے تو ناکافی ہے، منسلک رپورٹس بھی ہونی چاہیے ،جج نے کہا کہ جیل سپرنٹینڈنٹ کے خط کے ساتھ سیکیورٹی رپورٹس بھی منسلک ہیں،وکیل صفائی نے کہا کہ جیل مینوئل میں لکھا ہے اڈیالہ جیل ممنوعہ جگہ ہے، موبائل استعمال نہیں ہوسکتا ،جج نے کہا کہ صحافیوں کی موجودگی جیل میں ٹرائل کے دوران ضروری ہوگی ،وکیل صفائی نے کہا کہ آپ کو جیل کو عدالت ڈیکلیئر کرنے کے ساتھ اس کو غیر ممنوعہ جگہ بھی ڈیکلیئر کرنا پڑے گا ، جج نے کہا کہ بالکل ہوگا اور صحافیوں کی موجودگی بھی جیل میں ٹرائل کے دوران ہوگی ، وکیل علی بخاری نے کہا کہ آپ کا آرڈر مکمل نہیں ہے کیونکہ شاہ محمود قریشی کے حوالے سے کچھ نہیں لکھا، اس آرڈر میں وجوہات کا ذکر موجود نہیں کہ آخر کیوں جیل میں سماعت ہورہی، وزارتِ قانون نے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا، خصوصی عدالت ہائیکورٹ کے احکامات کی پابند ہے،شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کرنے کی زمہ داری سیکیورٹی کی ہے،فردجرم، نقول کی تقسیم سب کچھ ملزم کی موجودگی میں ہونا چاہیے،سائفرکیس کی آج کی سماعت کا اختتام کیا ہوگا؟ کیا وزارتِ قانون کو ڈائریکشن عدالت دے سکتی؟ نہیں دے سکتی،شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کرنے پر اب بھی سوالیہ نشان ہے،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ انصاف نہ صرف ہوگا بلکہ ہوتا نظر بھی آئےگا،
خصوصی عدالت جیل میں ٹرائل کرنے کی پابند تھی لیکن سماعت جیل سے مشروط ہے، میں وزارت قانون کے نوٹیفیکیشن کا انتظار کررہاہوں، اگر نوٹیفیکیشن نہ آیا تو میں ملزمان کو عدالت پیش کرنے کا نوٹس جاری کروں گا، وکیل صفائی نے کہا کہ عدالت ہی ادھر لے جائیں،جج نے کہا کہ عدالت لے چلیں گے جیل میں فکر نہ کریں، ٹرائل پینڈنگ ہے، چیئرمین پی ٹی آئی اصل ملزم ہے، شاہ محمود قریشی شریک ملزم ہیں، عدالتی سماعت کی وجہ سے ہائیکورٹ نے اب تک کی سماعتیں غیرقانونی قرار نہیں دیں، اوپن کورٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہائیکورٹ نے اب تک کے ٹرائل کو غیرقانونی قرار دیاتھا، وکیل صفائی نے کہا کہ خصوصی عدالت کے گزشتہ آرڈر کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کو قید رکھنا غیرقانونی ہے، اسپیشل پراسیکیوٹر زولفقار نقوی نے کہا کہ وزارتِ قانون کے نوٹیفیکیشن کا آج انتظار کرلیں،جج نے کہا کہ دھوپ سیکیں، نوٹیفیکیشن کا انتظار کریں،

آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت ،چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹیفکیشن آگیاہے، اس کیس کو کل کیلئے رکھ لیتے ہیں۔ وکلاء نے کہا کہ کل کیسے مینج ہوگا۔عدالت نے کہا کہ ہائیکورٹ احکامات بھی ہیں، کل حاضری لگا لیں گے۔علی بخاری ایڈووکیٹ کی استدعا پر عدالتی عملہ نے نوٹیفکیشن پڑھا، جج ابوالحسنات نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کے حوالے سے بھی نوٹیفکیشن میں تحریر کیاگیاہے، درخواست نمٹادی ہے۔وکیل نے کہا کہ ابھی تو اس پر دلائل بھی نہیں ہوئے۔عدالت نے کہا کہ کل جیل میں دے دینا پھر۔ان کی پروڈکشن کا مسئلہ ہے، کل اگلی تاریخ دے دیں گے۔وکیل نے کہا کہ کچھ وکلاء لاہور سے آئے ہوئے، ہماری بھی دیگر کیسز میں تاریخیں ہوتی ہیں۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ آج کی کرلیں حاضری ہی لگانی ہے۔
اسپیشل پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے آج ہی اڈیالہ جیل میں سماعت مقرر کرنے کی استدعا کردی،عدالت میں کہا کہ میں تو آج ہی اڈیالہ جیل میں سماعت مقرر کرنے کے حق میں ہوں،عدالت نے کہا کہ میں نے اطلاع دینی ہے دوسرے اقدامات ہونے ہیں آج ہی کیسے کریں۔نوٹیفکیشن کے بغیر بھی کیسے جاسکتا ہوں۔ وکلاء نے کہا کہ اگلے ہفتے کیلئے رکھ لیں۔وکیل علی بخاری نے کہا کہ کبھی نہیں کہتے تاخیر کریں، لمبی تاریخیں رکھیں۔ ہفتے کو ہائیکورٹ، سپریم کورٹ بند ہوتی ہیں، لیکن ٹرائل کورٹس میں ہمارے کیسز ہوتے ہیں، ہفتہ اور پیر کے روز ہمارے لیے اہم ہوتے ہیں، 5 دسمبر رکھ لیں۔
پی ٹی آئی وکلاء کی جانب سے 5 دسمبر تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی، جج نے کہا کہ 5 دسمبر کو سماعت رکھ لیں گے لیکن حاضری کے حوالے سے تو سماعت رکھنی ہے نا، پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ آج چیئرمین پی ٹی آئی کی حاضری مقرر تھی، اس بات پر کیا کہیں گے؟ جج نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو اطلاع کرنی تھی اور وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کا انتظار تھا آج، پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ ہم انتظار کرلیتےہیں، آپ آج ملزمان کو جوڈیشل کمپلیکس پیش کروا دیں،اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے کہا کہ چاہتےکیا ہیں؟ ڈیڑھ گھنٹے سے یہی باتیں کررہےہیں، وکیل علی بخاری نے کہا کہ کوئی اسٹے نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے، اسلام ہائیکورٹ اور نہ آپ نے اپنا آرڈر پر عملدرآمد کروایا، انٹراکورٹ اپیل پر حکم کے خلاف سپریم کورٹ جانا پڑتا ہے۔سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کر دی گئی.

چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے جیل ٹرائل کے حکم نامے کیخلاف درخواست دائر
آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت،چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے جیل ٹرائل کے حکم نامے کیخلاف درخواست دائر کر دی گئی،خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت میں درخواست دائر کردی گئی،درخواست میں کہا گیا کہ اس عدالت نے 23 نومبر 2023 کو حکم دیا کہ 28 نومبر کو ملزمان کو جوڈیشل کمپلیکس پیش کیا جائے، عدالت نے 28 نومبر کو جیل ٹرائل کا حکم دے دیا، 23 نومبر کے حکم نامے کی موجودگی میں 28 نومبر کا حکم نامہ غیر قانونی ہے، عدالت 23 نومبر 2023 کے حکم نامے پر عملدرآمد کروائے، 21 نومبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل ٹرائل کو اوپن کورٹ نہ ہونے کے باعث کالعدم قرار دے دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں 23 نومبر کو خصوصی عدالت نے ملزمان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے،28 نومبر کو اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے خط کے ذریعے عدالت کو پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد سے روکا، خصوصی عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خط پر انحصار کرتے ہوئے ٹرائل جیل میں کرنے کے احکامات جاری کردیئے، خصوصی عدالت کا 28 نومبر کا جیل ٹرائل کا حکم نامہ 23 نومبر کے پروڈکشن آرڈر کے حکم نامے پر نظر ثانی ہے، اپنے احکامات پر نظر ثانی کرنا اس عدالت کا مینڈیٹ نہیں ہے،خصوصی عدالت نے جیل ٹرائل کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے یہ بھی ملحوظ خاطر نہ رکھا کہ اس سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہوگی،خصوصی عدالت کا جیل ٹرائل کا حکم نامہ نہ صرف غیر قانونی بلکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے، جیل ایک ممنوعہ جگہ ہے جہاں فوٹوگرافی، بغیر اجازت داخلہ منع ہے، ایک ہائی سکیورٹی جیل کو اوپن عدالت اور عوام کی رسائی میں قرار دینا سمجھ سے بالا تر ہے،

Leave a reply