طور خم گیٹ وے پر سیاسی رشوت میں اضافہ، ایماندار تاجر پریشان، مسئلہ کمیٹی میں پیش

ایوان بالاء کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں 3مارچ 2020کو منعقد ہونے والے کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد، چمن کسٹم گیٹ وے، بادینی کسٹم گیٹ وے اور طور خم کسٹم گیٹ وے پر گزشتہ 6ماہ کے دوران تمام ایمپورٹ ایکسپورٹ کی تفصیلات، چمن کسٹم گیٹ وے پر بے شمار کاروباری حضرات کو ایمپورٹ ایکسپورٹ کی اجازت نہ دینا، صوبہ بلوچستان سے خشک میوہ جات اور تربوز کی دیگر صوبوں میں ایکسپورٹ کی اجازت نہ دینے کی وجوہات، بزنس کمیونٹی کی ایمپورٹ ایکسپورٹ کی اشیاء اور خاص طور پر کوئٹہ اور کراچی کے شہروں میں کسٹم اتھارٹی کے سرپرائز وزٹ کے علاوہ یکم نومبر 202کو کراچی کی ٹائر شاپ مارکیٹ کے واقعہ کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑنے کہا کہ صوبہ بلوچستان ملک کا آدھا حصہ ہے پانی نہ ہونے کی وجہ سے 80فیصد زراعت ختم ہو چکی ہے۔ صوبے میں کان کنی کی بہتری کیلئے 63سال سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔بد قسمتی کی بات ہے کہ ملک کا پسماندہ ترین صوبہ ہونے کے باوجود بھی اس صوبے کی اجناس خاص طور پر خشک میوجات،تربو ز، سبزیاں، فروٹ و دیگر فصلوں کو ملک کے باقی صوبے میں لے جانے کی اجازت نہیں ہے جگہ جگہ تنگ کیا جاتا ہے اور ٹرکوں سے سامان تک نکال لیا جاتا ہے۔ ہمارے صوبے سے چلغوزے کا پیکٹ 1800روپے میں خرید کر 8سے 10ہزار میں فروخت کیا جاتا ہے۔ کسانوں، زمینداروں کا کوئی پرسان حال نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہی حال صوبہ خیبر پختونخواہ اور فاٹا و پاٹا کی عوام کے ساتھ بھی ہے لوگوں کو بار بار تنگ کیا جاتا ہے۔ کسٹم حکام دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ملکر مسائل حل کریں۔ جے ایس وزارت کامرس نے کہا کہ کسی بھی قانون کے تحت تاجروں کو روکنے کی اجازت نہیں ہے۔تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔

کمیٹی اجلاس میں 3مارچ 2020کو منعقدہ کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 25ویں ترمیم کے بعد سابق فاٹا و پاٹا کے اضلاع سمیت ژوب ڈویژن میں جون 2023تک انکم ٹیکس سے استثنیٰ دی گئی ہے اور سیل ٹیکس کے حوالے سے ان علاقوں کو جون 2023تک استثنیٰ حاصل ہے۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ ان علاقوں کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے فنکشنل کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ان علاقوں کو 2023کے بعد بھی مزید پانچ سال کے لئے استثنیٰ دی جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبہ بلوچستان سے کرومائٹ را کی شکل میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے اگر اُس کی فینشنگ کی جائے تو ملک و قوم کو اربوں کا فائدہ ہو گا۔ پروسیسنگ پلانٹ کیلئے صوبائی حکومت سے بات کی ہے مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ 5.5ملین ڈالر کی ویلو ایڈیشن ہو سکتی ہے صرف ایک پلانٹ لگانے سے۔

کمیٹی اجلاس میں چمن کسٹم گیٹ وے کو 24گھنٹے کھولنے کے حوالے سے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سٹاف کی کمی ہے 750آسامیوں کی سمری ایف پی ایس سی کے پاس پڑی ہے جبکہ تک بھرتی مکمل نہیں ہوتی بہتری ممکن نہیں ہے۔ فنکشنل کمیٹی نے ایف پی ایس سی کو کسٹم کی 750آسامیوں کی جلد سے جلد بھرتی مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن کو بھی 2023تک ٹیکس سے استثنیٰ دی گئی تھی مگر مالاکنڈ ڈویژن سے ایف ای ڈی وصول کی جا رہی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے فاٹا و پاٹا اور بلوچستان میں تمام ٹیکسز سے استثنیٰ کی سفارش کر دی۔

چمن کسٹم گیٹ وے، بادینی کسٹم گیٹ وے اور طور خم کسٹم گیٹ وے پر گزشتہ 6ماہ کے دوران تمام ایمپورٹ ایکسپورٹ کی تفصیلات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ چمن گیٹ وے اور طور خم گیٹ وے پر سیاسی رشوت بہت بڑھ چکی ہے۔ گیٹ وے رات کو بند ہونے کے باوجود مخصوص لوگوں کی گاڑیاں آئس کا نشہ، منشیات، اسلحہ و دیگر چیز یں لے کر گزاری جاتی ہیں اور لاکھوں کی رشوت وصول کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تاجر جو حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں انہیں بارڈر سے کراچی اور اسلام آباد پہنچنے کیلئے ہفتوں لگ جاتے ہیں۔ جگہ جگہ روک کر تنگ کیا جاتا ہے مگر جو من پسند لوگ ہیں جو ملک کو اربوں کا نقصان دے رہے ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں پرچی سسٹم فروغ پا چکا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صادق اچکزئی اور بنی بخش نامی افراد آئس، سیگریٹ، چھالیا اور دیگر منشیات پورے ملک میں سپلائی کر رہے ہیں اُنہیں کوئی پوچھتا تک نہیں ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ تمام ایکسپورٹرایمپورٹر ٹیکس ادا کرتے ہیں اُن کو تنگ نہ کیا جائے اور سمگلرز کے ساتھ سخت کارروائی کی جائے جو ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ طور خم بارڈر پر سیکنرز لگائے گئے ہیں جس سے پھل اور سبزیاں نقصان دے ہو جاتی ہیں اس کو چیک کرنا چاہئے۔ ایکسپورٹ کی بجائے ٹراذٹ کو ترجیح دیجاتی ہے اور سیکنر والے 8گھنٹے کام کرتے ہیں پھر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ طور خم سے پشاور آتے ہوئے مختلف اداروں کی جانب سے چیک پوسٹیں قائم کر کے بھی لوگوں کو بلاوجہ تنگ کیا جاتا ہے۔ ایک ہی جگہ تمام ادروں کے نمائندے چیکنگ کر سکتے ہیں۔ جے ایس وزارت مواصلات نے کہا کہ بار بار چیکنگ کا کام سے وزارت کا تعلق نہیں ہے متعلقہ اداروں کے ساتھ معاملہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کراچی میں پہلے ایک کنٹینر کا 60ڈالر کرایہ لیا جاتا تھا جس کو بڑھا کر چار سو سے زائد کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایکسپورٹ ختم ہوتی جا رہی ہے اور خاص طور پر کرومائٹ کا بزنس تباہ ہو رہا ہے۔ متعلقہ ادارے اس مسئلے کو جلد سے جلد حل کریں۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ ہمارے علاقے کے لوگ سخت محنت کر کے اپنی حالت بہتر کرتے ہیں کراچی میں کپڑا ٹائر و دیگر کاروبار کرتے ہیں۔سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے دور میں بھی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ہمارے لوگ اسلحہ منشیات وغیرہ کے کام نہیں کرتے بلکہ محنت سے روزگار کماتے ہیں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ کسٹم حکام کے اہلکار افتخار حسن عرف بِلاملک و قوم کیلئے بدنامی کا باعث ہیں۔کاروباری حضرات کو تنگ کرنا اس کا وطیرا ہے۔ افتحار حسن نے منظور جو عرصہ سے کراچی میں ٹائروں کا کاروبار کرتا ہے اس پر فائرنگ کی اوراس کا سامان بھی غیرقانونی طور پر قبضے میں کر لیا۔ منظور تاجر کو افتخار حسن نے دفتر بولا کر کسی اور کا سامان منظور پر ڈال کر پرچہ درج کرا دیا۔ انھوں نے کہا ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں رہی اشرافیہ،سول بیروکریسی،چوہدریوں،نوابوں اور بڑے سرمایہ کاروں کے لئے یہ ملک جنت بن چکا ہے مگر عام عوام کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ افتحار حسن جیسے لوگوں کے سامنے ہمارے ادارے تک بے بس ہو چکے ہیں۔

افتخار حسن کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے انٹرنل کمیٹی قائم کر کے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کی جائے۔ فنکشنل کمیٹی کو منظور کے بھائی نے کراچی کے واقعہ پر تفصیلی آگاہ کیا کمیٹی نے کسٹم حکام کو ملوث لوگوں کے خلاف ایکشن لینے کی سفارش کر دی۔ کسٹم حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کروائی کہ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کر کے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کر دی جائے گی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ پچھلے دنوں ایئرپورٹ پر 53 کلو سونا پکڑا گیادوسرے دن خبر موصول ہوئی کے تمام سونا جہاں حکام نے رکھوایا تھا چوری ہو گیا ہے اس کا آج تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا اس میں با اثر لوگ ملوث ہیں جنہوں نے سونا چوری کیا ہے۔کراچی اور بلوچستان کے کاروباری حضرات کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ کسٹم ڈیوٹی دینے کو تیار ہیں کسٹم کے گوداموں میں اربوں روپے کا سامان پڑا ہے جو مختصر وقت میں خراب ہو جاتا ہے کسٹم حکام نے کہا کہ تمام مسائل کو تحریری طور پر لکھ کر دے دیں جلد مسائل حل کر لیئے جائیں گے۔

فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز فدا محمد، سردار محمد شفیق ترین، محمد خالد بزنجواور نصرت شاہین کے علاوہ جوائنٹ سیکرٹری وزارت کامرس، چیف کسٹم ایف بی آر، ممبر کسٹم ایف بی آر، جوائنٹ سیکرٹری وزارت خزانہ، صوبہ بلوچستان اور کراچی کے کاروباری حضرات کے نمائندوں نے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.