fbpx

بھارت:ہندوؤں کے مقدس درخت کو کاٹنے پر نوجوان کو زندہ جلا دیا گیا

نئی دہلی: بھارت کی مشرقی ریاست میں ہندؤوں کے ’مقدس‘ درخت کو کاٹنے کے الزام میں مشتعل ہجوم نے 34 سالہ شخص پر بدترین تشدد کیا اور زندہ جلادیا۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جھارکھنڈ میں گزشتہ سال اکتوبر میں ’مقدس‘ درخت کو کاٹ دیا تھا۔

بعدازاں پولیس نے سنجو پردھان کی جلی ہوئی لاش برآمد کی، ہلاک ہونے شخص کا تعلق ریاست کے سمڈیگا ضلع کے چپریدیپا گاؤں سے تھا۔

برادری کی روایات کے مطابق کٹا گیا درخت مقدس تھا جسے سنجو پردھان کو زبردستی کاٹ دیا تھا۔پولیس افسر رامیشور بھگت نے بتایا کہ گاؤں والوں نے سنجو پردھان کے علاقے میں دیگر درختوں کو کاٹنے پر بھی ناراضگی ظاہر کی تھی۔

پولیس نے بتایا کہ سنجو پردھان کو مشتعل دیہاتیوں نے گھر سے گھسیٹ کر قریبی بیسراجرا گاؤں لے گئے اور اس کو قتل کر دیا گیا۔

دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارت بنیادی طور پر اپنے آئینی ، قانونی اور سیاسی فریم ورک میں ایک سیکولر ریاست ہے ۔لیکن عملی طور پر اس وقت بھارت کی جو تصویر ہم کو دنیا بھر میں نظر آ رہی ہے یا بالادست ہے وہ ہندواتہ کی بنیاد پر سیاست اور انتہا پسندی پر مبنی رجحانات ہیں۔بی جے پی ، آر ایس ایس سمیت دیگر ہندو انتہا پسند جماعتوں کی سیاست نے مودی کی قیادت میں اقلیتوں کے لیے سنگین مشکلات پیدا کردی ہیں ۔انتہا پسندی پر مبنی یہ رجحان محض بھارت کے لیے ہی نہیں بلکہ خطہ کی مجموعی سیاست کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے ۔

خود بھارت میں موجود سیکولر سیاست سے جڑے افراد یا ادارے مودی کی انتہا پسندی کی سیاست پر بنیادی نوعیت کے سوالات اٹھا رہے ہیں او ران کے بقول اگر مودی کی انتہا پسندی پر مبنی پالیسی کا یہ عمل جاری رہا تو ہم داخلی محاذ پر خود کو تنہا محسوس کریں گے ۔اس وقت بھارت میں انتہا پسندوں اور سیکولر طبقہ کے درمیان جاری سیاسی رسہ کشی ظاہر کرتی ہے کہ اس بحران نے مودی کی حکمرانی اور طرز عمل کو بھی چیلنج کیا ہے ۔