مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان :علی چاند

0
56

امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں امریکیوں اور ہندوستانیوں سے بھرے سٹیڈیم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم مودی نے ایک دوسرے کو تھپکی دیتے ہوٸے اس بات کا عزم کیا ہے کہ وہ دونوں مل کر دنیا سے اسلامی دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے ۔ یہ بات امریکی صدر نے کہی ہے کہ
” ہم بےقصور شہریوں کی انتہا پسند اسلامی دہشت گردی کے خطرہ سے حفاظت کے لئے پرعزم ہیں ”

کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنا عقل و شعور اور سمجھ ہوتی کہ کافر ، عیساٸی اور یہودی کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ۔ کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنی غیرت ہوتی کہ وہ اپنے مظلوم مسلمان بہن بھاٸیوں کی جہاد کے ساتھ مدد کرتے ہمارے حکمرانوں کا یہ المیہ ہے کہ وہ صرف معیشیت کا ہی رونا روتے رہتے ہیں ۔ یہ نہیں سوچتے کہ جنگیں ہار جیت اور معشیت کے لیے نہیں بلکہ اپنے وقار کے لیے لڑی جاتی ہیں ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت بہتر بنانے کے چکروں اپنا وقار مٹی میں ملا دیا ہے ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت کی خاطر ان ہندوٶں کو اپنے اپنے ملکوں میں نہ صرف مندر تعمیر کر کے دٸیے ہیں بلکہ ان مندروں کا افتتاح بھی اپنے ہاتھوں سے کر رہے ہیں ۔ یہی مسلمان حکمران ان یہود و ہنود کو نہ صرف مندر تعمیر کر کے دے رہے ہیں بلکہ انہیں اپنے اعلی سول اعزازات سے بھی نواز رہے ہیں ۔ کسی کو پچاس لاکھ ڈالر مالیت کا سونے کا ہار پہنایا جارہا ہے اور کسی کو سول اعزاز دیا جارہا ہے ۔ اور بدلے میں کیا مل رہا ہے ان مسلمان حکمرانوں کو ۔ خود ہم پاکستانی حکمران اپنی نمک جیسی نعمت کو انہی یہود و ہنود کو کوڑیوں کے دام دے رہے ہیں ۔ بدلے میں مسلمانوں کو کیا مل رہا ہے سود در سود قرض تلے ساری قوم جھکڑی جارہی ہے ۔

کشمیر ، فلسطین ، عراق ، برما ، وہ کون سا علاقہ ہے جہاں مسلمان محفوظ ہیں ۔ ؟ امریکہ ہو یا بھارت جیسا ملک مسلمانوں کو کہاں سکون لینے دے رہے ہیں ۔ اور مسلمان شہید ہورہے ہیں ، بچے یتیم ہورہے ہیں ، بہنوں بیٹیوں کے ساتھ جو ہو رہا اس پر تو اب تک شاید آسمان بھی پھٹ جاتا لیکن ان مسلمان بزدل حکمرانوں نے غیرت مند مسلمانوں کی بھی غیرت ڈالر اور معیشیت کے بدلے گروی رکھ دی ۔ ہر جگہ مسلمان اپنی عزتیں لٹا رہے ہیں ، جانیں دے رہے ہیں پھر بھی ملا کیا اسلامی دہشت گردی کا طعنہ ؟ بزدل حکمرانوں نے جتنا امن امن کا راگ الاپا اتنا ہی ہم دہشت گرد ٹھہرے ۔ وجہ صرف اور صرف ہمارے حکمرانوں کی بزدلی اور پھر اس بزدلی کو امن کا نام دینا ۔ محمد بن قاسم صرف ایک مسلمان بچی کی فریاد پر پورا سندھ ہلا گے ۔ نا معیشیت کا سوچا نہ امن کا سوچا ۔ ہے کسی کی جرأت کے محمد بن قاسم کو دہشت گرد لکھے ؟ محمود غزنوی جس نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے سو منات کا مندر توڑا ، سترہ حملے کرتے وقت محمود غزنوی نے معیشیت کا سوچا ؟ سو منات کا مندر توڑتے وقت محمود غزنوی نے سوچا کہ دنیا مجھے دہشت گردکہے گی ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مسلمان بزدلی کو امن کا نام نہیں دیتے بلکہ غیرت مند ہوتے ہیں ۔ہے کسی کی جرأت کے محمود غزنوی کو دہشت گرد لکھے ؟ ٹیپو سلطان نے جنگ کی جنگ ہار گے لیکن کسی بزدل یہود وہنود کے آگے گھٹنے نہ ٹیکے ۔ ہے کسی کی جرأت کہ ٹیپو سلطان کو ہارا ہوا لکھے ۔ تاریخ ہارا ہوا اور دہشت گرد صرف اسی کو لکھتی ہے جو بزدلی کو امن کا نام دے کر گھٹنے ٹیک لے ۔

غیرت مندوں کو ہارا ہوا اور دہشت گرد لکھنے کی جرأت کسی میں نہیں ہوتی ۔ طارق بن زیاد ، صلاح الدین ایوبی ، محمد بن قاسم ، محمود غزنوی ، ٹیپو سلطان ان سب کو کیا اسلام امن کا درس نہیں دیتا تھا ؟ کیا اسلام امن کا درس صرف آج کے ڈرپوک بزدل اور ڈالر کے غلام مسلمان حکمرانوں کو دیتا ہے ؟ مسلمان دہشت گرد نہیں ۔ نہ ہی بزدل ہوتا ہے ۔ مسلمان صرف اور صرف غیرت مند ہوتا ہے ۔

مودی اور ٹرمپ کے بیان کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان حکمران غیرت کی گولی کھاٸیں اور ایسے غیرت اور جرأت مندانہ خطاب کریں کہ ان نمک حرام یہود و ہنود کی نیندیں حرام ہو جاٸیں ۔ اور انہیں نہ صرف مسلم مقبوضہ علاقے خالی کرنے پڑیں بلکہ اپنی معیشیت کی بھی فکر لاحق ہوجاٸے ۔ لیکن ایسا صرف تبھی ممکن ہوگا جب مسلمان حکمران غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ ابھی ساری دنیا کی نظریں وزیر اعظم عمران خاں اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان پر لگی ہوٸی ہیں ۔ عرب حکمران تو ان یہود و ہنود کے ہاتھوں کٹھ پتلیاں بن کر انہیں اعلی اعزازات سے نواز رہے ہیں وہ کیا جواب دیں گے اور کیا غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ یہ ہی وقت ہے جب عمران خان پوری امت کا دل جیت بھی سکتے ہیں اور پوری امت کے دل سے اتر بھی سکتے ہیں ۔ یہی وہ وقت ہے جب عمران خاں یا تو ہیرو بن جاٸے گا یا پھر زیرو ۔

اللہ پاک مسلمان حکمرانوں کے دل سے یہود و ہنود اور ڈالر کی محبت نکال کر انہیں جرأت مندی اور غیرت کا مظاہرہ کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

Leave a reply