fbpx

بھارت کو 646 ارب ڈالر کا نقصان

واشنگٹن: بھارت میں مسلسل بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کی وجہ سے ملک کو مالی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ سی اے اے/این آر سی، کسانوں کی تحریک، پیغمبر اسلام کے تنازعہ کے بعد ہندوستانی فوج کے لیے لاگو کی گئی اگنی پتھ اسکیم کی وجہ سے ملک میں بڑے پیمانے پر تشدد کی وجہ سے ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گلوبل پیس انڈیکس میں ہندوستان 163 ممالک میں 135 ویں نمبر پر ہے۔ ان پرتشدد واقعات میں بھارت کو 646 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ اس رقم سے ملک کا بجٹ بڑھایا جا سکتا تھا۔ مختلف فلاحی اسکیمیں لاگو کی جا سکتی تھیں لیکن تشدد کی آگ نے سب کچھ تباہ کر دیا۔

بھارتی فوج میں بھرتی کا نیا قانون اگنی پتھ،بھارت میں جلاؤ گھیراؤ،ٹرینیں نذر آتش

بھارت کے پڑوسی ممالک پاکستان اور چین بالترتیب 54 ویں اور 138 ویں نمبر پر ہیں۔ہندوستان میں تشدد کی اقتصادی لاگت مجموعی گھریلو پیداوار(جی ڈی پی) کا چھ فیصد ہے۔ یعنی ہندوستان کی جی ڈی پی کا چھ فیصد صرف تشدد میں تباہ ہوا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں ملک میں کئی مسائل پر پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے کرفیو، انٹرنیٹ بند جیسے سخت قدم اٹھا نے پڑے ہیں۔ ان کے علاوہ دہشت گردی اور نکسلائیٹ حملوں کی وجہ سے بھی ملک کو کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔

عرب امارات نے بھارت سے گندم ، گندم سے بننے والی مصنوعات کے معاہدے منسوخ کردیئے

ان واقعات میں جان و مال کے نقصان کے علاوہ ملک کو بالواسطہ اور بلاواسطہ نقصان بھی اٹھانا پڑاہے۔ گلوبل پیس انڈیکس 2022 کی رپورٹ کے مطابق پرتشدد اندرونی تنازعات کا سامنا کرنے والے ممالک کی تعداد 29 سے بڑھ کر 38 ہو گئی ہے تاہم 2017 سے اندرونی تنازعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ جنوبی ایشیا افریقہ کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ پریشان کن خطہ رہا ہے۔ شام، جنوبی سوڈان اور وسطی افریقی جمہوریہ میں تشدد سے سب سے زیادہ معاشی نقصان ہوا ہے۔ جبکہ آئس لینڈ، کوسوو اور سوئٹزرلینڈ سب سے کم متاثر ہوئے ہیں۔

بھارت میں سزاکےطورپرمسلمانوں کےمکانات کی مسماری اوراُن پربین اقوامی قوانین…

2022 کی رپورٹ کے مطابق آئس لینڈ دنیا کا سب سے پرسکون ملک رہا ہے۔ نیوزی لینڈ دوسرے اور آئرلینڈ تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان سب سے زیادہ پریشان ممالک میں سرفہرست ہے۔ 163 ممالک کے اس انڈیکس میں افغانستان بھی آخری نمبر پر ہے۔ اس پر یمن اور شام کا قبضہ ہے۔ یہ تینوں ممالک دہشت گردی اور خانہ جنگی کا شدید سامنا کر رہے ہیں۔