بھارت میں روزانہ کتنی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ اعدادو شمار سامنے آ گئے

0
98

بھارت میں روزانہ کتنی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ اعدادو شمار سامنے آ گئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں جرائم کے تازہ ترین سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں یومیہ بنیادوں پر قتل کے اوسطا 80، جنسی زیادتی کے 91 اور اغوا کے 289واقعات پیش آتے ہیں۔جرائم کے اعدادو شمار یکجا کرنے والے سرکاری ادارے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو(این سی آر بی)کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں 2018میں اوسطا ہر روز 91 خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کی شکایت درج کرائی گئی۔

دو سال بعد جاری کی گئی رپورٹ کے یہ اعداد وشمار بھارت میں خواتین کی سلامتی کے حوالے سے تشویش ناک صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں۔ 2012میں ایک بس میں پیرا میڈیکل طالبہ نربھیاکے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعے کے بعد ہزارہا افراد سڑکوں پر نکل آئے تھے اورمجرموں کے لیے سخت قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ لیکن قانون سازی کے باوجود خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات کا سلسلہ کم نہیں ہو رہا ہے۔

این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق2018میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے33356 معاملات درج کرائے گئے۔ 2017 میں یہ تعداد 32559تھی۔ جب کہ’خواتین کے خلاف جرائم’ کے مجموعی طور پر تین لاکھ 78ہزار 277معاملات درج کیے گئے۔ 2017 میں یہ تعداد تین لاکھ 59 ہزار 894 تھی۔

افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ 2018میں قصورواروں کو سزا دینے کی شرح محض ستائیس فیصد رہی،2017میں یہ شرح بتیس فیصد سے زیادہ تھی۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیوروکی رپورٹ کے مطابق قتل کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 2018کے اعدادو شمار کے مطابق ملک میں ہر روز اوسطا تقریبا80 لوگوں کا قتل کیا گیا۔ سال 2017 میں قتل کے 28653واقعات جب کہ 2018میں 29017واقعات ریکارڈکیے گئے۔ یعنی قتل کے واقعات میں ایک اعشاریہ تین فیصد کا اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق قتل کی سب سے بڑی وجہ ‘تنازعات’ رہی جب کہ ‘ذاتی دشمنی’ اور’مفادات’ بھی قتل کی دیگر دو اہم وجوہات رہیں۔ اغوا کے واقعات میں 2017کے مقابلے 2018میں 10.3فیصد کا اضافہ ہوا۔ 2017میں اغوا کے پچانوے ہزار 893 واقعات جب کہ 2018میں ایک لاکھ پانچ ہزار 734 کیسزدرج کیے گئے۔2016میں اغوا کے اٹھاسی ہزار آٹھ واقعات درج کرائے گئے تھے۔ 2019میں بانوے ہزار137اغوا شدہ افراد کا پتہ لگالیا گیا لیکن ان میں سے 428مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔

فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، پولیس کو ملیں صرف خواتین ،پولیس نے کیا کام سرانجام دیا؟

جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

این سی آر بی کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت میں ہر روزبچوں کے خلاف 350سے زیادہ جرائم کے واقعات پیش آتے ہیں۔ 2017میں بچوں کے خلاف استحصال کے تقریباایک لاکھ تیس ہزار واقعات درج کیے گئے۔ بچوں کے ساتھ استحصال اور جنسی زیادتی کے ایک لاکھ 66ہزار معاملات عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ حکومت نے گوکہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کو روکنے کے لیے پوسکو(بچوں کو جنسی زیادتی سے تحفظ)قانون بنایا ہے لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوپارہا ہے۔

Leave a reply