بھارت، ٹیلی کام سیکٹر کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

0
23

بھارتی معیشت زوال کا شکار ہے اور ملک میں بے روزگاری عام ہوتی جا رہی ہے۔

بھارتی معیشت کو جھٹکا، اگست میں 8 بنیادی صنعتوں کی پیداوار میں کمی

بھارتی میڈیا کے مطابق ٹیلی کام سیکٹر میں اگلے چھ ماہ کے دوران40ہزار ملازمتیں کم ہو سکتی ہیں۔بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹیلی کام کمپنیوں کو اے جی آر تنازعہ پر محکمہ ٹیلی کام کو 92641 کروڑ روپے کی ادائیگی کرنی ہے۔اس لیے کمپنیوں کو تقریباً 20 فیصد تک اپنے ملازمین کو کم کرنا ہوگا۔ آنے والے وقت میں یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ملازمتوں میں کٹوتی 40 ہزار سے بھی کافی زیادہ ہو سکتی ہے۔

اس حوالے سے سی آئی ای ایل ایچ آر سروسز میں ڈائریکٹر اور سی ای او آدتیہ نارائن مشرا کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد ٹیلی کام کمپنیوں میں تقریباً 40 ہزار ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کمپنیوں کو 92641 کروڑ روپے محکمہ ٹیلی مواصلات کو دینے کے لیے کہا ہے۔ اس لیے آئندہ چھ ماہ کے دوران بھارتی ٹیلی کام سیکٹر میں 40 ہزار ملازمتیں ختم ہو جائیں گی ۔ علاوہ ازیں اگر کوئی موجودہ آپریٹر دیوالیہ ہوجاتا ہے تو اس تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

بھارتی معیشت کا برا حال، جی ڈی پی کی شرح 6 سالوں میں سب سے کم!

واضح رہے کہ بھارت میں ٹیلی کام کمپنیوں میں تقریباً 2 لاکھ لوگ کام کرتے ہیں۔ اس طرح 40 ہزار ملازمتیں ختم ہوتی ہیں تو یہ کل ورک فورس کا 20 فیصد ہوگا۔

2024 تک 5ٹریلین ڈالر کی بھارتی معیشت، بھارتی سیاستدان نے بڑا دعوی کر دیا

آدتیہ نارائن مشرا کا مزید کہنا تھا ”موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیاں زبردست مصیبت میں ہیں۔ یہ حالات اس قدر سنگین ہیں کہ کچھ اور کمپنیاں بھی دیوالیہ ہو سکتی ہیں۔“

یاد رہے کہ اے جی آر تنازعہ میں ائیر ٹیل اور ووڈا فون آئیڈیا جیسی ٹیلی کام کمپنیوں کے اکاونٹس کوبڑا جھٹکا لگنے والا ہے۔ ائیر ٹیل کمپنی کو متنازعہ رقم کا تقریباً 23.4 فیصد یعنی تقریباً 21682 کروڑ روپے دینا ہوگا۔ جبکہ ووڈافون آئیڈیا کی ادائیگی اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس کمپنی کو 30.55 فیصد یعنی تقریباً 28308 کروڑ روپے محکمہ ٹیلی کام کو ادا کرنے ہوں گے۔

Leave a reply