بھارت: دماغی وائرس سے100 سے زیادہ بچے ہلاک

0
70

بھارتی ریاست بہار میں دماغی بیماری کے باعث ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔
بھارتی حکام کےمطابق دماغی بیماری کا تعلق لیچی کے پھل سے جڑے وائرس سے ہے جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت ہلاکتوں کی اصل وجہ معلوم کرنے میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اس بیماری کا ذمہ دار لیچی کے پھل کو ٹھہرا رہی ہےحالانکہ ایسا نہیں ہےبعض لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ حکومت کا مؤقف لیچی کے خلاف ایک منظم سازش ہے۔
ریاست بہاررواں سال جون کے آغاز سے ’ایکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم‘ نامی وائرس کے پھیلاؤ کا مقابلہ کر رہی ہے۔ریاست کے شہرمظفرپورمیں واقع کرشنا میڈیکل کالج اور ہسپتال میں اب تک 85 بچوں کی موت واقع ہو چکی ہے جبکہ ایک نجی ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق 18 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ وائرس مقامی طور پر ’چمکی بخار‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور 2014 میں اس نے 150 لوگوں کی جان لی تھی

چند سال پہلے امریکی محققین نے تصدیق کی تھی کہ دماغی بیماری کا تعلق کسی پھل میں موجود زہریلے مواد سے ہے، تاہم انہوں نے لیچی میں یہ زہر ہونے کی تصدیق نہیں کی تھی۔ محققین نے واضح کیا تھا کہ بیماری کی تہہ تک پہنچنے کے لیے مزید تحقیق کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بیماری سے مرگی، دماغی حالت میں تبدیلی یا پھرموت واقع ہو سکتی ہے۔ یہ وائرس مقامی طور پر ’چمکی بخار‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور 2014 میں اس نے 150 لوگوں کی جان لی تھی۔ چمکی بخار 1995 سے ہر سال موسم گرما میں ریاست بہار کے ایک ہی ضلع میں پھیلتا ہے، جو لیچی کے پیدا ہونے کا موسم بھی ہے۔یہ وائرس بنگلہ دیش اور ویتنام کے لیچی اگانے والے علاقوں میں بھی پایا گیا ہے۔

انڈیا کی شمالی ریاست بہارکا شمار ملک کی غریب ترین ریاستوں میں ہوتا ہے۔ اس کی آبادی 10 کروڑ ہے اور اس وقت شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں بھی ہے جس کی وجہ سے 78 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے بیشتر کی عمر 50 سال سے زیادہ ہے۔

Leave a reply