fbpx

اسلام آباد ایئرپورٹ قطرکو دینے کا ممکنہ اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا

پی آئی اے کے 51فیصد شئیرز اور اسلام آباد ایئر پورٹ کا کنٹرول قطر کو دینے کا ممکنہ اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔

درخواست ایڈوکیٹ نبیل کاہلوں نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی ہے ،درخواست میں وفاقی حکومت، سول ایوی ایشن ، وزارت خارجہ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار کا موقف ہے کہ حکومت پی آئی اے کی 51 فیصد اونرشپ اور اسلام آباد ائیر پورٹ کا کنٹرول قطر حکومت کے حوالے کرنے کا معاہدہ کررہی ہے۔ ڈیل کے نتیجے میں پی آئی اے کی ملکیت نیویارک میں روزویلٹ ہوٹل بھی قطر کو دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کے حالیہ قطر کے دورے میں ڈیل کو فائنل کر لیا گیا ہے۔ حکومت پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر ہی قطر سے ڈیل کر رہی ہے ۔ استدعا ہے کہ عدالت حکومت کی جانب سے قطر کے ساتھ ہونے والی ڈیل روکنے کے احکامات دے۔

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ سکیم میں پلاٹوں کی بیلٹنگ کا عمل روک دیا۔ عدالت نے فائونڈیشن کے چیئرمین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

واضح رہے گزشتہ دنوں خبریں‌آئی تھی کہ: وفاقی حکومت نے قطر کو روزویلٹ ہوٹل نیو یارک، قومی ایئرلائن پی آئی اے میں 51 فیصد حصص پیش کرنے اور اسلام آباد ایئرپورٹ کا انتظام دینے کا فیصلہ کرلیا ہے. ٹریبیون نے باوثوق ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا تھا کہ حکومت نے قطر کو روزویلٹ ہوٹل نیویارک اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) میں 51 فیصد حصص پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے.

یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ فیصلہ اس وقت اگلے ہفتے 22 سے 23 اگست تک متوقع اپنے دورہ قطر کی تیاریوں کے لیے بلائے گئے اجلاس کے دوران کیا تھا، اجلاس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی شرکت کی تھی۔ ذرائع سے معلوم ہوا تھا کہ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا انتظام قطر کو دینے کے ساتھ ساتھ ایئر اور کارگو کے کاروبار کی بھی پیشکش کی جائے، اجلاس کے شرکاء نے تجویز پیش کی کہ پاکستان کو اوپن اسکائی پالیسی کے تحت قطر کو مزید پروازیں بھی پیش کرنی چاہئیں تاکہ بولی کو پرکشش بنایا جا سکے، ان اثاثوں کی فروخت کو تیزی سے ٹریک کرنے کے لیے وفاقی کابینہ نے پہلے ہی ایک بل کی منظوری دے دی ہے۔