fbpx

اسلام_مخالف_بل_نامنظور ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

ان دنوں مذہب کی جبری تبدیلی کے ایک قانونی بل کے مسودے کا چرچا ہے وزارت مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل شیریں مزاری کی وزارت انسانی حقوق سے بھی مجوزہ بل کا مسودہ مانگ رہی ہے مگر اس وزارت کے طاقتور اہلکاروں کا موقف ہے کہ وہ یہ مسودہ دینے کے پابند نہیں‘ مجوزہ بل کے ذریعے کسی بھی غیر مسلم کے قبول اسلام کو جرم قرار دینے اور کسی غیر مسلم کو بذریعہ تبلیغ‘ نصیحت و حسن اخلاق اسلام کی طرف راغب کرنے والے شخص کو اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کی آڑ میں سزا دلانے کا پکا بندوبست کیا گیا ہے۔

چند برس قبل سندھ اور پھر رحیم یار خان میں عاقل بالغ ہندو خواتین نے اسلام قبول کرکے مسلم نوجوانوں سے نکاح کیا‘ جس پر غیر ملکی فنڈز سے چلنے والی این جی اوز نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور اسے مذہب کی جبری تبدیلی کا نام دے کر اندرون و بیرون ملک مہم چلائی۔ متاثرہ خاندان کے علاوہ سندھ کے متمول ہندو سیاستدانوں اور ارکان اسمبلی نے بھی اس مہم کی حوصلہ افزائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وزیراعظم عمران خان نے فی الفور واقعہ کا نوٹس لیا اور ان خواتین کو ریاستی طاقت سے اپنے والدین اور آبائی مذہب کی طرف لوٹ جانے پر آمادہ کیا گیا مگر پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں ان خواتین نے قبول اسلام کا دفاع کیا اور ثابت ہوا کہ ان خواتین نے کسی دبائو‘ لالچ کے تحت نہیں‘ اپنی خوشی سے اسلام قبول اور مرضی سے نکاح کیا۔

تاہم چند ارکان پارلیمنٹ نے مل جل کر ایک غیر سرکاری بل پیش کردیا سینٹ کی مجلس قائمہ نے سینٹر انوارالحق کاکڑ کی سربراہی میں ملک بھر سے حقائق اور اعداد و شمار جمع کئے تو یہ دلچسپ انکشاف ہوا کہ سندھ سمیت کسی صوبے میں مذہب کی جبری تبدیلی کا ایک بھی واقعہ منظر عام پر نہیں آیا‘ البتہ پسند کی شادی کے لیے مذہب تبدیل کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

مذہب کی جبری تبدیلی کے سدباب کے لیے انسانی حقوق کی وزارت اور سینٹ کی مجلس قائمہ نے جس کے سربراہ ان دنوں لیاقت ترکئی ہیں جو مجوزہ بل تیار کیا ہے اس میں لکھا گیا ہے کہ : ’’ کوئی بھی غیر مسلم، جو بچہ نہیں ہے 18 سال سے زیادہ عمر والا شخص، اور دوسرے مذہب میں تبدیل ہونے کے قابل اور آمادہ ہے، اس علاقہ کے ایڈیشنل سیشن جج سے تبدیلی مذہب کے سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے گا‘ جہاں عام طور پر غیر مسلم فردرہتا ہے یا اپنا کاروبار کرتا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج مذہب کی تبدیلی کے لیے درخواست موصول ہونے کے سات دن کے اندر انٹرویو کی تاریخ مقرر کرے گا۔ فراہم کردہ تاریخ پر، فرد ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے پیش ہو گا جو اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مذہب کی تبدیلی کسی دبائو کے تحت نہیں اور نہ ہی کسی دھوکہ دہی یا غلط بیانی کی وجہ سے ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج غیر مسلم کی درخواست پر اس شخص کے مذہبی اسکالرز سے ملاقات کا انتظام کرے کا جو مذہب وہ تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج مختلف مذاہب کا تقابلی مطالعہ کرنے اور ایڈیشنل سیشن جج کے دفتر واپس آنے کے لیے غیر مسلم کو نوے دن کا وقت دے سکتا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج، اس بات کو یقینی بنانے کے بعد کہ یہ شرائط پوری ہو جائیں، مذہب کی تبدیلی کا سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔‘‘ ’’جبری مذہب کی تبدیلی میں ملوث فرد کو کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال تک قید کی سزا اور جرمانہ ہو گا۔

مذہب کی تبدیلی کے لیے مجرمانہ قوت کا استعمال اس شخص کے خاندان، عزیز، برادری یا جائیداد کے خلاف ہو سکتا ہے بشمول شادی۔ جو شخص (شادی) انجام دیتا ہے، کرتا ہے، ہدایت دیتا ہے یا کسی بھی طرح سے شادی میں سہولت فراہم کرتا ہے‘ اس بات کا علم رکھتے ہوئے کہ یا تو دونوں فریق جبری تبدیلی کے شکار ہیں وہ کم از کم تین سال قید کے مجرم ہوں گے۔اس میں کوئی بھی شخص شامل ہوگا جس نے شادی کی تقریب کے لیے لاجسٹک سپورٹ اور کوئی دوسری ضروری خدمات وغیرہ فراہم کی ہوں۔ مذہب کی تبدیلی کی عمر: کسی شخص کے بارے میں یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ اس نے اپنا مذہب تبدیل کیا ہے جب تک کہ وہ شخص بالغ (18 سال یا اس سے بڑا) نہ ہو جائے۔ جو بچہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے اپنے مذہب کو تبدیل کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اس کا مذہب تبدیل نہیں سمجھا جائے گا۔

پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے خواہش مند عمران خان کے دور حکومت میں مجوزہ بل منظور ہو گیا تو 18 سال سے کم عمر کا کوئی غیر مسلم اسلام قبول نہیں کرسکتا اور زیادہ عمر کے شخص کو قبول اسلام کے بعد تین ماہ دوسرے مذاہب کا مطالعہ کرنا پڑے گا تاکہ وہ اپنے ارادے سے باز آئے اور باطل مذہب پر قائم رہ سکے۔ انڈونیشیا‘ ملائیشیا اور دیگر کئی ممالک میں کثیر تعداد نے مذاہب کا تقابلی مطالعہ کئے بغیر محض مسلمان تاجروں کے حسن عمل اور حسن سلوک سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا‘ جو مجوزہ بل کی روشنی میں ناقابل قبول عمل ہے جبکہ اس بل نے غیر مسلموں کے لیے تبلیغ اسلام کا راستہ بھی بند کردیا ہے۔

وزارت مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل اب تک اس بل کی منظوری میں حائل ہیں مگر طاقتور لابی ان دونوں سے بالا بالا غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کے نام پر سینٹ اور قومی اسمبلی سے منظوری کی مہم چلا رہی ہے-

تاہم سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس بل کے خلاف ایک مہم چالئی جا رہی ہے اور ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ اسلام_مخالف_بل_نامنظور سرفہرست ہے جس میں صارفین ا س بل کے خلاف ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اس بل کو ختم کرنے اور پاس نہ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں-