fbpx

اسلام آباد انتظامیہ کاروباری طبقے کوپریشان نہ کرے:جلال بچلانی

اسلام آباد:ریجنل ایڈوائزری کونسل پی ٹی آئی اسلام آباد کے رکن اور سینئر تاجر رہنما جلال بچلانی نے کہا ہے کہ ڈی ایم اے نے آئی ایٹ مرکز میں بغیر نوٹس آپریشن کرکے پہلے سے پسے ہوئے تاجروں کا معاشی قتل کرنے کی کوشش کی ہے میونسپل ایڈمنسٹریشن ڈائریکٹوریٹ (ڈی ایم اے) اسلام آباد کی طرف سے سیکٹر آئی ایٹ میں تجاوزات کے نام پر کیے گئے آپریشن پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جلال بچلانی نے کہا کہ ہماری قانونی طور پر جائز دکانوں میں بلاوجہ آپریشن کرکے ہمارا معاشی قتل کرنے کی کوشش کی گئی ہے پہلے ہی امپورٹڈ حکومت نے عام آدمی کی ایک وقت کی روٹی بھی مشکل کی ہوئی ہے اور اب یہ آپریشن کرکے ہمیں مزید دبایا جارہا ہے اس غیر قانونی آپریشن کی سرپرستی ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن اور ڈائریکٹر ڈی ایم اے شکیل ارشد کررہے ہیں آئی ایٹ مرکز کے تاجر اس ظلم کے خلاف خاموش نہیں بیٹھیں گے اور ان ہتھکنڈوں کے خلاف پر سطح پر احتجاج کیا جائے گا

ملک بھر کی تاجر برادری نے مطالبہ ہے کہ عیدالاضحی کے کاروباری سیزن کے موقع پر توانائی بحران کے سبب لگائی گئی پاپندیوں کو فی الفور ختم کیا جائے اور سابقہ کاروباری اوقات بحال کیے جائیں۔ عیدالضحی کے سیزن سے متعلقہ کاروبار کو اوقات کی پابندیوں سے استثنی سے بحران سے دوچار تاجروں کی بقاء ممکن ہوسکے گی۔

یہ مطالبہ 40 سے زاٸد شہروں سے آۓ ہوۓ مرکزی رہنماٶں اور مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری نے آل کراچی تاجر الائنس کے تحت آل پاکستان تاجر کنوینشن سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اوقت کار کو کم کرنے کی بجاۓ سرکاری اوقات کار کو کم کیا جاۓ۔ عیدالاضحی کے بعد تاجروں کے نمائندے اور حکومت کی باہمی مشاورت سے کاروباری اوقات کار مقرر کیے جاسکتے ہیں۔

اس موقع پر آل کراچی تاجر الاٸنس کے چیٸر مین حکیم شاہ ، سرپرست اعلی خواجہ جمال سیٹھی ، واٸس چیٸر مین شاکر فینسی ، عبدلقیوم آغا ، رضوان شاہ ، رضوان عرفان سمیت دیگر نے کہا کہ اس وقت ملک میں توانائی کے بحران۔ڈالر کی قیمت میں اضافہ روپے کی بے قدری اور حالیہ بجٹ میں بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں میں اضافہ اور دیگر مسائل نے ملک میں کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کو تباہ کردیا ہے۔ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کی وجہ سے تاجر برداری شدید پریشان ہے۔بازار اور دکانیں جلد بند کرنے سے توانائی کا بحران حل نہیں ہوگا۔اگر رات کو کاروبار ہوتا ہے تو حکومت کو مختلف مدات میں ریوینیوحاصل ہوتا ہے۔اوقات کار کی پاپندیوں سے بے روزگاری اور اسٹریٹ کراٸم میں اضافہ ہورہا ہے۔ان پاپندیوں سے رات کا کاروبار تباہ ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافے سے بھی بزنس کمیونٹی پریشان ہے۔وزیراعظم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ توانائی کے بحران حل کرنے کے لیے متبادل زرائع سے بجلی کے حصول کے لیے جامع حکمت عملی بنائی جائے۔تاجروں کی مشاورت سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ کے لیے پلان بنایا جائے۔کنونشن میں کراچی کی تمام مارکیٹس کے عہدیداران سماجی و سیاسی شخصیات وکلا برادری فنکار و دیگر شعبہ یاۓ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔