سپریم کورٹ، ریویوآف ججمنٹ اینڈ آرڈرزایکٹ کیخلاف درخواستوں پرفیصلہ محفوظ

جس انداز سے نظرثانی کا دائرہ بڑھایا گیا اس پر سوال اٹھا ہے
0
38
supreme

سپریم کورٹ پنجاب انتخابات اور ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل تھے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ آرٹیکل 188 نظرثانی کی حدود کو محدود نہیں کرتا،آرٹیکل 184(3) کے مقدمات میں نظرثانی کا دائرہ بڑھانا امتیازی سلوک نہیں، سپریم کورٹ میں اپیلیں ہائیکورٹس یا ٹریبونلز کے فیصلوں کیخلاف آتی ہیں، آرٹیکل 184(3) کا مقدمہ براہ راست سپریم کورٹ میں سنا جاتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس انداز سے نظرثانی کا دائرہ بڑھایا گیا اس پر سوال اٹھا ہے، بھارتی سپریم کورٹ میں اس نوعیت کے کیسز میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، سوال یہ ہے کیا قانون سازی سے نظرثانی کا دائرہ اتنا بڑھایا جا سکتا ہے؟ نظرثانی کا اتنا دائرہ بڑھانے کی وجوہات بھی سمجھ نہیں آتی،

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کے مقدمات میں نظرثانی کیلئے الگ دائرہ کار رکھا گیا ہے، نظرثانی میں اپیل کے حق سے کچھ لوگوں کیساتھ استحصال ہونے کا تاثر درست نہیں، اٹارنی جنرل صاحب آہستہ آہستہ دلائل سے ہمیں سمجھائیں، آپ کہہ رہے ہیں کہ اپیل کے حق سے پہلے آئین لوگوں کا استحصال کرتا رہا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایکٹ سے پہلے 184/3 میں نظرثانی کا کوئی طریقہ نہیں تھا، حکومتی قانون سازی سے کسی کیساتھ استحصال نہیں ہوا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت قانون سازی کر سکتی ہے مگر نظرثانی میں اپیل کا حق دینا درست نہیں لگ رہا آرٹیکل 184/3 کے مقدمات میں اپیل کا حق دینے کیلئے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے،نظرثانی اور اپیل کو ایک جیسا کیسے دیکھا جا سکتاہے؟ عدالت کو حقائق کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا، اگر نظر ثانی کا دائرہ اختیار بڑھا دیا جائے تو کیا یہ تفریق نہیں ہوگی، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ کے پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار سے متعلق متعدد فیصلے موجود ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک آئینی معاملے کیلئے پورے آئین کو کیسے نظر انداز کریں؟

سب ہی اتفاق کرتے ہیں کہ مقننہ نظرثانی کا دائرہ اختیار بڑھا سکتی ہے،چیف جسٹس
اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اگر 184(3) کا سکوپ بڑھ گیا ہے تو اس پر نظرثانی کا دائرہ کار بھی بڑھنا چاہیے، پہلے فیصلہ دینے والے ججز نظرثانی کے لیے قائم لارجر بینچ کا حصہ بن سکتے ہیں، بینچ کی تشکیل کا معاملہ عدالت پر ہی چھوڑا گیا ہے، تلور کے شکار کے کیس میں نظرثانی 5 رکنی بینچ نے سنی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین رکنی بینچ اگر فیصلہ دے تو کیا 4 رکنی بنچ نظرثانی کر سکے گا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ لارجر سے مراد لارجر ہے جتنے بھی جج ہوں،آئین نظرثانی کے دائرہ اختیار کو محدود نہیں کرتا،جسٹس منیب اخترنے استفسار کیا کہ کیا نظرثانی کے اختیار کو سول قوانین سے مماثلت دی جا سکتی ہے؟ سول قوانین صوبائی دائرہ اختیار میں ہیں اور ریویو ایکٹ میں صوبائی قوانین کا ذکر نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس بات سے سب ہی اتفاق کرتے ہیں کہ مقننہ نظرثانی کا دائرہ اختیار بڑھا سکتی ہے،حکومت نے نظر ثانی کو اپیل میں تبدیل کردیا جس کی ٹھوس وجوہات پیش کرنا لازم ہے، قانون سازی سے قبل محتاط طریقہ کار سے حقائق کو دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے،

سپریم کورٹ نے ریویوآف ججمنٹ اینڈ آرڈرز ایکٹ کیخلاف درخواستوں پرفیصلہ محفوظ کرلیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تمام درخواستگزاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تمام درخواست گزار اپنے دلائل تحریری طور پر بھی جمع کرادیں ،درخواست گزار تحریری جوابات میں ریفرنسز بھی شامل کریں تا کہ مدد مل سکے ،ہم آپس میں مشاورت کرکے جلد فیصلہ سنائیں گے

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

 مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

Leave a reply