fbpx

اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں غیرمتعلقہ افرادکے داخلے پرپابندی عائد

پشاور:اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پرپابندی عائد کردی گئی۔اطلاعات کے مطابق انتظامیہ کے مطابق صرف ریگولر طلبا ہی یونیفارم میں یونیورسٹی کے اندر آسکیں گے، ضروری دفتری کام کے لیے آنے والے مہمان وزیٹرکارڈ کے ساتھ یونیورسٹی میں داخل ہوں گے۔

انتظامیہ کا کہنا ہےکہ یونیورسٹی کے اندر سیاسی ٹوپیاں ، جھنڈے اور ہر قسم کے اسلحے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، یونیورسٹی میں منشیات لانے اور استعمال پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔انتظامیہ کے مطابق خلاف ورزی کی صورت میں یونیورسٹی کی قانونی کمیٹیاں سزا مقرر کریں گی، امن و مان کو برقرار رکھنےکے لیےکیمپس کے اندر پولیس کی بھاری نفر ی تعینات ہوگی۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے فیصلوں پر عمل د رآمد کے لیے ڈپٹی کمشنر پشاور اورکمانڈنٹ پولیس کوخطوط ارسال کردیے ہیں۔

کوہ سفید اور تاریخ درہ خیبر کے دامن میں واقع اسلامیہ کالج پشاور، پشاور صدر سے پانچ کلو میٹر مغرب میں جی ٹی روڈ پر واقع ہے۔ 121 ایکڑ اراضی پر مشتمل یہ کالج جنگِ عظیم اول سے ایک سال قبل 1913ء میں قائم کیا گیا۔ اس کی بنیاد صاحبزادہ عبدالقیوم خان اور سر جارج روس کیپل نے رکھی۔

یہ کالج جس جگہ قائم کیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں ماہرین آثار قدیمہ کے حوالے میں معلوم ہوا ہے کہ اس مقام پر آج سے تقریباً 1800 سال قبل 200ء میں بدھ مت کی تعلیمات کے لیے ایک بہت بڑی خانقاہ موجود تھی۔ اس وقت کشان خاندان کا راجا کنشکا یہاں پر بر سر اقتدار تھا۔