غزہ میں حماس کے ساتھ لڑائی میں اسرائیلی فوجی اپنی بینائی کھو نے لگے

کچھ فوجیوں کو حماس کے جنگجوؤں نے براہ راست نشانہ بنایا
0
107

تل ابیب: اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں حماس کے خلاف لڑنے والے فوجی اپنی بینائی کھونے لگے ہیں۔

باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے ”یروشلم نے کے اے این نیوز“ کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ غزہ میں حماس کے خلاف لڑنے والے سینکڑوں اسرائیلی فوجیوں کو آنکھوں کی شدید چوٹیں آئی ہیں، جن میں سے کچھ ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے بھی محروم ہوچکے ہیں آنکھوں کی یہ زیادہ تر چوٹیں جنگ کے دوران ضرورت کے مطابق حفاظتی پوشاک، یعنی آنکھوں کی حفاظت کا سامان نہ پہننے کی وجہ سے آئیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی آنکھیں گولیوں کے ٹکڑوں چھینٹے اور بندوق کے ری کوئل کے قریب منہ ہونے کی وجہ سے زیادہ متاثر ہوئیں، جبکہ کچھ فوجیوں کو حماس کے جنگجوؤں نے براہ راست نشانہ بنایا ان چوٹوں میں سے 10 سے 15 فیصد کے نتیجے میں ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی ختم ہو جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک بیر شیبہ کے سوروکا میڈیکل سینٹر میں آنکھ کے زخموں والے تقریباً 40 فوجی داخل ہیں، پانچ اس ہفتے کے شروع میں شدید زخموں کے ساتھ اسپتال پہنچے پچھلے 24 گھنٹوں میں مبینہ طور پر 5 میں سے 2 کی سرجری ہوئی ہے۔

پچھلے مہینے، یروشلم پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ سوروکا کے ماہرین امراض چشم نے ہر وقت حفاظتی چشمیں پہننے کی ضرورت کے بارے میں فوج کے شعور کو بڑھانے کے لیے ایک مختصر ویڈیو تیار کی تھی اسرائیلی فوج نے نیوز رپورٹ کا جواب دیتے ہوئے وضاحت کی کہ فوج کے پاس آنکھوں کی حفاظت کرنے والے آلات کی کمی نہیں ہے آئی ڈی ایف ایسے واقعات کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے جن میں فوجی جنہیں حفاظتی چشمیں پہننے کی ضرورت ہوتی ہے وہ باقاعدگی سے ایسا نہیں کرتے۔

دوسری جانب”العربیہ” کے مطابق غزہ کی پٹی میں تقریباً 1.9 ملین افراد کے اندرونی طور پر بے گھر ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ لاکھوں لوگ اسرائیل کی بے رحمانہ بمباری کے دوران جنوب کے پرہجوم علاقے میں پناہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے رابطہ کاری دفتر برائے انسانی امور (یو این او سی ایچ اے) کے مطابق غزہ کی 2.3 ملین آبادی میں سے 80 فیصد سے زیادہ افراد اندرونی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر نے شمال سے انخلاء کا حکم ملنے کے بعد پٹی کے جنوب کا رخ کیا ہے،غزہ کے گنجان آباد جنوب میں خان یونس میں پناہ لینے والے لوگ اس ناممکن فیصلے کا سامنا کر رہے ہیں کہ آیا دوبارہ انخلاء کریں یا موت یا زخمی ہونے کا خطرہ مول لیں کیونکہ شہر شدید اسرائیلی بمباری کی زد میں ہے۔

ادھر مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی کی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے،اسرائیل نے کہا تھا جنوب محفوظ رہے گا، لیکن العربیہ کے مطابق اسرائیلی افواج کی جانب سے علاقے میں کارروائی شروع کرنے سے بہت پہلے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران کئی محلوں کو بار بار گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا، اب اسرائیلی فوج کی طرف سے خان یونس شہر کے 20 فیصد علاقے کے لیے انخلاء کے احکامات جاری کیے گئے ہیں یہ شہر بحران سے پہلے 117,000 لوگوں کا مسکن تھا اور اب یہاں اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے اضافی 50,000 افراد 21 پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں غزہ کے 19 فیصد حصے پر محیط شہر کے مزید مشرقی حصے میں ایک علاقے کے لوگوں کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ انہیں چھوڑ کر جنوب کی طرف رفح یا دیگر مخصوص مقامات پر چلے جائیں۔

غزہ میں فلسطینی شہریوں کے ساتھ اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کی ویڈیو اور تصاویر وائرل ہو رہی ہیں وائرل تصاویر اور ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ زیر حراست درجنوں فلسطینیوں کو شدید سردی میں کپڑے اتار کر کھلے مقامات پر بٹھایا گیا زیر حراست افراد میں بزرگ اور نوجوانوں کے علاوہ بچے بھی شامل ہیں، حراست میں لیے گئے فلسطینیوں کا تعلق غزہ کے مختلف علاقوں سے ہے،اسرائیلی فوجیوں نے زیرحراست فلسطینیوں کو بغیر کپڑوں کے ہی ٹرکوں میں اسرائیل منتقل کیا۔
https://x.com/SecKermani/status/1732765834596978924?s=20
اسرائیلی فوج نے 24 گھنٹوں میں مزید 350 سے زائد فلسطینی شہید کر دئیے ہیں ، جبالیہ، خان یونس، المغازی، رفح، بیت لاہیا کے رہائشی علاقوں میں بمباری کی، مسجد کو بھی نشانہ بنایا، فلسطینی میڈیا کے مطابق غزہ میں اب تک 17 ہزار 177 افراد شہید اور 46 ہزار زخمی ہوچکے ہیں،7 ہزار 700 فلسطینی ملبے تلے دبے ہیں، غزہ سٹی میں 52 ہزار مکانات مکمل اور ڈھائی لاکھ سے زائد مکانات جزوی تباہ ہوئے ہیں 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 194 مساجد اور تین چرچ تباہ ہوئے ہیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی سفاکیت نے ذہنی معذور فلسطینی کو بھی نہ بخشا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں نے ایک ذہنی معذور فلسطینی کو روک کر اس کی شناخت پوچھی، جس کا وہ جواب نہ دے سکا، ساتھ موجود فلسطینی نے اس کی ذہنی معذوری کا بتایا پھر بھی اسرائیلی فوجیوں نے 34 سالہ طارق پر فائرنگ کر دی، شدید زخمی طارق اسپتال میں زیر علاج ہے7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی فوج مغربی کنارے میں 256 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہے۔

فلسطین کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے انروا کا کہنا ہےکہ غزہ میں شدید بمباری اور فوجی آپریشن کے سبب صورتحال مایوس کن ہوچکی ہے، غزہ میں شدید بمباری کے سبب ایسی صورتحال ہے کہ امداد کی فراہمی نہیں ہوپارہی۔

Leave a reply