fbpx

نجی ٹی وی پرحساس معاملات پرگفتگواورحقائق کوغلط اندازسےپیش کرنا خطرناک ہے:مریم اورنگزیب

وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے ایک چینل پر چلنے والی خبروں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا، اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نجی ٹی وی پرحساس معاملات پرگفتگواورحقائق کوغلط اندازسےپیش کرنا خطرناک ہے:

اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پراس قسم کی گفتگو کو اس انداز سے بیان کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے بیان کے بعد سازش کی بحث دفن ہوگئی ہے واضح ہوگیا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی، اسے سازش دکھانے والے اصل میں سازش کررہے ہیں

پاکستانی سفیر نے موقف اجلاس میں رکھا، ان کے مراسلے کے تناظر اور مواد کا بغور جائزہ لیا گیا ،سفیر کے موقف، تناظر اور ارادے کے واضح ہونے کے بعد یہ خبریں محض منفی سیاست کا حصہ ہیں ،جھوٹ کو خبر بنا کر پیش کرنا پاکستان کے قومی مفادات کے گلے پر چھری چلانا ہے

آگے چل کرکہا گیا ہے کہ عمران صاحب بعض چینلز کو جھوٹی خبریں فیڈ کررہے ہیں جو ملک کے خلاف سازش ہے ،عمران صاحب کا جھوٹ پکڑا گیا ہے تو وہ میڈیا کے ایک حصے کو جھوٹی خبریں پھیلانے کے لئے استعمال کررہے ہیں ،نیشنل سکیورٹی کونسل کے اعلامیے کے بعد اس نوع کی خبریں ملک کے ساتھ بھلائی نہیں،ملکی سلامتی افراد ، اداروں سے زیادہ مقدم ہوتی ہے۔

 

اپنے جھوٹے بیانئے کو آنکھوں سامنے دفن ہوتے دیکھ کر “ ملک و قوم” کی قبر کھودنے کی کوشش کرنے والے ہی در اصل میر جعفر و میر صادق ہوتے ہیں ۔ایک نجی چینل پر نیشنل سکیورٹی کونسل کے حوالے سے خودساختہ ، من گھڑت و شرم سے عاری خبر دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے “ خدارا ذاتی مفادات کو ملکی مفاد پہ ترجیح نا دیں ۔ یہ ملک ہے تو ہم ہیں “۔

 

دوسری طرف وزارت خارجہ نے بھی اس حوالے سے معاملے کوٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا کہ اسد مجید نے جو صورت حال تھی وہ بتادی ہے ،قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے سارا معاملہ رکھ دیا ہے

 

یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکا میں پاکستان کے سابق سفیرنے واضح کردیا ہے کہ امریکا پاکستان میں رجیم چینج میں ملوث ہے ، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ مبینہ دھمکی آمیز مراسلے کے معاملے میں حکومتی دباؤ کے باوجود امریکا میں سابق پاکستانی سفیر اسد مجید ڈٹ گئے۔

نجی ٹی وی اے آر وائی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق پاکستانی سفیر اسد مجید پر بیان بدلوانے کے لیے حکومتی دباؤ کام نہ آیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق اسد مجید نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ خط میں دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی ہے، کیسے کہوں کہ یہ اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں ہے۔

قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اداروں کی تحقیقات کے مطابق مراسلے میں کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی ہے۔