fbpx

کسان اتحاد دھرنا؛ کسی گروہ کو بھی ریڈ زون میں احتجاج یا دھرنے کی اجازت نہیں. رانا ثنا اللہ

وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ کسان یا کسی بھی گروہ یا جماعت کو ریڈ زون میں احتجاج یا دھرنے کے اجازت نہیں، رانا ثنا اللہ

وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ؛ سپریم کورٹ کے بھی واضح احکامات موجود ہیں کہ ریڈ زون میں کوئی احتجاج نہیں ہو سکتا لہذا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے، احتجاج اور دھرنا بلا جواز ہے کیونکہ ہم کسانوں کے جائز مطالبات مان رہے ہیں اور ٹیوب ویلز کے بلوں کی ادائیگی موخر کرنے کا مطالبہ تسلیم کیا جا چکا ہے زرعی ٹیوب ویل کے بجلی بلوں میں کمی کیلئے کابینہ کی قائم کمیٹی کام کر رہی ہے جبکہ حکومت کسانوں کے جائز مطالبات کو سنجیدہ لے رہی ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ؛ سوموار کو کمیٹی دوبارہ بیٹھے گی اور تمام تجاویز پر غور کرے گی لیکن کسانوں کا دھرنا بلا جواز ہے.

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق: پولیس کے تازہ دم دستے خیابان چوک پہنچ گئے۔ اور اس کے ساتھ ہی ایف سے کی بھاری نفری بھی خیابان چوک طلب کرلی گئی ہے جبکہ قیدی لے جانے والی گاڑیاں اور ایمبو لینس بھی خیابان چوک پہنچا دی گئی ہیں۔ جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز اور ایس ایس پی آپریشنز اور ضلعی انتظامیہ کے افسران موقع پر موجود ہیں۔

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ: مظاہرین درختوں سے شاخیں توڑ کرلاٹھیاں بنارہے ہیں اور پتھر بھی اکٹھے کرلئے ہیں اور ان مظاہرین کی قیادت چیئرمین خالد باٹھ اور جنرل سیکرٹری عمر امین کررہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اگر مظاہرین نے پیش قدمی کی کوشش کی تو انہیں منتشر کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے لہذا عورتوں اور بچوں سے گزارش ہے کہ اس طرف رخ نہ کریں۔

کسان اتحاد کے رہنماء نے کہا کہ رانا ثناء اللہ ہم آپ کی دھنکیوں سے ڈرنے والے نہیں‌ ہیں یاد رہے کہ اس سے قبل رانا ثناءاللہ نے دھمکی دی تھی کہ عمران خان کیلئے کی گئی تیاری کہیں‌ کسانوں پر نہ آزما دیں تاہم اس حوالے سے رہنماء کسان اتحاد کا کہنا تھا کہ رانا ثناء سے ملاقات ہوئی انہوں نے مزید وقت مانگ اور ان کا روایہ صحیح نہیں تھا.
کسانوں نے زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے پر پابندی لگانے، سیلاب زدہ علاقوں میں کھاد، بیج اور ڈیزل مفت فراہم کرنے سمیت گندم کی قیمت چار ہزار روپے اور گنے کی چار سو روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کی خاطر اسلام آباد میں آج چوتھے روز بھی اپنا دھرنا جاری رکھا ہوا ہے. رہنما کسان اتحادنے مطالبہ کیا تھا کہ ہمارا احتجاج پرامن ہے، ہمیں کوئی جلدی نہیں، اپنا حق لے کر یہاں سے جائیں گے.


کسان رہنماء کا کہنا تھا کہ مذاکرات ناکام ہوئےتوہرصورت پارلیمنٹ ہاوس کےسامنے پہنچیں گے اور ہاں ہم پرامن لوگ ہیں،حکومت ہمارے مطالبات تسلیم کرے کیونکہ ہم چار دن سے یہاں موجود ہیں لیکن ہماری بات نہیں مانی جارہی ہے. چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ: پورے ملک سے کسانوں کے قافلے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، اور میں کسانوں کو ایک اشارہ کروں تو پورا ملک بند کردیں گے لیکن ہم پرامن رہنا چاہتے ہیں. کسان رہنماء نے سابق وزیر اعظم عمران خان سے کہنا تھا کہ میرا عمران خان سے گلہ ہے کہ انہوں نے کسانوں کے حق کیلئے ایک ٹویٹ تک نہیں کی ہے اور نہ ہی آواز اٹھائی ہے.


دوسری جانب مختلف جماعتوں کی جانب سے کسان اتحاد مظاہرین سے اظہار یکجہتی کا سلسلہ بھی جاری ہے جیسے کہ آر آئی یو جے اور ایم ڈبلیو او کی جانب سے کسان اتحاد پاکستان کے احتجاجی دھرنے میں شرکت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے.


واضح رہے کہ گزشتہ روزکسان اتحاد کے ایک وفد نے وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کے ساتھ مذاکرات کیے تھے اوروفاقی حکومت کی جانب سے کسانوں کا ابتدائی طور پر ٹیوب ویل کا مطالبہ منظورکیا گیا تھا جبکہ دیگر مطالبات بھی جلد منظور کیے جانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی. تاہم کسان رہنمائوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت ہمیں فی یونٹ کی قیمت مختص کرکے دے تب ہم احتجاج ختم کریں گے۔ دھرنے میں موجود کسانوں کا کہنا ہے کہ ہم کھلے آسمان تلے موجود ہیں۔ لیکن دوسری جانب احتجاج کے باعث راستے بند ہونے سے مختلف شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہے جس سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛ کسان اتحاد دھرنا: وفاقی حکومت ہمیں فی یونٹ کی قیمت مختص کرکے دے تب احتجاج ختم کریں گے
کرنسی مارکیٹس میں امریکی ڈالر مسلسل چھٹے روز سستا
اسلام آباد ایئرپورٹ ملازمین کام کرنے کو تیار نہیں،وزیر ہوا بازی کا سینیٹ میں انکشاف
مظاہرین کا کہنا تھا ہماری 50 فیصد فصل تباہ ہوگئی،پانی نہیں ہوتا تو مر جاتے ہیں پانی آتا ہے تو ڈوب جاتے ہیں،انکا کہنا تھا کہ چاروں صوبائی حکومتیں کھاد کا سسٹم یونین کاؤنسل کی سطح پر لے جائیں۔ کسان رہنماء خالد حسین کا کہنا تھا کہ جب تک کالا باغ ڈیم نہیں بنتا ملک ترقی نہیں کرسکتا،آصف علی زرداری صاحب سندھ ڈوب گیا آپ سے درخواست ہے ڈیم بننے دیں۔