fbpx

جہیز لعنت نہیں رشتوں کا قاتل ہے .تحریر ماشا نور

جہیز سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہمیں بس اپکی بیٹی پسند ہے ہمارے گھر میں اللہ کا دیا سب کچھ ہے ” یہ وہ جمعلے ہیں تو تقریباً 70 فیصد رشتہ دیکھنے آنے والے لوگ اپنے منہ سے کہتے بات نکاح تک پہنچ جاتی تب انکی اصلیت کے دروازے کھلنے شروع ہوتے آپ جو دینگے اپنی بیٹی کو دینگے آخر اسکے ہی تو کام آئے گا چائیے پھر جہیز دیں یا موٹی رقم دونوں صورتوں میں آپکی بیٹی کا ہوگا ” اچھے کھاتے پیتے گھرانوں کے لوگ بھی جہیز کی مانگ کرتے ہیں بس طریقہ واردات الگ ہوتا ہے ہمارا بیٹا شادی کے بعد باہر جاے گا آپکی بیٹی بھی ساتھ جاے گی انکے کام آئے گا پیسہ، بڑی بڑی شاندار شادیوں میں اربوں روپیہ خرچ کرنے والے اداکار سیاستدان کہتے ہیں جہیز لعنت ہے ون ڈش پر عدالتی فیصلے آئے دن سنائی دیتے ہیں مگر یہ سب صرف کہنے کی باتیں ہے ایک غریب بات ساری زندگی یہی جمع جوڑ کرتا رہتا ہے کہ بیٹی کو بیاہ کر اسکے گھر کا کرنا ہے جیسے تیسے جہیز جمع کربھی لیں تو عین موقع پر سسرال والے گاڑی کی ڈیمانڈ کرتے بیٹی سسرال میں وہ مقام نا حاصل کر پاتی جو ٹرک بھر کر جہیز لانے والی بڑی بہو کو حاصل تھا روز روز طعنے مار پیٹ جھگڑے ذہنی اذیت لڑکی کا مقدر بن جاتی، باپ بیچارہ قرضوں کے بوجھ تلے دب کر دوسری بیٹی کو اسکے گھر کا کرنا ہے سوچ سوچ کر روز مرتا ہے،
کچھ عرصہ قبل انڈیا میں ایک عائشہ نامی لڑکی نے تالاب میں کود کر اپنی جان دے دی وجہ جہیز سسرال والے اسکو قبول نہیں کررہے تھے شوہر روزانا پیسوں کی مانگ کرتا آخر عائشہ نے ماں باپ کی مجبوری بےبسی کو دیکھتے ہوئے موت کو گلے لگا لیا ایسی کتنی ہی لڑکیاں ہیں جو سسرال والوں کے تشدد سے تنگ آکر خود کو ختم کرلیتی ہیں یا اکثر جہیز نا ہونے پر گھروں میں بیٹھی ہیں آخر کب اس سوچ کو ختم کیا جاے گا، ہم بہو نہیں بیٹی بناکر لےجارے ہیں عورت کے نصیب سے آدمی بنتا ہے کیوں یہ بات مردوں کو سمجھ نہیں آتی

لڑکی والے جہاں اپنی بیٹی کا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے اچھی نوکری گھر کاروباری رشتہ ڈھونڈتے تو وہی لڑکے والے بھی خوبصورت ،کم عمر ،جہیز لانے والی لڑکی کی ڈیمانڈ کرتے ہیں ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کے ہمارے گھروں میں بھی بیٹیاں بیٹھی ہیں آج دوسرے کی بیٹی پر ظلم کریں گے کل خود کی بہن بیٹی کے ساتھ ہوگا چار برتن دو کپڑوں کے ساتھ بیٹی کو بیانے کے خواب کب حقیقت ہونگے ہمیں خود یہ روایات توڑنی ہونگی جہیز لعنت نہیں جہیز رشتوں کا قاتل ہے پڑھے لکھے نوجوان اس بلا سے کنارہ اختیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر خاندانی روایات کو ختم کرنا جیسے گناہ عظیم ہے کہیں سے کوئی تو اس کی شروعات کرے لڑکوں کو چائیے اپنے والدین کو اعتماد میں لیں اپنی کمائی پر بنانے کا جذبہ دکھائیں انھیں ہوسکتا ہے تب یہ سلسلہ اک نیا رخ اختیار کرے اور بہت سی لڑکیاں اپنے گھروں کی ہوجاہیں جو غربت کے باعث بالوں میں چاندی لیے گھروں میں زندگی گزار رہی ہیں قدم بڑھائیے آپ ہی وہ پہلے انسان ہوسکتے ہیں