fbpx

جاپانی ساحل کے نیچے آتشیں چٹان دریافت ،جو بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہے

ٹوکیو: جنوبی جاپان کے ساحل کے نیچے ایک آتشیں چٹان دریافت ہوئی ہے جسے ’کومانو پلوٹون‘ کا نام دیا گیا ہے-

باغی ٹی وی : ماہرین نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ یہ چٹان ایک طرح سے مقناطیس یا برقی سلاخ کا کردار ادا کرتے ہوئے بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہےاس کےمفصل تھری ڈی نقشے سے معلوم ہوا ہے کہ ٹیکٹانوک پلیٹوں کی توانائی اس چٹان کی اطراف پہنچتی ہے اور دھیرے دھیرے جمع ہورہی ہے۔

گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

2006 میں سائنسدانوں نے کومانو پلوٹان پر توجہ کی تھی جو پگھلے ہوئے ارضی مادے سے بنی ایک چٹان ہے پلوٹون اس چٹان کو کہتے ہیں جو زیرزمین دیگر پتھروں کو ہٹا کر ایک ابھار کی صورت میں باہر پھوٹتی ہے اور دھیرے دھیرے سرد ہوکر سخت ہوجاتی ہے-

ماہرین نے تحقیق کے دوران معلوم کیا کہ نانکائی سبڈکشن زون میں ایک ارضیاتی پلیٹ دوسری پلیٹ میں دھنس رہی ہے جسے سبڈکشن کا عمل کہا جاتا ہے اس سے پلیٹوں پر توانائی جمع ہوتی رہتی ہے اور زلزلوں کی وجہ بنتی ہے پھر معلوم ہوا کہ ایک مقام پر پلوٹون چٹان موجود ہے ماہرین نے اس کے بعد مزید 20 سال کا ڈیٹا جمع کیا اور چٹان کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی مزید نقشہ سازی کی۔

انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

بحری ارضی سائنس و ٹیکنالوجی ایجنسی کے سینیئر سائنسداں سیوشی کوڈیرا کا کہنا ہے کہ اس اہم تحقیق سے جاپان میں رونما ہونے والے ممکنہ زلزلوں کی پیشگوئی میں سہولت ہوگی تو دوسری جانب آتشیں چٹان اور ٹیکٹونک پلیٹوں کے درمیان ربط جاننے میں بھی مدد ملے گی ہم درست طور پر نہیں کہہ سکتے کہ مستقبل میں کہاں اور کس وقت بڑے زلزلے رونما ہوں گے لیکن ڈیٹا اور ماڈلنگ سے اس کا درست اندازہ ضرور لگایا جاسکتا ہے-

ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلہ معمولی ہو یا بڑا اس کے اثرات اپنے مقام سے تالاب میں دائروں کی طرح پھیلتےہیں، تباہی مچاتے ہیں اور دوبارہ لوٹ آتے ہیں ماہرین نے اس پورے عمل کی نقشہ سازی کی ہے جو نہایت محنت طلب کام ہے اسی مقام سے 1944 اور 1946 کے ہولناک زلزلے بھی پھوٹے تھے اور اب معلوم ہوا ہے کہ اس میں پلوٹون کا کردار بہت اہم تھا۔

چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق