غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

سنا تھا جھیل کے اُس پار بھوت رہتے ہیں مگر ڈکیت کا کنبہ پہاڑ سے نکلا
0
28
poet

غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے
جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

شاہد نور کو 24 اگست 1980ء کو سیوان (بہار) میں پیدا ہوئے ان کی والدہ کا نام آسیہ خاتون،والد کا نام مشتاق احمد ہے بی کام (آنرس) کیا اور چیرمین نور آٹوپروفائل گروپ، مینیجنگ ڈائرکٹر ایم جی کنسٹرکشن اورسٹی ڈیولپر گروپ کے نام سے کاروبار شروع کیا تصانیف:میٹھا نیم-2012ء (شعری مجموعہ)

ایواردڈ و اعزازات
۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ (1)توفیق فاروقی ایوارڈ
۔ منجانب ادارہ خاتونِ مشرق، دہلی
۔ (2)کامنا کلا سنگم ایوارڈ

غزل
۔۔۔۔
مجھے آنکھوں نے جل تھل کردیا ہے
مری مٹی کو دلدل کردیا ہے
مرے خوابوں کو آنکھوں میں سجاکر
کسی لڑکی نے کاجل کردیا ہے
میں اپنی ذات میں اک گلستاں تھا
تری فرقت نے جنگل کردیا ہے
کئی دریائوں نے آپس میں مل کر
سمندر کو مکمل کردیا ہے
مری بچی کی ننھی سے ہنسی نے
مرے آنسو کو صندل کردیا ہے
وہ جب گمنام تھا اچھا بھلا تھا
اُسے شہرت نے پاگل کردیا ہے
فرائض کے تقاضوں نے ہی شاہد
مرے چھالوں کو مخمل کردیا ہے

غزل
۔۔۔۔
لہولہان جب اک شیر جھاڑ سے نکلا
ہرن کا درد بھی اُس کی دہاڑ سے نکلا
سنا تھا جھیل کے اُس پار بھوت رہتے ہیں
مگر ڈکیت کا کنبہ پہاڑ سے نکلا
اندھیری رات میں اک اجنبی نے دستک دی
تو چاند اوڑھ کے آنچل ، کواڑ سے نکلا
سکھا گیا ہے زمانے کا دائو پیچ مجھے
وہ ایک سانپ جو ہاتھوں کی آڑ سے نکلا
مرا حسین سا بچپن وہ گائوں کا البم
کٹورے میں رکھا چاول کے ماڑ سے نکلا
غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے
جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
زمین پھٹ گئی خود اپنے کرب سے شاہد
پھر اُس کی آہ کا شعلہ دراڑ سے نکلا

غزل
۔۔۔۔۔۔۔۔
تو جو ہر بات پہ کہتا ہے ترا سب کچھ ہے
تجھ کو معلوم نہیں ہے کہ خدا سب کچھ ہے
اس کی آنکھوں کی یہ تعریف مکمل ہوگی
اس کی آنکھوں میں محبت کے سوا سب کچھ ہے
اس کے بارے میں غلط بات نہیں سن سکتا
تم کو معلوم ہے وہ شخص مرا سب کچھ ہے
کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی اس کی
میرے محبوب کے چہرے پہ لکھا سب کچھ ہے

غزل
۔۔۔۔
ہمارے دل سے یہی اک کسک نہیں جاتی
تم اتنا کام جو کرتی ہو تھک نہیں جاتی
تم ہی بتاؤ کہ اب کیا بتاؤں دنیا کو
مرے بدن سے تمھاری مہک نہیں جاتی
میں حادثے میں کسی طور بچ گیا ہوں مگر
مرے دماغ سے اس کی دھمک نہیں جاتی
جسے وہ دیکھ لے وہ پھول کھلنے لگتا ہے
جسے وہ چوم لے اس کی چمک نہیں جاتی
عجیب آپ کی بھی قوتِ سماعت ہے
ہماری بات کبھی آپ تک نہیں جاتی

Leave a reply