جبری برطرفیوں کا سلسلہ بند اور تنخواہیں بحال کی جائیں، صحافی سراپا احتجاج

0
42

کراچی: اخباری ملازمین کے زیر سماعت مقدمات کا جلد فیصلہ کیا جائے اور اخبارات سمیت الیکٹرانک میڈیا سے جبری برطرفیوں کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔ کراچی میں قائم آئی ٹی این ای کورٹ میں مستقل جج تعینات کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار جنگ گروپ سے وابستہ روزنامہ عوام، دی نیوز اور ڈیلی نیوز سے جبری برطرف کئے گئے کارکنوں کے احتجاجی کیمپ اور علامتی بھوک ہڑتال کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے تمام صحافتی تنظیموں کے نمائندوں، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عمائدین شہر نے کیا۔ احتجاجی کیمپ میں کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی،کراچی پریس کلب کے سابق صدر امتیاز خان فاران، احمد خان ملک، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر جاوید قریشی، کے یو جے کے صدر حسن عباس، جنرل سیکریٹری عاجز جمالی، کے یو جے دستور کے جنرل سیکریٹری محمد عارف خان، کے یو جے برنا کے جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی، پاکستان فلم ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر عبدالوسیع قریشی، ایڈیٹر روزنامہ عوام نشید اللہ خان آفاقی، تحریک جانثاران پاکستان کے بانی وچیئرمین پیر قیصر شفیع اللہ، کراچی ڈویژن کے صدر نثار اعوان، سنی تحریک کے مرکزی رہنما فہیم الدین شیخ، طیب قادری، بوہری کمیونٹی کے رہنما ذوہیب طاہر، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ناصر رضوان، پیرنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ندیم منور، جے یو پی کے نوید نورانی، سماجی رہنما سعید صابری اور سینکڑوں افراد نے اظہار یکجہتی کیا۔ مقررین نے کہا کہ اخباری کارکنوں کا اتحاد تھا، اتحاد ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اخباری ومیڈیا مالکان غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کرکے اخباری کارکنوں کے اتحاد کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ مقررین نے کہا کہ جب کارکنان مالکان کے لئے جدوجہد کرسکتے ہیں تو وہ اپنے حق کے حصول کے لئے کیسے پیچھے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے حقوق کے لئے ہر طرح ہر فورم پر ہر ہر اس جگہ احتجاج کریں گے جہاں سے ہمیں انصاف ملنے کی توقع ہوگی۔ مقررین نے کہا کہ حکومت فوری طور پر ڈمی اخبارات کی ڈکلیریشن منسوخ کرے اور روزانہ عوام کا ڈکلیریشن کارکنوں کے حوالے کیا جائے تاکہ کارکن نئے سرے سے اخبارات کا اجراء کرکے برطرف کارکنوں کو روزگار فراہم کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاجی سلسلہ صرف عوام، دی نیوز اور ڈیلی نیوز کے برطرف کارکنوں کی بحالی اور واجبات کی ادائیگی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ آئی ٹی این ای کی کورٹ کراچی میں مستقل جج کی تعیناتی تک جاری رہے گا۔ مقررین نے کہا کہ ایک بیروزگار کارکن کس طرح اسلام آباد جائے، اخراجات برداشت کریگا۔ مقررین نے کہا کہ دیگر وفاقی عدالتوں کی طرح کراچی میں آئی ٹی این ای کا مستقل جج تعینات کیا جائے۔ عوام، دی نیوز اور ڈیلی نیوز کے کے کارکنوں کی احتجاجی تحریک کے رہنمائوں نے کہا کہ جنگ گروپ اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے کے بجائے عدالت میں اپنا مؤقف اور گواہی پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے مطابق جنگ، دی نیوز اور ڈیلی نیوز کے کارکنوں کے 7 ویں ویج ایوارڈ کے تحت واجبات فوری ادا کئے جائیں اور عدالتی کارروائی سے راہ فرار اختیار نہ کی جائے۔ ان رہنمائوں نے کہا کہ 17 مارچ کو کراچی میں آئی ٹی این ای کی عدالت ان مقدمات کی سماعت کرے گی، اس وقت تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ پہلا احتجاج آئی ٹی این ای کورٹ کے سامنے ہوا۔ دوسرا آج کراچی پریس کلب پر، تیسرا احتجاج گورنر ہائوس کے سامنے ہوگا، چوتھا احتجاج سندھ اسمبلی بلڈنگ کے سامنے اور پانچواں احتجاج 17 مارچ سے قبل آئی آئی چندریگر روڈ پر جنگ بلڈنگ کے سامنے ہوگا اور بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگایا جائے گا۔ اس موقع پر اخباری کارکنان کے مسائل کے حل اور جبری برطرفیوں کی روک تھام کے لئے ازسر نو ایکشن کمیٹی قائم کرکے اخباری کارکنوں کی ملازمت کا تحفظ اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرانے کے لئے جلد عدالتی کارروائی کی جائے گی۔

Leave a reply