جیو اور جینے دو تحریر: سیدہ بخاری

0
67

وہ جب پیدا ہوا تو سارے خاندان میں خوشیاں منائی گئیں ،آخر کو دو بیٹیوں کے بعد دنیا میں آیا تھا خوشی تو بنتی ہی تھی۔
لاڈلا بیٹا ماں کی آنکھوں کا تارا اور بہنوں کا راج دلارا،
ابھی ساتویں دن سر کے بال بھی نہیں مونڈے گئے تھے کہ ماں نے لاڈلے کے سر پر سہرا سجانے کے خواب بننا شروع کر دئیے۔
ماں کا ایک ہی ارمان تھا کہ کب میرا لاڈلا اس قابل ہوگا کہ میں خوبصورت سی بہو لیکر آؤں گی،،،،
وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور وہ وقت قریب آ ہی گیا جس کا لاڈلے کی ماں اور بہنوں کو انتظار تھا،
جی ہاں! آپ ٹھیک سمجھے
سر پر سہرا سجانےکی گھڑی بالآخر آن پہنچی تھی۔
ماں اور بہنوں کو نازک سی گورے رنگت والی بہو خوب بھائی تھی کہ چٹ منگنی پٹ بیاہ والا معاملہ ہوا۔
وہ بھی آنکھوں میں ڈھیروں خواب سجائے اپنے پیا دیس سدھار گئی اور دل میں خود یہ یہ عہد کئے کہ اپنی سیرت اور اخلاق سے سب کو جلد ہی اپنا گرویدا کر لے گی لیکن ہائے،،،،
ہائے یہ قسمت بھی عجیب کھیل کھیلتی ہے،
سسرال ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر بعض اوقات اچھی شکل ،اچھا اخلاق، نیک سرت اور باکردار ہونا بھی آپکا بسنے میں ساتھ نہیں دیتا اور آپکی ہر ریاضت بے کار چلی جاتی ہے۔
اسکی چھوٹی چھوٹی بے ضرر سی نادانیاں اسکا عیب اور گناہ بنا دی گئی تھیں۔
اسکا ہنسنا، بولنا اور سب سے گھل مل جانے والی عادات اسکا گناہ بن گئی تھیں۔
لاڈلا تو اپنا بیٹا تھا نا اب اسکی نادانی کی سزا بھی بہو رانی بھگت رہی تھی کیونکہ دل اتنے تنگ تھے کہ یہ قبول ہی نہ کر پائے کہ لاڈلا پہلے بیٹا اور بھائی تھا تو اب ایک شوہر بھی بن چکا ہے۔
لاڈلا بیوی کے ساتھ بیٹھے تو بیوی بے حیا،،،
لاڈلا کبھی مسکرا کر بیوی کی طرف دیکھ لے تو "بہو کے لچھن ٹھیک نہیں بازاری کہیں کی مردوں کو رجھانا خوب جانتی یے”
لاڈلا بیوی کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھائے تو ” گھر میں جوان بہنیں ہیں ان کے دل پر کیا گزرے گی یہ دیکھ کر”
لاڈلا بیوی کو موٹر سائیکل پر ساتھ بٹھا لے تو "کیسے چپک کر میاں کے ساتھ بیٹھی ہے کیا اپنے باپ کیساتھ بھی ایسے بیٹھتی تھی”
ارے یہ تو جھلکیاں ہیں مکمل داستان آپ کیلئے سننا دشوار ہو جائے گی۔
بہو رانی ماں سے ایک چپ سو سکھ کا سبق سیکھ کر آئی تھی سو ایک لمبا عرصہ خاموشی سے یہ سب دیکھتی رہی اور یہ سوچتی رہی کہ محبت تو فاتح عالم ہے ،دلوں کو مسخر لیتی ہے اور ایک دن وہ بھی سب کے دلوں کو جیت لے گی لیکن وہ یہاں بھی غلط تھی،،،،بدکرداری، چوری، ماں باپ کی گندی تربیت کے الزاموں سے لیکر شوہر کا اولاد نہ دینا تک سہ لیا اور اسکا ساتھ دیتی رہی لیکن،،،،
لیکن دل نہیں جیت پائی اور پھر ایک دن تھک ہار کر لاڈلے کو اسکی ماں کی آغوش کو
میں سونپ کر پھر سے اپنے کچے پکے آشیانے میں واپس آگئی ،،،،
یہ جو ٹوٹے پھوٹے بے ترتیب الفاظ میں کہانی لکھی گئی ہے یہ کسی بہت اپنے کی حرف حرف حقیقت داستان ہے،،،،یہ کسی کی آٹھ سالہ ذندگی کے وہ بہترین سال تھے جو چھوٹے دلوں کی کم ظرفی کی نظر ہو گئے،،،یہ اس آٹھ سالہ کہانی کا صرف دس فیصد حصہ ہے ۔
یہ ہمارے پاکستانی معاشرے کے ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے جہاں بڑے ارمانوں سے کسی کی بیٹی کو لایا جاتا ہے اور پھر اسکو تھوڑ دلی، کم ظرفی اور شک و شبے کی ایسی آگ میں دھکیل دیا جاتا ہے جسکا اس نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو۔
خدارا 🙏
جب کسی کی بیٹی کو اپنے گھر کی عزت بنا کر لائیں تو اسکو عزت سمجھیں اور عزت دیں ، کوئی بھی انسان خامیوں سے پاک نہیں ہوتا اور اس رشتے کی یہی خوبصورتی ہے کہ فریقین اسکو ایکدوسرے کی خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کریں۔
جیسے اپنی بیٹی کو اسکی چھوٹی چھوٹی باتوں کیلئے معاف کردیتے ہیں ویسے ہی بہو کیلئے بھی دل بڑا کرنا سیکھیں۔
یہ ایک پہلو ہے جو میں نے سنا اور اسکو اپنے الفاظ میں لکھ دیا ،اور بہت سے واقعات اس سے الٹ بھی ہیں جہاں نئی نویلی دلہنیں گھروں کو توڑنے کا اور فتنہ و فساد کا سبب بن جاتی ہیں تو دونوں طرف ہی اصلاح کی شدید ضرورت ہے،،،
جو لڑکیاں بیاہ کر اگلے گھر جائیں وہ بھی شوہر کو اپنی ملکیت نہ بنائیں اور جو لوگ دوسروں کی بیٹیاں بیاہ کے لائیں وہ انکو اور کچھ نہ سہی تو انسان ضرور سمجھیں🙏
چونکہ ہمارے یہاں  پاکستان میں ذیادہ تر مڈل کلاس اور اس سے بھی نیچے کا طبقہ آباد ہے اور ایسے میں جوائینٹ فیملی سسٹم کا ہی رواج ہے تو دونوں طرف سے دل بڑا کر کے ایک دوسرے کو قبول کرنے کی ضرورت ہے، اعلی ظرفی سے گھر میں نئے اضافے کی صورت آئے فرد کو کھلے دل سے قبول کرنے کی ضرورت ہے،
سسرال والے نئی نویلی دلہن کو گھر میں جگہ بنانے کا موقع دیں اور بہو سب کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھے۔
اپنے خاندانی نظام کو پرسکون طریقے سے چلانے کیلئے جیو اور جینے دو کے فلسفے کو اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک دوسرے کی خواہشات کا احترام کر کے ہی ایک خوشحال گھرانہ تشکیل پا سکتا ہے کیونکہ ایک دوسرے کی عزت کے ساتھ جذبات کا احترام اور احساسات کا خیال کر کے ہی بہتر زندگی گزاری جاسکتی ہے۔

Leave a reply