جسٹس نورمسکانزئی قتل کیس؛گرفتارملزم کا ایران میں تربیت لینےکاانکشاف

0
79

کوئٹہ:بلوچستان ہائی کورٹ کےسابق چیف جسٹس محمد نورمسکانزئی کےقتل میں ملوث گرفتار ملزم نے بھی ایرانی حدود میں تربیت لینے کا انکشاف کیا ہے، جسٹس نور مسکانزئی کو14 اکتوبر 2022 کو خاران میں مسلح افراد نے مسجد کے اندر عشاء کی نماز کے دوران بہیمانہ اور بزدلانہ طور پر گولیاں برسا کر قتل کردیا تھا۔

گرفتارملزم شفقت اللہ عرف دلاورعرف سجاد خاران ہی کا رہائشی ہے۔ بقول کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے یہ نوجوان نے 2020ء میں کالعدم بی ایل اے سے وابستہ ہوا اور کئی واقعات میں ملوث رہا۔ سی ٹی ڈی نے29 اکتوبرکوتفصیلات سے آگاہ کیا جس کا اہتمام آئی جی پولیس آفس میں کیا گیا تھا۔

یہاں گرفتارملزم کا اعترافی ویڈیو بھی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نمائندوں کو دکھایا گیا۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل اعتزاز احمد گورائیہ کے مطابق گرفتار شخص محمد نور مسکانزئی کے قتل کا مرکزی ملزم ہے۔ بلاشبہ جسٹس نور محمد مسکانزئی کے قتل کی شرمناک واردات کی ذمہ داری حربیار مری سے منسوب کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرلی تھی۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورائیہ کی سربراہی میں آٹھ ارکان پر مبنی اس جے آئی ٹی میں ڈی آئی جی رخشان ڈویژن، ایس ایس پی انویسٹی گیشن کوئٹہ، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) خاران، ملٹری انٹیلی جنس خاران، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی ) خاران، ایف سی انٹیلی جنس خاران کے نمائندے شامل ہیں۔

دوست مزاری 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پرمحکمہ اینٹی کرپشن کےحوالے

ڈی آئی جی اعتزاز گورائیہ نے بتایا ہے کہ گرفتار ملزم نے کالعدم بی ایل اے میں شامل ہونے کے بعد تربیت ایران کے علاقے“سراوان“ میں حاصل کی تھی۔ یہ ملزم 2021ء میں ایف سی چیک پوسٹ خاران پر گرنیڈ لانچر حملے، خاران کے چیف چوک پر موٹر سائیکل بم دھماکے میں بھی ملوث تھا۔

جسٹس (ر) محمد نور مسکانزئی کے بھائی کے بلاک بنانے والی فیکٹری میں کام کرنے والے دو مزدوروں کو بھی فائرنگ کرکے زخمی کردیا تھا۔ خاران میں حساس ادارے کے دفتر پر گرنیڈ لانچر حملہ کرچکا ہے۔ یہاں تک کہ کوئٹہ میں بھی وارداتیں کی ہیں۔ 2022ءمیں کوئٹہ کے چمن پھاٹک پر دستی بم حملے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

کرم این اے 45:ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف نے میدان مارلیا

گورائیہ کہتے ہیں کہ ہرایک شخص کو مسنگ پرسن نہیں کہہ سکتے ۔وفاقی حکومت، پولیس، محکمہ داخلہ بلوچستان کا باقاعدہ طریقہ ہے جس کے تحت کسی شخص کو لاپتہ قرار دیا جاتا ہے ۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے باقاعدہ فورم موجود ہے۔

Leave a reply