معروف فلمی شاعر کیفی اعظمی کی 18 ویں برسی

0
19

برصغیر کےمشہور اردو شاعر کیفی اعظمی کی 18 ویں برسی آج منائی جارہی ہے وہ 10 مئی 2002 کو 83 سال کی عمر میں وفات پاگئے تھے۔ کیفی اعظمی جن کا اصل نام اختر حسین رضوی تھا اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں 14 جنوری 1919 کو پیدا ہوئے اور پہلی نظم 11 سال کی عمر میں تحریر کی۔1940 کے اوائل میں کیفی اعظمی بمبئی آ گئے اور صحافت کے شعبے سے منسلک ہوگئے اور یہیں ان کی شعری کا پہلا مجموعہ “جھنکار”شائع ہوا۔مختلف صلاحیتوں کے مالک کیفی اعظمی نے لاتعداد فلموں کے لئے نغمے لکھے، 1951 میں انہوں نے پہلی بار فلم بزدل کے لئے ایک گانا لکھا جس کے بول تھے، روتے روتے گزر گئی رات رے، فلم کاغذ کے پھول میں ان کے گانے“وقت نے کیا کیا حسیں ستم”کو بہت سراہا گیا۔ اس کے بعد پاکیزہ فلم کا گانا“چلتے چلتے کہیں کوئی مل گیا تھا”، ہیر رانجھا کا ”یہ دنیا یہ محفل“ اور ارتھ کے گیت“تم اتنا جو مسکرا رہے ہو”بے حد مقبول ہوئے۔ ان کی غزلوں اور نظموں کی مقبولیت کی اصل وجہ ان میں جذبات کا بے پناہ اظہار، الفاظ کی خوبصورتی اور غیر منصفانہ معاشرے کے خلاف بغاوت کا عنصر تھا۔اردو شاعری کے فروغ کے لئے انتھک کام کرنے پر انہیں ساہتیا اکیڈمی فیلوشپ انعام سے نوازا گیا۔واضح رہے کہ کیفی اعظمی معروف بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی کے والد اور شاعر جاوید اختر کے سسر تھے۔

Leave a reply