fbpx

کل کے بجٹ پر صرف ملک دشمن اپوزیشن والے ماتم منا رہے ہیں

‏اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے سندھ اسمبلی میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیا ان کے ہمراہ پارلیمانی لیڈر بلال غفا ،رکن سندھ اسمبلی دعابھٹو،شاہنوازجدون،کیو محمد حاکم و ودیگر رہنما بھی پریس کانفرنس میں شریک تھے۔

‏حلیم عادل شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم نے قوم سے جو تبدیلی کے وعدے کئے تھے وہ کل کے بجیٹ میں پورے ہوئے ہیں.گزشتہ ادوار میں ملک کے ساتھ بڑی لوٹ مار کی گئی تھی.

2019 میں کرونا آگیا پوری دنیا کی معیشیت تباہ ہوگئی.‏اس کے باوجود پچھلے سال اور اس سال معیشیت مستحقکم ہوئی ہے.کرونا کے باوجود عوام دوست بجیٹ پیش کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان بجیٹ پیش ہونے پر بہت خوش تھے کیوں کہ وہ بجیٹ میں عوام کو خوشیوں کا پیغام دینے آئے تھے.‏بجیٹ پر پوری قوم اور ہم سب خوش ہوگئے ہیں شکریہ کپتان.

صرف ملک دشمن اپوزیشن والے ماتم منا رہے ہیں اس بجیٹ میں مزدور،کسان، غریب، ایکسپورٹر، تاجروں کو مکمل سھولیات فراہم کی گئی ہیں. مزدور کی اجرت 20000 ہوگی۔

‎‏حلیم عادل شیخ نے کہا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مارچ میں 25 فیصد اضافہ ہوا تھا آج بجیٹ میں بھی 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے.

موجودہ بجیٹ میں40 فیصد ترقیاتی فنڈ میں اضافہ کیا ہے .10 فیصد تنخواہوں پنشن میں اضافہ کیا گیا ہے.‏بئنکوں سے رقم نکلوانے پر ٹیکس ختم کر دیا ہے.الیکٹرانک گاڑیوں پر ٹیکس کم کر کے1 فیصد کردیا.

کسٹم ڈیوٹی 11فیصد سے 3 فیصد کر دی، 800 سی سی گاڑیوں پر ڈیوٹی ختم ،چھوٹی گاڑیوں میں تین لاکھ تک کمی کی گئی۔

‎‏بجیٹ میں احساس پروگرام کے لئے 260 ارب روپے مختص کیے گئے۔

مستحق گھرانے کو 5 لاکھ بلاسود قرضہ ملےگا، کسان کو 2 لاکھ روپے قرضہ ملے گا۔20 لاکھ تک گھر کے لئے بغیر سود قرضے،بجلی، گئس، کھانے پینے، کی اشیاء میں سبسیڈی دی گئی ہے جو خوش آئند ہے۔

‎‏964 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں،کراچی ٹرانسمشن پلان 739 ارب کا اعلان کیا گیا ہے،سندھ کے باقی 14 اضلاع کےلئے444ارب مختص۔

107 سندھ کے منصوبے مکمل ہونگے،سندھ میں بجلی، تعلیم،زراعت،اسپورٹس پر توجہ دی جائےگی۔‏این ایف سے ایوارڈ کے تحت سندھ کو 848 ارب روپے دیئے جائیں گے۔

مختلف شعبوں کے لیے سبسڈی کی مد میں 682 ارب روپے مختص۔جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 226 فیصد زیادہ ہے سندھ منصوبوں کے لئے۔

پانچ ہزار ملین روپے ہم نے ڈیم کے لئے رکھے ہیں کے فور کے لئے 15 ارب رکھے گئے ہیں۔‏گرین لائن رپیڈ کے لئے دوبہزار نوسو 89 ملین رکھے گئے، ڈرینج سسٹم کے لئے سو ملین۔

دھابے جی کےلئے 8 سو ملین، 6 ہزار 29 ملین آن گوئنگ منصوبوں کے لئے،نئے منصوبوں کے لئے 3ہزار 2سو 4 ملین رکھے گئے ہیں۔

‎‏حلیم عادل شیخ نے کہا سندھ کے حکمرانوں کی تیرا سالہ کارکردگی صفر ہے۔اللہ پاک کی مدد ہوئی ہے،جی ڈی پی گروتھ آگے چلی گئی۔

بیس ارب ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ خسارا تھا،آج آٹھ سوارب ڈالر پلس ہیں کسٹم ڈیوٹی کم کردی گئی ہے،ٹریکٹرزکی خریداری پربلاسود قرضہ ملے گا۔

‎‏ہرگھرانے کوہنری تعلیم دی جائے گی،کویت کاویزہ کھل گیا ہے،تعلیمی نظام کوٹھیک کریں گے۔موبال فون کی تین منٹ کی کال پرکوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔

وفاقی بجیٹ میں عوام کو مکمل رلیف دیا گیا ہے حلیم عادل شیخ نے مزید کہا ویکسین ہماری ایکسپوسینٹر ہمارا ڈاکٹرز اور نرسز سندھ حکومت کی ہیں۔

یہ وہاں جاکر تصویریں کھچوا رہے ہیں ۔2008سے 2013تک پیپلزپارٹی کی حکومت تھی پھر ان کے چاچو کی حکومت تھی۔انہوں نے مردم شماری ٹھیک کیوں نہیں کروائی؟؟

‎‏پیپلزپارٹی والے 13 سالوں میں سندھ کا بجیٹ کھا گئے ہیں،سندھ کے اسکول اسپتالیں تباہ ہیں، عوام کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں