کم عمر بچیوں کی شادی نہ کروانے پر کاشانہ کی سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟

0
84

کم عمر بچیوں کی شادی نہ کروانے پر کاشانہ کی سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں یتیم کمسن بچیوں کی شادی نہ کروانے کے جرم میں کاشانہ کی سپرینڈنٹ افشاں لطیف کو گرفتار کر لیا گیا، گرفتاری کے وقت افشاں لطیف نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجھے شوہر سمیت گرفتار کیا جا رہا ہے۔مجھے نہیں معلوم اب مجھے کہا لے کر جایا جائے گا اب یہ بچیاں آپ سب کی ذمہ داری ہیں۔

یتیم بچیوں کیلئے قائم کیے گئےسرکاری ادارے سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے اپنی برطرفی کی وجہ بیان کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کاشانہ میں کم عمر بچیوں کی شادیاں نہ کروانا میرا جرم بن گیا ۔ ڈائریکٹر جنرل افشاں کرن امیتاز کی جانب سےان بچیوں کی شادیاں کروانے کیلئے دبائو ڈالا جاتا ہے ، جن کی عمر 16سے 18سال کی لڑکیاں شامل ہیں ۔ کمر عمر بچیوں کی شادی کا مقصد کچھ اعلیٰ حکام اور صوبائی وزیر کو خوش کرنا تھا ۔ میری اس شکایت پر سی ایم آئی ٹی نے 5 اگست کو اپنی انکوائری کا آغاز کیاجس کے آغاز میں مجھے معطل کر دیا گیا ۔ وزیراعلی پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیا اور ڈی جی افشاں کرن امتیاز کو عہدے سے ہٹا دیا ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ مجھ پر دبائو ڈالا گیا کہ اپنی شکایت واپس لوں لیکن میں اپنےموقف پر ڈٹی رہی اور ادارے کو بند کر دیا گیا ۔

گرفتار ہونے والی کاشانہ کی سپرینڈنٹ افشاں لطیف کا ویڈیو میں مزید کہنا تھا کہ دوران انکوائری سی ایم آئی ٹی نے ہتک آمیز رویہ اختیار کیا اور معاملے کو دبانے کیلئے پریشرائز کیا گیا۔ سی ایم آئی ٹی کی جانب سے مجھ پر دباؤ ڈالا جانے لگا کہ اپنی شکایت واپس لوں ۔ ایسا نہ کرنے کے باعث ادارہ کا بجٹ بند کر دیا گیا، کاشانہ میں زیرپرورش بچیوں کو کھانے پینے، کپڑوں اور تعلیمی سہولیات سے محروم کر دیا گیا۔ میرے ایسا نہ کرنے پر ادارے کا بجٹ بھی بند کر دیا گیا۔اور ساتھ ہی پورا عملہ بھی تبدیل کر دیا۔بچیوں کو کھانے پینے اور دیگر سہولیات سے محروم کر دیا گیا۔

افشاں لطیف کا مزید کہنا تھا کہ میں نے 25نومبر کو چئیرمین وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کو تحریری خط لکھا اور وارننگ دی کہ وہ کاشانہ میں جو بھی غیر قانونی کام کروانا چاہتے ہیں جو ان کے مفادات ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے ادارہ کا بجٹ بند کروایا ہوا ہے اور جن اعلیٰ حکام اور صوبائی وزیر کو نوازنے کیلئے ادارے میں بے جا مداخلت کر رہے ہیں لہٰذا اس غیر قانونی کام سے باز رہیں ایک صوبائی وزیر کو خوش کرنے کے لیے ادارے میں بے جا مداخلت کی جا رہی ہے۔میں نے اس خط کی کاپی دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو بھیجی۔اگلے روز ہی مجھے عہدے سے ہٹا یا گیا جس کا مقصد تھا کہ جن غلط کاموں میں رکاوٹ بن رہی ہوں وہ جاری رہیں۔

افشانں لطیف کا مزید کہنا تھا کہ ان اداروں میں بچیوں کو روٹی اور کپڑے کے نام پر استعمال کیا جاتا ہے۔اعلیٰ حکومت عہدیداروں کو خوش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ وزیروں کی من مانیاں بھی کی جاتی ہیں۔

کاشانہ ویلفیئر ہوم کی سپرنٹنڈنٹ مسزافشاں لطیف کا کہنا ہے کہ کاشانہ کی بیٹیوں کی تعلیمی قابلیت قابل قدر ہے۔ہم کاشانہ میں مقیم بیٹیوں کی بہترین دماغی صحت کیلئے انہیں متوازن خوراک کی فراہمی یقینی بنا تے ہیں۔تعلیم کے ساتھ ساتھ کاشانہ میں ان کی قابل رشک تربیت کیلئے ہم ابھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں اورنہ آئندہ کسی قسم کی کوئی کسر چھوڑیں گے۔کاشانہ کی بیٹیاں تعلیمی سرگرمیوں میں عام بچوں سے پیچھے نہیں بلکہ آگے ہیں۔ کاشانہ میں مقیم بیٹیوں کو معیاری تعلیم وتربیت کی فراہمی ہماری ترجیحات میں سرفہرست ہے۔کاشانہ کی بیٹیاں اعلیٰ درجے کے تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم ہیں ،ان کی ہرقسم کی تعلیمی ضروریات کاخیال رکھنا ہمارا فرض اورہم پرقرض ہے۔بیٹیوں کی تعلیمی اداروں سے واپسی اورطعام وآرام کے بعدہم ا ن کے ہوم ورک پر بھرپورفوکس کرتے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سوشل میڈیا پر کا شانہ کے بارے میں وائرل ہونے والی ویڈیوکے معاملہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے صوبائی سیکرٹری سوشل ویلفیئر سے رپورٹ طلب کر لی ہے-وزیراعلیٰ نے حکم دیاہے کہ معاملے کی ہر پہلو سے انکوائری کی جائے اور الزامات کی مکمل چھان بین کر کے حقائق منظر عام پر لائے جائیں -وزیراعلیٰ نے کہاکہ تحقیقات میں جو بھی قصوروار ہوا اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی- کاشانہ میں رہائش پذیر بچیو ں کومکمل تحفظ دیں گے اور میں بے آسرا بچیوں کے ساتھ ناروا سلوک کسی صورت برداشت نہیں کروں گا-

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی کاشانہ لاہور کا دورہ کرچکے ہیں،دورہ کے دوران سردارعثمان بزدار نے کاشانہ میں رہائش پذیر بے آسرا بچیوں کے ساتھ وقت گزارا اور بچیوں میں گھل مل گئے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ بچیوں کے ساتھ مل کر ڈرائنگ کی اور انہیں مٹھائی بھی کھلائی۔اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ دوسری بار یہاں آکر دلی خوشی ہوئی ہے، کاشانہ میں مقیم بچیاں میری بیٹیوں جیسی ہیں، بے آسرا بچیوں کا خیال رکھنا میری ذمہ داری ہے۔

Leave a reply